اسلام آباد:
وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے ہولناک خودکش دھماکے کی تحقیقات میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے مسجد و امام بارگاہ قصرِ خدیجۃ الکبریٰ پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار کی شناخت کر لی ہے۔ اس انکشاف نے سرحد پار مداخلت کو بے نقاب کرتے ہوئے خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
خودکش بمبار کی شناخت، دہشت گردی کی تربیت کی تصدیق
سرکاری ذرائع کے مطابق ترلائی میں ہونے والے خودکش حملے میں ملوث حملہ آور ایک کالعدم عسکری تنظیم سے وابستہ تھا اور اس نے افغانستان میں باقاعدہ دہشت گردی کی تربیت حاصل کی تھی۔ تفتیش کاروں کے مطابق بمبار متعدد مرتبہ سرحد پار کر چکا تھا، جہاں اسے بارودی مواد کے استعمال اور خودکش حملوں کی عملی تربیت دی گئی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بمبار کے افغان روابط حتمی طور پر ثابت ہو چکے ہیں اور یہ حملہ پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی منظم سازش کا حصہ تھا۔
افغانستان–بھارت مبینہ گٹھ جوڑ
پاکستان کے اعلیٰ حکام نے ایک بار پھر اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہ طالبان حکومت کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔
- سنگین خطرہ: پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
- بھارت کا کردار: سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کے پیچھے افغانستان میں موجود نیٹ ورکس اور بھارت کے درمیان ٹھوس روابط کے شواہد موجود ہیں۔
- قومی عزم: پاکستانی قوم اور سیکیورٹی فورسز ان مذموم عزائم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہیں۔
ترلائی دھماکہ: نمازِ جمعہ کے دوران کیا ہوا؟
6 فروری 2026 کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نمازِ جمعہ کے دوران ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
واقعے کی ٹائم لائن:
- داخلے کی کوشش: خودکش بمبار نے امام بارگاہ قصرِ خدیجۃ الکبریٰ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
- مزاحمت: سیکیورٹی اہلکاروں اور رضاکاروں نے اسے روکنے کی کوشش کی، جس پر حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
- فائرنگ: عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے قبل فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور مسلح تھا۔
- جانی نقصان: اس بزدلانہ حملے میں 31 افراد شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔
ہنگامی ردعمل اور طبی امداد
دھماکے کے فوری بعد پاک فوج، پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر پمز (PIMS) اور پولی کلینک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وفاقی وزارتِ صحت کی جانب سے ہائی الرٹ اور ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
ایڈیٹر کا نوٹ: زخمیوں کی جان بچانے کے لیے خون کے عطیات کی فوری اپیل بھی جاری کی گئی ہے۔
عوامی ردعمل اور سیکیورٹی خدشات
اس حملے کے بعد سوشل میڈیا پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اسلام آباد جیسے ہائی سیکیورٹی شہر میں ایسا واقعہ کیسے پیش آ سکتا ہے، اور اسے انٹیلیجنس کی واضح ناکامی قرار دیا۔ تاہم، بمبار کی شناخت کے بعد حکام کو امید ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورک کے باقی کارندوں کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
اسلام آباد خودکش حملے میں کتنے افراد شہید ہوئے؟
دستیاب معلومات کے مطابق 31 افراد شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
کیا خودکش بمبار کا تعلق پاکستان سے تھا؟
تحقیقات کے مطابق بمبار نے افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی اور اس کا نیٹ ورک سرحد پار سرگرم ہے۔
زخمیوں کو کن اسپتالوں میں منتقل کیا گیا؟
تمام زخمیوں کو پمز اسپتال اور پولی کلینک اسلام آباد میں علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
نتیجہ اور کال ٹو ایکشن
دہشت گردی کا خاتمہ صرف طاقت سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے قومی اتحاد، مضبوط عزم اور مستقل حکمتِ عملی درکار ہے۔ ہم شہداء کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
آپ کے خیال میں سرحد پار دہشت گردی کو روکنے کے لیے حکومت کو کون سے فوری اقدامات کرنے چاہئیں؟
نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
ڈسکلیمر:
یہاں پیش کردہ معلومات دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع پر مبنی ہیں۔ قارئین کو چاہیے کہ وہ سرکاری ذرائع سے تازہ ترین معلومات کی تصدیق خود کریں۔