راولپنڈی میں سود خوروں کا ظلم: شادی شدہ خاتون سے زیادتی، کروڑوں روپے ہتھیانے کے بعد زہر دے کر قتل

راولپنڈی میں ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس نے نہ صرف شہریوں بلکہ پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق راولپنڈی کے علاقے میں چند بااثر سود خوروں نے ایک شادی شدہ خاتون کو اپنے مکروہ عزائم کا نشانہ بنایا۔ ان لوگوں نے نہ صرف خاتون سے کروڑوں روپے ہتھیا لیے بلکہ اسے بار بار مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا اور آخر کار زہر دے کر اس کی جان لے لی۔

Advertisement

واقعے کی تفصیلات

پولیس ذرائع کے مطابق یہ المناک واقعہ گزشتہ دنوں منظر عام پر آیا جب خاتون کے اہلِ خانہ نے پولیس کو اطلاع دی کہ ان کی بیٹی کو زہر دیا گیا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ مقتولہ ایک باعزت شادی شدہ خاتون تھی جو کچھ عرصے سے مالی مشکلات کا شکار تھی۔ انہی مشکلات کے باعث اس نے کچھ مقامی سود خوروں سے رقم ادھار لی تھی۔ تاہم، جب وہ رقم واپس نہ کر سکی تو ان افراد نے اس کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔

ذرائع کے مطابق سود خوروں نے خاتون کو دباؤ میں لے کر اس کے زیورات، جائیداد کے کاغذات اور نقد رقم اپنے قبضے میں کر لی۔ اس کے بعد اسے بلیک میل کر کے کئی بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ خاتون کی حالت دن بدن بگڑتی گئی اور جب وہ مزید برداشت نہ کر سکی تو ملزمان نے اسے خاموش کرنے کے لیے زہر دے دیا۔

Advertisement

پولیس کی کارروائی

واقعے کی اطلاع ملتے ہی اے ایس پی گوجر خان دانیال کاظمی کی سربراہی میں پولیس نے فوری کارروائی کی۔ دانیال کاظمی کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تمام ملزمان کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق معاملہ مالی لین دین سے جڑا ہوا تھا جو بعد میں بلیک میلنگ اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔ مقتولہ کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ خاتون کو مسلسل دھمکیاں دی جاتی تھیں کہ اگر اس نے رقم واپس نہ کی یا پولیس کو اطلاع دی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

Also read:نابینا نجومی بابا وانگا کی 2026 کیلئے اہم پیشگوئیاں

علاقے میں خوف و ہراس

اس دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اہلِ علاقہ نے ملزمان کی فوری گرفتاری اور عبرتناک سزا کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سود خور مافیا نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ کئی گھروں میں خواتین اور نوجوان ان کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو ایسے واقعات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

سود خوری کے سماجی اثرات

ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ سود خوری ایک ناسور بن چکی ہے جو متوسط طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کر رہی ہے۔ مالی مشکلات کے شکار افراد جب سود خوروں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں تو اکثر اپنی عزت، مال اور کبھی کبھی زندگی تک گنوا دیتے ہیں۔ قانون کے مطابق سود لینا یا دینا دونوں جرم ہیں، مگر بدقسمتی سے اس کے خلاف عملی اقدامات بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔

اہل خانہ کا مؤقف

مقتولہ کے اہل خانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف کے متلاشی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو صرف پیسے کے لالچ میں نہیں بلکہ انسانیت کے نام پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق خاتون نے کئی بار پولیس کو شکایت درج کرانے کی کوشش کی لیکن اسے ڈرایا دھمکایا گیا۔ اہل خانہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی اور خاتون اس طرح کے ظلم کا شکار نہ ہو۔

قانونی ماہرین کی رائے

قانونی ماہرین کے مطابق اگر ملزمان پر جرم ثابت ہو گیا تو ان کے خلاف قتل، زیادتی اور مالی فراڈ کی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ ایسے جرائم کے مرتکب افراد کو سزائے موت یا عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ حکومت کو سود خوری کے خلاف خصوصی مہم شروع کرنی چاہیے تاکہ ایسے گروہوں کا خاتمہ کیا جا سکے جو لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر ان کی زندگیاں تباہ کر رہے ہیں۔

خواتین کے تحفظ کی ضرورت

اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ خواتین کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے اقدامات کتنے مؤثر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کو ایسے معاملات میں فوری اور شفاف تحقیقات کرنی چاہئیں، جبکہ حکومت کو ایسے قوانین بنانے کی ضرورت ہے جو خواتین کو بلیک میلنگ، مالی دھوکے اور جنسی زیادتی جیسے جرائم سے محفوظ رکھ سکیں۔

نتیجہ

راولپنڈی کا یہ واقعہ ایک افسوسناک یاد دہانی ہے کہ ہمارے معاشرے میں سود خوری، بلیک میلنگ اور خواتین کے خلاف جرائم کس حد تک بڑھ چکے ہیں۔ اگر ریاستی ادارے اور معاشرہ اس برائی کے خلاف متحد نہ ہوئے تو ایسے واقعات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ انصاف کی فراہمی اور سود خور مافیا کے خلاف سخت کارروائی ہی اس ناسور کا خاتمہ کر سکتی ہے۔


ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اپ ڈیٹس اور تفصیلات کے لیے مستند اور سرکاری خبر رساں اداروں سے معلومات ضرور حاصل کریں۔

Leave a Comment