سعودی عرب میں کام کرنے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے اچھی خبر آگئی

پاکستان میں روزگار کے بہتر مواقع کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے کے خواہشمند افراد کیلئے ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سعودی عرب میں کام کرنے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے اسکل ویریفکیشن کے حوالے سے ایک نیا اور مؤثر نظام متعارف کروانے پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باضابطہ معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے “تکامول اسکل ویریفکیشن پروگرام” (SVP) کا نام دیا گیا ہے۔

Advertisement

یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان افرادی قوت کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سعودی عرب جانے والے پاکستانی ورکرز کی مہارتوں، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تکنیکی قابلیت کی تصدیق پہلے ہی پاکستان میں کر لی جائے، تاکہ انہیں وہاں روزگار کے بہتر اور محفوظ مواقع میسر آ سکیں۔

اسکل ویریفکیشن پروگرام کے تحت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہنر مند افراد کو شامل کیا جائے گا، جن میں تعمیرات، مکینیکل، الیکٹریکل، آئی ٹی، صحت، ہوٹلنگ، ڈرائیونگ، اور دیگر فنی و نیم فنی شعبے شامل ہیں۔ اس نظام کے ذریعے ہر ورکر کی مہارت کو باقاعدہ ٹیسٹ، تشخیص اور تصدیق کے عمل سے گزارا جائے گا، جس کے بعد اسے ایک تسلیم شدہ سرٹیفیکیٹ فراہم کیا جائے گا۔

Advertisement

حکام کے مطابق اس پروگرام سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ سعودی عرب میں پاکستانی ورکرز کو ملازمت کے دوران غیر ضروری مسائل، جعلی تقرریوں اور مہارت سے متعلق اعتراضات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ آجر اور ملازم دونوں کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوگا، کیونکہ آجر کو پہلے سے معلوم ہوگا کہ جس فرد کو رکھا جا رہا ہے وہ مطلوبہ کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تکامول اسکل ویریفکیشن پروگرام کا ایک اور اہم فائدہ یہ ہے کہ اس سے پاکستانی افرادی قوت کا عالمی معیار بہتر ہوگا۔ جب پاکستانی ورکرز بین الاقوامی معیار کے مطابق اسکل سرٹیفیکیشن حاصل کریں گے تو نہ صرف سعودی عرب بلکہ دیگر خلیجی اور بین الاقوامی ممالک میں بھی ان کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔ اس سے ملک کو قیمتی زرِ مبادلہ حاصل ہوگا اور بے روزگاری میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

Also read:مسلم لیگ (ن) کو ایک مرتبہ پھر شدید سیاسی دھچکا، پیپلز پارٹی کو بڑی کامیابی حاصل

ذرائع کے مطابق اس پروگرام کے نفاذ سے سعودی عرب میں غیر تربیت یافتہ یا کم مہارت رکھنے والے افراد کی حوصلہ شکنی ہوگی، جبکہ ہنر مند پاکستانیوں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس عمل سے سعودی لیبر مارکیٹ میں پاکستانی ورکرز کی ساکھ مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے، جو ماضی میں بھی اپنی محنت اور دیانتداری کے باعث جانی جاتی رہی ہے۔

حکومتی سطح پر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسکل ویریفکیشن کا عمل شفاف، ڈیجیٹل اور مرحلہ وار ہوگا۔ امیدواروں کو پہلے رجسٹریشن کرنی ہوگی، اس کے بعد ان کی مہارت کا ٹیسٹ لیا جائے گا، اور کامیابی کی صورت میں انہیں منظور شدہ سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے گا۔ اس پورے عمل میں جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی معیار کو مدِنظر رکھا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کیلئے ایک اسٹریٹجک کامیابی ہے، کیونکہ سعودی عرب پاکستانی ورکرز کیلئے ایک بڑی لیبر مارکیٹ ہے۔ ہر سال ہزاروں پاکستانی روزگار کیلئے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں، اور اس نئے نظام سے ان کے روزگار کے امکانات مزید روشن ہو جائیں گے۔

عوامی حلقوں میں بھی اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ بیرونِ ملک جانے کے خواہشمند افراد کا کہنا ہے کہ اگر مہارت کی بنیاد پر تقرری کو فروغ دیا جائے تو محنت کشوں کا استحصال کم ہوگا اور انہیں اپنی قابلیت کے مطابق معاوضہ مل سکے گا۔

مجموعی طور پر “تکامول اسکل ویریفکیشن پروگرام” پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان لیبر تعاون میں ایک نیا باب ثابت ہو سکتا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف پاکستانی ورکرز کو فائدہ ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور افرادی قوت کے تعلقات بھی مزید مستحکم ہوں گے۔


ڈسکلیمر:
یہ ملازمت اور روزگار سے متعلق معلومات تعلیمی اور معلوماتی مقصد کیلئے فراہم کی گئی ہیں۔ بیرونِ ملک کام کیلئے درخواست دینے یا کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنے سے قبل متعلقہ سرکاری اداروں، سعودی حکام یا منظور شدہ بھرتی مراکز کی ویب سائٹس سے تفصیلات کی تصدیق ضرور کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top