لاہور — پاکستان کی جانب سے ایک اہم اعزاز کے تحت قومی کرکٹ ٹیم ہانگ کانگ سکسز 2025 میں شرکت کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔ اس ٹیم کی قیادت نوجوان آل راؤنڈر عباس آفریدی کر رہے ہیں، جنہیں اس تیز رفتار فارمیٹ والے ٹورنامنٹ میں قائد منتخب کیا گیا ہے۔
یہ تقریباً سات رکنی اسکواڈ 7 سے 9 نومبر تک ہانگ کانگ کے معروف اسپورٹس وینیو Tuen Wong Road Recreation Ground میں شرکت کرے گا، جہاں بارہ ٹیمیں چار گروپوں میں تقسیم ہو کر مقابلہ کریں گی۔ پاکستان کو گروپ سی میں رکھا گیا ہے۔
ٹورنامنٹ کا آغاز جمعہ، 7 نومبر کو ہوگا، اور پاکستان کا پہلا میچ اسی دن کھیلا جائے گا۔ یہ مقابلہ گروپ سی میں شامل ٹیموں میں سے ایک کے خلاف ہوگا۔
نیشنل ٹیم کا اسکواڈ درج ذیل کھلاڑیوں پر مشتمل ہے:
- عباس آفریدی (کپتان)
- عبدالصمد
- خواجہ محمد نافع
- معاذ صداقت
- محمد شہزاد
- سعد مسعود
- شاہد عزیز
جبکہ رضا کچلو ٹیم مینجر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یہ ٹورنامنٹ پاکستان کے لیے ایک چیلنج بھی ہے اور ایک موقع بھی — کیونکہ یہ سکسز فارمیٹ ہے جس میں تیز اور جارحانہ کرکٹ کی حکمرانی ہوتی ہے۔ ہر شاٹ، ہر وکٹ اور ہر لمحہ نتیجہ بدل سکتا ہے۔ ٹیم انتظامیہ نے خاص طور پر محدود گیندوں والے فارمیٹ کے لحاظ سے مختلف تراکیب پر مشق کی ہے تاکہ کھلاڑی کھیل کی رفتار سے ہم آہنگ رہیں۔
عباس آفریدی کی قیادت میں نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کا بہترین موقع ملے گا۔ پاکستان نے اس نوعیت کے مختصر فارمیٹ والے مقابلوں میں ماضی میں کم شرکت کی ہے، اس لیے اس ایونٹ کو ایک سیکھنے اور تجربہ حاصل کرنے کا موقع بھی سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان کا تعلق گروپ سی سے ہے، جہاں اس کے مدمقابل کویت اور ہانگ کانگ کی ٹیمیں شامل ہیں۔ پاکستان کا پہلا میچ 7 نومبر کو کویت کے خلاف متوقع ہے۔
سکسز طرزِ کرکٹ میں تیز رفتار بیٹنگ، محدود اوورز، اور جارحانہ حکمت عملی کامیابی کی کلید ہوتی ہے۔ اسی لیے ٹیم نے شارٹ بالز، باؤنڈری ہٹنگ، اور شارپ فیلڈنگ پر خصوصی توجہ دی ہے۔ کوچنگ اسٹاف کے مطابق، “اس فارمیٹ میں کھلاڑی کو اپنے ہر شاٹ پر بھروسہ رکھنا ہوتا ہے، لیکن حکمت عملی کے ساتھ کھیلنا بھی ضروری ہے۔”
عباس آفریدی نے روانگی سے قبل گفتگو میں کہا:
“ہم نے بھرپور تیاری کی ہے، ٹیم کا جذبہ بلند ہے اور ہم اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کی پوری کوشش کریں گے۔ یہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے منوائیں۔”
Also read:پی ایس ایل فرنچائز مالکان کا مطالبہ تسلیم، انتظامیہ نے اجلاس طلب کرلیا
ٹیم مینجر رضا کچلو نے کہا کہ ٹیم کے اندر بہترین ہم آہنگی پائی جاتی ہے، سب کھلاڑی ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، اور مقصد صرف کھیل سے لطف اندوز ہونا اور بہترین نتیجہ حاصل کرنا ہے۔
ہانگ کانگ کا ٹن وانگ روڈ ریکری ایشن گراؤنڈ ایک بین الاقوامی سطح کا اسٹیڈیم ہے، جہاں کنڈیشنز عام ایشیائی میدانوں سے مختلف ہیں۔ پاکستانی ٹیم نے وہاں کی وکٹ اور موسمی حالات کے مطابق اپنی تیاری مکمل کر لی ہے۔
کھلاڑیوں کے انتخاب کو دیکھیں تو ٹیم میں نوجوان بلے باز، آل راؤنڈرز اور تجربہ کار وکٹ کیپر شامل ہیں، جیسے محمد شہزاد اور شاہد عزیز، جنہوں نے پہلے بھی محدود فارمیٹ میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ یہ امتزاج پاکستان کے لیے متوازن کارکردگی کی ضمانت بن سکتا ہے۔
ٹورنامنٹ کے دوران شائقینِ کرکٹ کی نظریں پاکستان ٹیم پر مرکوز ہوں گی، کیونکہ یہ ٹیم نئی توانائی، نوجوان جوش اور جارحانہ حکمت عملی کی علامت بن کر میدان میں اترے گی۔ اگر ٹیم اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرے تو یہ مستقبل کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوگی۔
یہ ایونٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ پاکستانی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بین الاقوامی منظرنامے میں خود کو منوانے کا بہترین موقع ہے۔ اس سے نہ صرف کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک کی نمائندگی کے لحاظ سے بھی ایک نیا باب کھلے گا۔
ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے آفیشل نیوز آؤٹ لیٹس سے تصدیق ضرور کریں۔