گرفتاری کے بعد اصلی چہرے بے نقاب ہونے کی حقیقت — ایک سماجی تجزیہ

سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ہر لمحہ کسی نہ کسی شخصیت یا واقعے کی ویڈیو یا تصویر وائرل ہو جاتی ہے، وہاں عوامی شخصیات کی ذاتی زندگیوں اور ظاہری صورت پر بھی غیر معمولی توجہ دی جاتی ہے۔ حال ہی میں ایک ایسا جملہ سامنے آیا جس نے بڑی تعداد میں لوگوں کی توجہ حاصل کی:
“یقین جانیں گرفتاری کے بعد بغیر میک اپ کے جو اِن کے اصل چہرے باہر آتے ہیں، اُنہیں دیکھ کر اِن کی مریم نواز سے نفرت جائز لگتی ہے۔”

Advertisement

یہ جملہ بظاہر ایک طنزیہ تبصرہ ہے، مگر اس کے پیچھے ہمارے معاشرتی رویوں، صنفی امتیاز، سیاسی تعصب اور میڈیا کلچر کی کئی پرتیں چھپی ہوئی ہیں۔ اس مضمون میں ہم اس رویے کا سماجی، نفسیاتی اور سیاسی تجزیہ پیش کریں گے۔

سیاسی شخصیات اور عوامی تاثر

پاکستان میں سیاست ہمیشہ سے ایک جذباتی موضوع رہا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد اپنے پسندیدہ رہنماؤں کو محض سیاسی کارکردگی نہیں بلکہ شخصیت، لب و لہجے اور ظاہری وضع قطع کی بنیاد پر بھی جانچتی ہے۔ مریم نواز کی مثال اس کی واضح علامت ہے — وہ صرف ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک خاتون ہیں جن کی شخصیت میڈیا میں ہمیشہ خوبصورتی، اندازِ گفتگو اور لباس کے حوالے سے زیرِ بحث رہی ہے۔

Advertisement

جب کسی خاتون سیاست دان کی گرفتاری یا مشکل حالات کی تصاویر سامنے آتی ہیں تو اکثر لوگوں کی توجہ اُن کے چہرے یا ظاہری حالت پر مرکوز ہو جاتی ہے، گویا ان کی سیاسی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے۔ یہی عمل ہمارے معاشرتی دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔

Also read:عمران خان ڈٹ گیا، اڈیالہ جیل سے بڑی خبر

میک اپ، نسوانیت اور سماجی توقعات

خواتین کے بارے میں ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی بہترین شکل میں نظر آئیں۔ میڈیا اور سماج نے یہ معیار اس قدر مضبوط کر دیا ہے کہ اگر کوئی خاتون بغیر میک اپ یا سادہ حالت میں دکھائی دے تو لوگ فوراً تنقید شروع کر دیتے ہیں۔
یہ رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم خواتین کی اصل شخصیت کے بجائے اُن کے ظاہری حسن کو ترجیح دیتے ہیں۔

گرفتاری یا کسی سخت وقت میں کسی خاتون کا بغیر میک اپ نظر آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں، مگر بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اسے کمزوری یا بدنمائی سے تعبیر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ “اصل چہرہ” جیسا فقرہ اکثر منفی تاثر دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے، حالانکہ یہ فطری حالت ہے۔

نفرت کے رویے کی جڑیں

“اِن کی مریم نواز سے نفرت جائز لگتی ہے” جیسے جملے دراصل معاشرتی تعصب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ صرف ایک سیاسی تنقید نہیں بلکہ ذاتیات پر حملہ ہے۔ ایسے تبصرے اس بات کی علامت ہیں کہ ہمارے ہاں اختلافِ رائے کو ذاتی تضحیک میں بدلنے کا رجحان عام ہو چکا ہے۔
جب کسی سیاسی رہنما، خاص طور پر خاتون، کو ظاہری حالت یا نسوانی پہلوؤں پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ معاشرتی پسماندگی کی نشانی ہے، نہ کہ سیاسی شعور کی۔

میڈیا کا کردار

ٹی وی چینلز، یوٹیوب و بلاگز اور سوشل میڈیا پیجز کی ایک بڑی تعداد ایسے مناظر کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے۔ ان کے لیے یہ محض “کانٹینٹ” ہوتا ہے، مگر اس سے ایک خطرناک بیانیہ فروغ پاتا ہے کہ کسی کی عزت یا وقار عوامی تفریح کے لیے قربان کیا جا سکتا ہے۔

میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی شخصیات کو انسانی زاویے سے پیش کرے، نہ کہ صرف ان کے چہروں یا ظاہری تبدیلیوں کو نمایاں کرے۔ حقیقی صحافت وہی ہے جو حالات کا تجزیہ کرے، نہ کہ چہروں کا۔

سماجی اصلاح اور آگہی

ہمیں بطور معاشرہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ظاہری صورت انسان کی اصل شناخت نہیں۔ مریم نواز ہوں یا کوئی اور سیاسی رہنما، ہر شخص کا احترام اُس کی شخصیت، عمل اور نظریات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
خواتین، خواہ وہ سیاست میں ہوں یا عام زندگی میں، اُنہیں اُن کے کردار اور کام سے جانچنا ہی سماجی ترقی کی علامت ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ آگے بڑھے، تو ہمیں ایسے جملوں اور رویوں سے اجتناب کرنا ہوگا جو کسی کی ذاتیات کو نشانہ بنائیں۔ حقیقی تبدیلی تب ہی ممکن ہے جب ہم چہروں سے زیادہ کردار پر توجہ دینا سیکھیں۔

نتیجہ

گرفتاری کے بعد کسی کا چہرہ بدل جانا فطری امر ہے، مگر ہمارا رویہ اس تبدیلی کو جس طرح طنز اور نفرت کے ساتھ جوڑ دیتا ہے، وہ ہمارے اخلاقی زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہمیں اپنے معاشرتی نظریات میں وسعت پیدا کرنی چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ سیاستدان بھی انسان ہیں، جن کے چہرے، احساسات اور کمزوریاں ہمارے جیسے ہی ہیں۔
احترام، برداشت اور ہمدردی ہی وہ اقدار ہیں جو ایک مہذب معاشرے کی بنیاد بنتی ہیں۔


ڈائنامک ڈسکلیمر:
ڈسکلیمر: یہ مضمون خبری و تجزیاتی مقاصد کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ اس میں شامل معلومات مختلف رپورٹس اور دستیاب ذرائع پر مبنی ہیں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین تفصیلات کے لیے معتبر اور سرکاری نیوز ذرائع سے بھی رجوع کریں۔

Leave a Comment