پاکستان میں آئین کی 27ویں ترمیم کی تیاری اور عسکری قیادت کے ڈھانچے میں تبدیلی کے اعلانات اس وقت ملکی و سیاسی حلقوں میں ایک اہم بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اس ترمیم کے ذریعے فوجی قیادت کے نظام میں ایک نیا عہدہ چیف آف ڈیفنس فورسز (Chief of Defence Forces) متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس مضمون میں اس ترمیم کے بنیادی نکات، ممکنہ اثرات اور عوامی خدشات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
پسِ منظر
حالیہ دنوں میں ملک کے سیاسی اور عسکری ماحول میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے حکومت نے آئینی سطح پر تبدیلیوں کی تیاری کی ہے۔ 27ویں ترمیم کا مقصد مسلح افواج کے سربراہان کے تقرر، اختیارات اور مدتِ ملازمت کو آئینی فریم ورک کے اندر لانا بتایا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف آرمی چیف کے اختیارات میں توسیع متوقع ہے بلکہ عسکری ڈھانچے کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ
ترمیم کے تحت آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے پر بھی فائز ہوں گے۔ اس طرح آرمی چیف کو تینوں مسلح افواج کی مشترکہ کمانڈ اور اسٹریٹجک فیصلوں میں کلیدی کردار دیا جائے گا۔
اس نئے نظام کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز دونوں کا تقرر کریں گے۔
- آرمی چیف، وزیرِ اعظم کی مشاورت سے نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے سربراہ کا تقرر کریں گے۔
- چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کے ذریعے افواجِ پاکستان کے تینوں شعبوں — بری، بحری، اور فضائی — کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط کیا جائے گا۔
ترمیم کے ممکنہ اہم نکات
27ویں ترمیم میں متوقع تبدیلیوں کے مطابق:
- آئین کے آرٹیکل 243 میں ترامیم کی جائیں گی تاکہ مسلح افواج کے تقرر، اختیارات اور کمانڈ کے معاملات آئینی سطح پر واضح ہو سکیں۔
- آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کے تعین، اختیارات اور توسیع کے طریقہ کار کو باقاعدہ آئینی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
- صوبائی اور وفاقی سطح پر اختیارات کے توازن میں ممکنہ تبدیلیوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
- دفاعی پالیسی سازی میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا کردار کلیدی حیثیت اختیار کرے گا تاکہ فیصلوں میں تسلسل قائم رہے۔
ترمیم کی وجوہات
حکومتی ذرائع کے مطابق، 27ویں ترمیم کے پسِ پشت درج ذیل وجوہات ہیں:
- فوجی قیادت کے اختیارات اور ذمہ داریوں کو آئینی تحفظ فراہم کرنا۔
- سول اور عسکری اداروں کے درمیان پالیسی اختلافات کو کم سے کم کرنا۔
- قومی سلامتی کے ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کرنا۔
- اندرونی اور بیرونی خطرات کے مقابلے میں فیصلہ سازی کو مؤثر بنانا۔
Also read:راولپنڈی میں سود خوروں کا ظلم: شادی شدہ خاتون سے زیادتی، کروڑوں روپے ہتھیانے کے بعد زہر دے کر قتل
عوامی اور سیاسی ردِعمل
اس ترمیم پر ملک کے مختلف حلقوں سے مثبت اور منفی دونوں طرح کے ردِعمل سامنے آئے ہیں۔
کچھ مبصرین کے مطابق، یہ قدم فوج اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی کو بڑھانے کا باعث بنے گا اور فیصلہ سازی کا عمل زیادہ مربوط ہو جائے گا۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے فوجی اداروں کو مزید آئینی بالادستی حاصل ہو جائے گی جس سے پارلیمانی نظام کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔
کچھ سیاسی رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر عسکری اختیارات میں مزید اضافہ کیا گیا تو سول اداروں کی خودمختاری محدود ہو سکتی ہے۔
قانونی اور آئینی پہلو
چونکہ یہ آئینی ترمیم ہے، اس کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ اس معاملے پر اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ اس ترمیم کے نفاذ کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کی قانونی حیثیت قائم ہو جائے گی، اور عسکری قیادت کے فیصلے براہِ راست آئینی دائرہ کار میں آ جائیں گے۔
ممکنہ اثرات
27ویں ترمیم کے نفاذ سے ملک کے دفاعی اور سیاسی نظام پر درج ذیل اثرات مرتب ہو سکتے ہیں:
- عسکری قیادت کو آئینی تحفظ حاصل ہوگا، جس سے پالیسی تسلسل یقینی بنایا جا سکے گا۔
- نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی کمان میں زیادہ ہم آہنگی پیدا ہوگی۔
- وفاق اور صوبوں کے درمیان طاقت کے توازن پر بحث میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
- سول اور عسکری تعلقات میں نئی نوعیت کی تبدیلی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔
نتیجہ
27ویں ترمیم کو پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ ملکی سلامتی کے ڈھانچے کا سب سے طاقتور اور مرکزی عہدہ بن سکتا ہے۔ تاہم، اس کے سیاسی اور جمہوری اثرات کے حوالے سے ابھی بھی بحث جاری ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ حکومت اس ترمیم کو پارلیمنٹ سے کس طرح منظور کرواتی ہے اور عوامی سطح پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ڈائنامک ڈسکلیمر:
یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین معلومات اور سرکاری اعلانات کے لیے مستند نیوز آؤٹ لیٹس سے تصدیق ضرور کریں۔