کرکٹ کے بین الاقوامی منظرنامے میں حالیہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں نے شائقین کے درمیان خاصی ہلچل مچائی ہے۔ ایشیا کپ کے دوران حارث رؤف، سوریا کمار یادو اور صاحبزادہ فرحان کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات پر کارروائی کی گئی ہے۔
یہ ہیں اس معاملے کی تفصیلات:
کون ہیں ذمہ دار کھلاڑی؟
پاکستانی فاسٹ بولر حارث رؤف کو کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے بعد دو ون ڈے میچز کے لیے معطل کیا گیا ہے۔
بھارتی کپتان سوریا کمار یادو کو اسی ضابطے کی خلاف ورزی پر جرمانہ اور ڈی میرٹ پوائنٹس ملے ہیں۔
پاکستانی بلے باز صاحبزادہ فرحان کو بھی جرمانے کے ساتھ وارننگ اور ڈی میرٹ پوائنٹس دیے گئے ہیں۔
کس ضابطے کی خلاف ورزی؟
آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.21، یعنی “ایسا طرزِ عمل جو کھیل کی بدنامی کا باعث بنے” کے تحت یہ کارروائی کی گئی ہے۔
مقررہ الزامات میں شامل ہیں:
- حارث رؤف کی جانب سے دبئی میں کھیلے گئے میچ میں شائقین کی طرف اشارے کرنا اور “0-6” کا نشان بنانا۔
- سوریا کمار یادو نے بھارت-پاکستان میچ کے بعد سیاسی نوعیت کا بیان دیا، جسے آئی سی سی نے کھیل سے باہر کے اثرات کے طور پر لیا۔
- صاحبزادہ فرحان نے نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد بندوق چلانے جیسی سیلیبریشن کی، جسے ریفری نے نشانہ بنانے والا اشارہ تصور کیا۔
فراہم کی گئی سزائیں
حارث رؤف: دو میچز کی معطلی کے علاوہ میچ فیس کا 30 فیصد جرمانہ اور 2 ڈی میرٹ پوائنٹس۔
سوریا کمار یادو: میچ فیس کا 30 فیصد جرمانہ اور 2 ڈی میرٹ پوائنٹس۔
صاحبزادہ فرحان: ایک ڈی میرٹ پوائنٹ اور وارننگ۔
اثر اور تنقید
یہ فیصلے اس لیے اہم ہیں کیونکہ انہوں نے کرکٹ کے کھیل کے اعتدال اور ضابطہ اخلاق کے نظریے پر بحث چھیڑ دی ہے۔ خصوصاً:
- معطلی اور جرمانہ دونوں کا سامنا کرنے والے حارث رؤف کے معاملے نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کسی کھلاڑی کے جشن یا اشارے پر کتنی سختی اختیار کی جائے؟
- بھارتی کپتان کے سیاسی بیان پر جرمانہ بھارت-پاکستان تعلقات کے تناظر میں حساس نوعیت اختیار کر گیا ہے؛ بعض حلقوں نے آئی سی سی کی کارروائی کو “دوہرا معیار” قرار دیا۔
- صاحبزادہ فرحان کے جشن پر صرف وارننگ دیے جانے سے یہ بحث جنم لی کہ جشن اور طنزیہ اشارے کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟
آئندہ کیا ہوسکتا ہے؟
- حارث رؤف کی معطلی کی وجہ سے وہ اگلے دو ون ڈے میچز میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔
- ڈی میرٹ پوائنٹس کا نظام آئندہ خلاف ورزیوں پر مزید سخت کارروائی کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ 24 ماہ میں چار ڈی میرٹ پوائنٹس ہونے پر مزید معطلی بھی ممکن ہے۔
- آئندہ میچز میں کھلاڑیوں اور بورڈز کو جشن، اشارے اور سیاسی بیانات کے معاملے میں زیادہ محتاط رہنا پڑے گا تاکہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہ ہو۔
Also read:عباس آفریدی کی قیادت میں پاکستان کرکٹ ٹیم ہانگ کانگ سکسز ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے روانہ
تجزیاتی زاویہ
کرکٹ میں یہ بات افسوسناک ہے کہ کھیل صرف گیند اور بلے تک محدود نہیں رہا بلکہ اب کھلاڑیوں کے جشن اور اشاروں پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔ حارث رؤف کا “0-6” اشارہ یا صاحبزادہ فرحان کا بندوق چلانے کا انداز، بظاہر ایک معمولی جشن تھا مگر اسے جارحانہ رویے کے طور پر دیکھا گیا۔
اسی طرح، سوریا کمار یادو کے سیاسی بیان نے کھیل اور سیاست کے درمیان لکیر کو دھندلا دیا۔ اگرچہ کھیل کا مقصد قوموں کو جوڑنا ہے، لیکن ایسی حرکات کبھی کبھار تنازعات کو بڑھا دیتی ہیں۔
آئی سی سی کا یہ اقدام ایک واضح پیغام ہے کہ کھیل میں اخلاقیات، احترام اور اعتدال کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ مستقبل میں کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ کو اپنی حرکات، بیانات اور جشن کے انداز میں زیادہ پیشہ ورانہ طرزِ عمل اپنانا ہوگا تاکہ کھیل کی ساکھ متاثر نہ ہو۔
خلاصہ
حارث رؤف، سوریا کمار یادو اور صاحبزادہ فرحان کے خلاف کی گئی کارروائی نہ صرف ایک جذباتی میچ کا ردِعمل ہے بلکہ کھیل میں ضابطہ اخلاق، جشن اور اشاروں کی حدود پر ایک یاد دہانی بھی ہے۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ کرکٹ کے میدان میں صرف کارکردگی ہی نہیں بلکہ طرزِ عمل بھی کھلاڑی کی شناخت کا حصہ ہے۔
ڈسکلیمر: یہ خبری معلومات دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہیں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری نیوز چینلز یا آئی سی سی کی ویب سائٹ سے تصدیق کر لیں۔