راولپنڈی (خصوصی رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ فارم 47 یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں کریں گے۔ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہیں اور کسی بھی دباؤ یا سودے بازی کے بغیر اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ اگر کسی سے کوئی بات چیت ہوگی تو وہ صرف اور صرف اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے ذریعے ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر آئینی یا غیر جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنیں گے، اور حقیقی آزادی کی تحریک آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جاری رکھی جائے گی۔
عمران خان نے دوران ملاقات پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی کہ وہ عوامی رابطہ مہم کو تیز کریں اور قوم کو اس بات سے آگاہ رکھیں کہ تحریک انصاف کا مؤقف کسی مفاد یا ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ ملک میں انصاف، شفافیت اور جمہوریت کے استحکام کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ حقیقی آزادی کا مطلب صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جو عوام کے حقوق کی ضمانت دے۔
ذرائع کے مطابق عمران خان نے جیل میں اپنی سیاسی حکمتِ عملی پر مشاورت جاری رکھی ہوئی ہے۔ ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکن متحد رہیں، کسی افواہ یا دباؤ میں نہ آئیں۔ انہوں نے پارٹی قیادت سے کہا کہ وہ اپنی جدوجہد کو پرامن، قانونی اور عوامی انداز میں جاری رکھیں۔ عمران خان نے کہا کہ قوم کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، ہر قربانی کے بعد کامیابی یقینی ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ عمران خان کی صحت بہتر ہے اور وہ قید کے باوجود پرعزم اور حوصلہ مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا حوصلہ ناقابلِ یقین حد تک بلند ہے اور وہ روزانہ قرآن پاک کی تلاوت اور ورزش کے ذریعے اپنے وقت کو مثبت انداز میں گزار رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے اپنی بہنوں سے کہا کہ وہ قوم کو یہ پیغام دیں کہ انصاف کی جدو جہد کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ عمران خان نے کہا کہ جب تک ملک میں حقیقی جمہوریت قائم نہیں ہوتی، تحریک انصاف اپنی سیاسی اور عوامی جدوجہد جاری رکھے گی۔
علیمہ خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کسی قسم کے دباؤ میں آنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے اصولی مؤقف نے انہیں عوام کے دلوں میں مزید مضبوط کر دیا ہے۔ عوام اب سمجھ چکے ہیں کہ عمران خان کسی ذاتی مفاد کے لیے سیاست نہیں کر رہے بلکہ وہ پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔
Also read:حارث رؤف پر دو میچز کی پابندی، سوریا کمار اور صاحبزادہ فرحان کو جرمانے
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں قوم ایک نئے سیاسی شعور کی طرف بڑھ رہی ہے۔ عوام اب اپنے حقوق کے لیے بیدار ہیں اور کسی بھی غیر شفاف انتخابی عمل کو قبول نہیں کریں گے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ فارم 47 کے ذریعے کیے گئے کسی بھی غیر منصفانہ اقدام کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، کیونکہ شفاف انتخابات ہی ملکی استحکام اور جمہوریت کی بنیاد ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق عمران خان کا یہ مؤقف کہ کسی قسم کی بات چیت صرف محمود خان اچکزئی کے ذریعے ہوگی، ایک نئی سیاسی حکمتِ عملی کا عندیہ دیتا ہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ عمران خان اب بھی سیاسی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہے بلکہ وہ انہیں شفاف، باوقار اور عوامی مفاد کے دائرے میں رکھنے کے خواہاں ہیں۔
عمران خان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت بلند ہے اور مختلف جماعتیں آئندہ سیاسی منظرنامے کے لیے اپنی حکمت عملی مرتب کر رہی ہیں۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے عمران خان کے حالیہ پیغام کو ان کے عزم اور استقامت کی ایک اور مثال قرار دیا ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی تقویت پکڑ رہا ہے کہ عمران خان آنے والے دنوں میں اپنی قانونی حکمت عملی میں مزید متحرک کردار ادا کریں گے اور ان کے قریبی ساتھی قانونی و عوامی سطح پر اپنی کوششیں تیز کریں گے۔ عمران خان کا یہ کہنا کہ وہ فارم 47 یا کسی غیر جمہوری طاقت سے بات نہیں کریں گے، دراصل ان کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ سیاست میں اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کی سیاست میں اس وقت ایک نئی صف بندی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں تحریک انصاف اپنی عوامی طاقت کو منظم کر کے ایک بار پھر سیاسی میدان میں مضبوط واپسی کی تیاری کر رہی ہے۔ عمران خان کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اب بھی خود کو ملک کی سیاسی و جمہوری جدوجہد کا محور سمجھتے ہیں اور قوم کو پیغام دے رہے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کے لیے متحد رہیں۔
ڈائنامک ڈسکلیمر:
یہ خبر دستیاب رپورٹس اور قابلِ اعتماد ذرائع پر مبنی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین معلومات کے لیے مستند اور سرکاری نیوز چینلز یا ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔