حکومت کسانوں کیلئے اگلے ہفتے پیکج کا اعلان کرے گی، مراد علی شاہ

کراچی: سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومت کسانوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگلے ہفتے ایک خصوصی پیکج کا اعلان کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات اور موسمیاتی چیلنجز نے کاشتکاروں کو شدید متاثر کیا ہے، اور ان حالات میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ زرعی شعبے کی بحالی اور کسانوں کی فلاح کے لیے فوری اقدامات کرے۔

Advertisement

کسانوں کو درپیش مسائل

پاکستان میں بالخصوص سندھ اور جنوبی پنجاب کے کاشتکار حالیہ برسوں میں متعدد بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک جانب مہنگی کھاد اور ڈیزل کی قیمتوں نے ان کے پیداواری اخراجات میں اضافہ کیا ہے، تو دوسری طرف پانی کی کمی اور غیر متوقع بارشوں نے فصلوں کی پیداوار پر برا اثر ڈالا ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق کپاس، گندم اور چاول جیسی اہم اجناس کی پیداوار میں کمی واقع ہونے سے نہ صرف کسان مالی طور پر مشکلات کا شکار ہیں بلکہ ملکی معیشت پر بھی بوجھ بڑھ گیا ہے۔

حکومت کی ذمہ داری

وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت زراعت کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھتی ہے، اس لیے کسانوں کو سہولتیں فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے بقول زرعی اجناس نہ صرف ملکی خوراک کی ضروریات پوری کرتی ہیں بلکہ برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ اگر کسان خوشحال ہوں گے تو ملک کی معیشت بھی مستحکم ہوگی۔

Advertisement

Also read :پنجاب میں 200 سے زائد گوداموں سے ذخیرہ کی گئی گندم قبضے میں لے لی گئی

متوقع پیکج کی خصوصیات

اگرچہ حکومت نے پیکج کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم ذرائع کے مطابق اس میں درج ذیل نکات شامل ہو سکتے ہیں:

  • کھاد اور بیج پر سبسڈی
  • زرعی قرضوں کی فراہمی میں آسانیاں
  • کسانوں کے لیے جدید مشینری کی دستیابی
  • بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے خصوصی ریلیف فنڈ
  • زرعی تحقیق اور تربیت کے پروگرام

یہ پیکج کسانوں کو فوری ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ طویل مدتی منصوبہ بندی کا حصہ ہوگا تاکہ مستقبل میں زرعی شعبے کو پائیدار بنیادوں پر کھڑا کیا جا سکے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ پیکج شفافیت کے ساتھ کسانوں تک پہنچایا گیا تو اس کے مثبت نتائج نکلیں گے۔ زرعی ماہر ڈاکٹر ایاز سومرو کے مطابق: “کسانوں کو صرف مالی امداد دینے سے کام نہیں چلے گا بلکہ انہیں جدید ٹیکنالوجی اور بہتر مارکیٹ تک رسائی بھی فراہم کرنا ہوگی۔” انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کی اجناس کے لیے مناسب نرخ مقرر کرے تاکہ بیوپاری اور درمیانی افراد کا استحصال کم ہو۔

کسانوں کی توقعات

دوسری جانب کسان برادری حکومت کے اعلان کو امید کی کرن سمجھ رہی ہے۔ ٹھٹھہ کے ایک کسان غلام رسول کا کہنا تھا: “ہمیں برسوں سے وعدے تو بہت ملے مگر عملی اقدامات کم دیکھنے کو ملے۔ اگر یہ پیکج واقعی ہمارے مسائل حل کرے تو ہم دوبارہ بھرپور محنت سے کھیتوں میں لگ جائیں گے۔”

قومی معیشت پر اثرات

زرعی شعبہ ملک کی معاشی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ گندم اور چاول کی پیداوار میں کمی سے نہ صرف درآمدات بڑھتی ہیں بلکہ قیمتی زرمبادلہ بھی ضائع ہوتا ہے۔ اگر کسانوں کو سہولیات فراہم کی جائیں اور پیداوار میں اضافہ ہو تو ملک خود کفالت کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ اس پیکج کے اعلان کے بعد امید ہے کہ زرعی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور کسانوں کو ایک نئی زندگی ملے گی۔

نتیجہ

وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کا کسانوں کے لیے پیکج کا اعلان ایک خوش آئند قدم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پیکج کے عملی نفاذ میں حکومت کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ شفافیت، بروقت اقدامات اور کسانوں کے ساتھ قریبی رابطہ ہی اس منصوبے کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ اگر حکومت اپنے وعدوں پر عملدرآمد کرے تو یہ پیکج نہ صرف کسانوں کی زندگی میں خوشحالی لا سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی نئی توانائی فراہم کر سکتا ہے۔

Leave a Comment