مسلم لیگ (ن) کو ایک مرتبہ پھر شدید سیاسی دھچکا، پیپلز پارٹی کو بڑی کامیابی حاصل

نکیال: آزاد کشمیر کے سیاسی منظرنامے میں ایک بار پھر بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے جہاں مسلم لیگ (ن) کو شدید سیاسی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک اور نمایاں سیاسی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ پیش رفت جاوید اقبال بڈھانوی کی متحرک، مدبر اور عوام دوست قیادت کے باعث ممکن ہوئی جسے سیاسی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

Advertisement

ذرائع کے مطابق جاوید اقبال بڈھانوی کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے نکیال اور گردونواح میں اپنی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط کر لی ہے۔ ان کی قیادت میں پارٹی نہ صرف عوامی مسائل کو اجاگر کر رہی ہے بلکہ مقامی سطح پر تنظیمی ڈھانچے کو بھی فعال بنایا گیا ہے، جس کا براہِ راست اثر عوامی حمایت میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جاوید اقبال بڈھانوی نے علاقے میں عوامی رابطہ مہم کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا، جس کے نتیجے میں مختلف طبقات نے پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کی سیاست کا محور عوامی خدمت، ترقیاتی کام اور شفاف طرزِ حکمرانی رہا ہے، جس نے ووٹرز کو متاثر کیا۔

Advertisement

اس سیاسی پیش رفت میں لنجوٹ سے تعلق رکھنے والے معروف سماجی و کاروباری شخصیت ٹھیکیدار سردار شاہپال کا کردار بھی خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ٹھیکیدار سردار شاہپال نے پیپلز پارٹی کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے ساتھ عملی طور پر کھڑے ہونے کا اعلان کیا، جسے مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹھیکیدار سردار شاہپال علاقے میں ایک بااثر سماجی شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور ان کا سیاسی جھکاؤ تبدیل ہونا مقامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی حمایت حاصل ہونے سے پیپلز پارٹی کی پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کو تنظیمی اور عوامی سطح پر نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

Also read:جنید صفدر کی شادی کی تقریبات کی تصاویر سامنے آ گئیں

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنماؤں کے لیے یہ صورتحال تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ پارٹی کو پہلے ہی مختلف اندرونی اختلافات اور عوامی رابطے کی کمی کا سامنا تھا، اور حالیہ پیش رفت نے ان مسائل کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) زمینی حقائق سے کٹتی جا رہی ہے۔

علاقے کے عوام کا کہنا ہے کہ وہ ان جماعتوں کی حمایت کرتے ہیں جو عملی طور پر ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔ سڑکوں، صحت، تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی مسائل پر توجہ نہ دینے والی جماعتوں کے لیے اب میدان تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو حالیہ دنوں میں مسلسل سیاسی فائدہ ہو رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے کارکنان نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا ہے۔ کارکنان کے مطابق جاوید اقبال بڈھانوی کی قیادت میں پارٹی نے جس طرح عوام کے درمیان رہ کر سیاست کی، اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں آزاد کشمیر کی سیاست میں مزید بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور مسلم لیگ (ن) کی کمزور ہوتی گرفت مستقبل کے سیاسی منظرنامے کو نئی سمت دے سکتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ نکیال اور ملحقہ علاقوں میں ہونے والی حالیہ سیاسی پیش رفت نے آزاد کشمیر کی سیاست کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں عوامی خدمت، متحرک قیادت اور مضبوط تنظیمی ڈھانچہ ہی کامیابی کی کنجی بنتا جا رہا ہے۔


ڈسکلیمر

ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب معلومات اور رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی سیاسی پیش رفت یا فیصلے سے متعلق تازہ ترین اور مصدقہ معلومات کے لیے سرکاری بیانات اور مستند نیوز ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top