ملک بھر میں آٹا مزید مہنگا، عوام پریشان: نئے ریٹ جاری

پاکستان میں مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے زندگی مزید مشکل بنا رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں ایک اور اضافہ کردیا گیا ہے جس کے بعد یہ بنیادی ضرورت کی چیز عام شہری کی پہنچ سے مزید دور ہوتی جارہی ہے۔

Advertisement

آٹے کی قیمتوں میں نیا اضافہ

مارکیٹ ذرائع اور مختلف شہروں کی رپورٹس کے مطابق آٹے کی فی کلو اور فی تھیلا قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

  • 20 کلو آٹے کا تھیلا کئی شہروں میں 300 سے 400 روپے تک مہنگا ہوگیا ہے۔
  • پنجاب کے مختلف شہروں میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2700 روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔
  • کراچی اور اندرونِ سندھ میں آٹے کے نرخ مزید بلند ہیں، جہاں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2800 سے 2900 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔
  • خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے شہروں میں بھی آٹے کی قیمتیں اسی طرح بڑھ گئی ہیں اور عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ اضافہ براہِ راست عام آدمی کے بجٹ کو متاثر کر رہا ہے۔

Advertisement

آٹے کی مہنگائی کی وجوہات

ماہرین کے مطابق آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی کئی بڑی وجوہات ہیں:

  1. گندم کی قلت: مقامی سطح پر گندم کی پیداوار توقعات کے مطابق نہیں رہی، جس سے طلب اور رسد میں فرق پیدا ہوا۔
  2. اسمگلنگ: گندم اور آٹے کی افغانستان سمیت دیگر سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ کی اطلاعات ہیں، جس سے مقامی مارکیٹ میں قلت پیدا ہوتی ہے۔
  3. حکومتی پالیسیز: گندم کی درآمد اور سبسڈی کے حوالے سے حکومتی پالیسی میں ابہام اور تاخیر نے بھی عوامی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
  4. ڈالر کی قیمت میں اضافہ: درآمد شدہ گندم کے اخراجات میں ڈالر کی بلند قیمت نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔
  5. فلور ملز ایسوسی ایشن کا دباؤ: فلور ملز کے مالکان آئے روز قیمتوں میں اضافے کا جواز پیش کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈالتے ہیں۔

عوامی ردعمل

عوام نے آٹے کی بڑھتی قیمتوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

  • متوسط اور غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے، جن کے گھریلو بجٹ پر براہِ راست دباؤ بڑھ گیا ہے۔
  • بہت سے خاندان اب آٹا خریدنے کے بجائے روزانہ کے حساب سے روٹیاں خریدنے پر مجبور ہیں، جو کہ مزید مہنگا پڑتا ہے۔
  • سوشل میڈیا پر بھی عوامی غصہ عروج پر ہے جہاں شہری حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ایک شہری کا کہنا تھا:
“آٹا، جو ہماری روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، اگر یہی مہنگا ہوگا تو ہم کھائیں گے کیا؟”

ماہرین کی رائے

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • حکومت کو چاہیے کہ گندم کی اسمگلنگ پر کڑی نظر رکھے۔
  • مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے کاشتکاروں کو سہولتیں دی جائیں۔
  • ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
  • گندم کی درآمد میں شفافیت اور بروقت اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو آٹا مزید مہنگا ہوگا اور ملک میں غذائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔

حکومت کی حکمت عملی

حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ گندم اور آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

  • پنجاب حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ 10 لاکھ ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں، تاہم ان کی منصفانہ تقسیم ایک چیلنج ہے۔
  • سندھ حکومت نے فلور ملز کو وارننگ دی ہے کہ مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
  • وفاقی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو مزید گندم درآمد کی جائے گی۔

لیکن عوامی سطح پر یہ یقین دہانی ابھی تک صرف بیانات تک محدود نظر آرہی ہے۔

Also read :دریائے راوی کے سیلابی پانی سے خطرناک سانپ نکل آیا

غریب طبقے پر اثرات

آٹے کی قیمت میں اضافہ سب سے زیادہ غریب طبقے کے لیے تباہ کن ہے۔

  • دہاڑی دار مزدور اب اپنے روزانہ کے اجرت میں آٹا خریدنے سے قاصر ہیں۔
  • نان بائی ایسوسی ایشن نے بھی روٹی اور نان کی قیمتیں بڑھانے کا عندیہ دیا ہے، جس سے صورتحال مزید خراب ہوگی۔
  • ایک عام خاندان جو پہلے 20 کلو آٹے کا تھیلا 2200 سے 2300 روپے میں خرید رہا تھا، اب 2700 سے 2800 روپے دینے پر مجبور ہے۔

ماضی کے حالات اور موجودہ صورتحال

ماضی میں حکومت سبسڈی اسکیموں کے ذریعے آٹا سستا فراہم کرتی رہی ہے۔ رمضان یا عید کے مواقع پر خصوصی ریلیف پیکجز بھی دیے جاتے تھے۔ لیکن موجودہ وقت میں نہ صرف سبسڈی میں کمی آگئی ہے بلکہ مارکیٹ میں کنٹرول کا فقدان بھی واضح ہے۔

مستقبل کے خدشات

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو آنے والے مہینوں میں آٹے کی قیمت 3000 روپے فی 20 کلو تھیلا سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ اس سے غربت اور بھوک میں اضافہ ہوگا اور غذائی عدم تحفظ بڑھ جائے گا۔

نتیجہ

ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اور اب آٹے کی مہنگائی نے انہیں مزید مشکلات میں دھکیل دیا ہے۔

یہ وقت ہے کہ حکومت عملی اقدامات کرے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے، ورنہ آٹا مہنگا ہونے سے صرف گھریلو بجٹ ہی نہیں بلکہ ملکی معاشی اور سماجی ڈھانچے پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔پاکستان بھر میں آٹے کی قیمتیں 20 کلو تھیلا 2700 سے 2900 روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ عوام شدید پریشان ہیں جبکہ حکومت صرف وعدوں تک محدود دکھائی دیتی ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں مزید بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

Leave a Comment