لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اور عالمی شہرت یافتہ بلے باز بابر اعظم نے ایک مرتبہ پھر اپنے شاندار کیریئر میں ایک نیا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔ اگرچہ جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ایک روزہ میچ میں ان کی بیٹنگ کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی اور وہ صرف 27 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے، مگر اس کے باوجود انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے اپنے 15 ہزار رنز مکمل کرلیے۔
یہ اعزاز بابر اعظم کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے ان چند بلے بازوں کی فہرست میں شامل کرتا ہے جنہوں نے کم عرصے میں یہ کارنامہ انجام دیا۔ بابر نے یہ سنگ میل تمام فارمیٹس میں مجموعی کارکردگی کی بنیاد پر عبور کیا ہے، یعنی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کیے گئے رنز شامل ہیں۔
بابر اعظم کا بین الاقوامی سفر
بابر اعظم نے 2015 میں اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز کیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ پاکستان کے سب سے مستقل اور پراعتماد بلے بازوں میں شمار ہونے لگے۔ انہوں نے اپنی تکنیک، تحمل اور ذہانت سے دنیا بھر میں اپنی پہچان بنائی۔ بابر کی خاصیت یہ ہے کہ وہ لمبے اننگز کھیلنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور مشکل حالات میں بھی ٹیم کے لیے اینکر رول ادا کرتے ہیں۔
بابر اعظم کی ابتدائی کارکردگی نے جلد ہی ماہرین کرکٹ کو متوجہ کیا۔ انہیں ویرات کوہلی، جو روٹ اور کین ولیمسن جیسے عظیم بلے بازوں کے برابر شمار کیا جانے لگا۔ ان کا بیٹنگ اسٹائل کلاسک اور جدید دونوں خصوصیات کا امتزاج ہے، جس کی وجہ سے وہ ہر کنڈیشن میں کھیلنے کے اہل ہیں۔
جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ سیریز
جنوبی افریقہ کے خلاف جاری ایک روزہ سیریز میں بابر اعظم کی فارم میں کچھ اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ تیسرے میچ میں وہ 27 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، تاہم ان کی یہ اننگز پاکستان کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوئی کیونکہ اسی دوران انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں 15 ہزار رنز مکمل کیے۔ یہ سنگ میل بابر اعظم نے صرف 395 اننگز میں حاصل کیا، جو کہ ایک انتہائی متاثر کن ریکارڈ ہے۔
دنیا کے عظیم بلے بازوں میں شامل
بابر اعظم اب ان کھلاڑیوں کی صف میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے کم وقت میں 15 ہزار انٹرنیشنل رنز مکمل کیے۔ ان سے قبل سچن ٹنڈولکر، رکی پونٹنگ، ویرات کوہلی، جیک کیلس اور برائن لارا جیسے عظیم بلے باز اس فہرست میں موجود ہیں۔ بابر کا نام اب ان لیجنڈری کھلاڑیوں کے ساتھ لیا جا رہا ہے، جو پاکستان کرکٹ کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔
بابر اعظم کی قیادت اور اثر
بطور کپتان، بابر اعظم نے پاکستان کرکٹ ٹیم میں ایک نیا جوش اور عزم پیدا کیا ہے۔ ان کی قیادت میں ٹیم نے متعدد اہم فتوحات حاصل کیں، جن میں بھارت کے خلاف 2021 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں تاریخی جیت بھی شامل ہے۔ بابر نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ٹیم ورک، نظم و ضبط اور محنت کامیابی کی کلید ہیں۔
اگرچہ حالیہ میچوں میں ان کی بیٹنگ فارم میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے، مگر کرکٹ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ عارضی ہے اور بابر بہت جلد اپنی سابقہ فارم میں واپس آئیں گے۔ ان کی مستقل مزاجی اور جذبہ انہیں ایک غیر معمولی کھلاڑی بناتا ہے۔
Also read:نابینا نجومی بابا وانگا کی 2026 کیلئے اہم پیشگوئیاں
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر بابر اعظم کے مداحوں نے ان کی کامیابی پر بھرپور خوشی کا اظہار کیا ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر انہیں مبارکباد دینے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ شائقین کا کہنا ہے کہ بابر اعظم پاکستان کرکٹ کی شان ہیں اور ان کی کامیابیاں نئی نسل کے کھلاڑیوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
کرکٹ ماہرین کی رائے
ماہرین کرکٹ کے مطابق بابر اعظم کی یہ کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کے پاس اب ایک ایسا بلے باز موجود ہے جو ہر کنڈیشن میں شاندار پرفارمنس دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا کہ “بابر اعظم پاکستان کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔ ان کی مستقل مزاجی اور کارکردگی نے انہیں ایک عالمی برانڈ بنا دیا ہے۔”
رمیز راجہ نے بھی اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ “بابر اعظم کی 15 ہزار رنز کی تکمیل محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک کہانی ہے محنت، لگن اور صبر کی۔ وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال ہیں۔”
مستقبل کی توقعات
کرکٹ ماہرین کو یقین ہے کہ اگر بابر اعظم نے اپنی موجودہ رفتار برقرار رکھی تو وہ بہت جلد 20 ہزار انٹرنیشنل رنز کا ہدف بھی حاصل کرلیں گے۔ ان کی عمر اور فٹنس کو مدنظر رکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ ابھی اپنے کیریئر کے سنہری دور میں داخل ہو رہے ہیں۔
پاکستان کرکٹ کے لیے یہ لمحہ نہایت فخر کا باعث ہے۔ بابر اعظم نہ صرف اپنے رنز سے ٹیم کو مضبوط بنا رہے ہیں بلکہ اپنی قیادت اور مثبت رویے سے نئے کھلاڑیوں کے لیے ایک مثالی ماحول فراہم کر رہے ہیں۔
ڈسکلیمر: یہ خبر معتبر ذرائع اور دستیاب رپورٹس کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اور درست معلومات کے لیے سرکاری اور مستند نیوز ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔