اہم غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہمیشہ سے گھریلو صارفین کے لیے ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں جہاں مہنگائی عام آدمی کی زندگی پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ حال ہی میں دودھ اور دہی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا گیا ہے جس سے ان اشیاء کی خریداری کی استطاعت، مارکیٹ کے ضابطے اور مجموعی معاشی سمت کے حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ چونکہ دودھ اور دہی ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہیں، اس لیے ان کی قیمتوں میں اضافہ صارفین اور دکانداروں دونوں پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کا پس منظر
دودھ اور دہی نہ صرف بنیادی غذائی اجزاء ہیں بلکہ ان کو غذائیت کا اہم ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ دودھ روزانہ چائے، کافی اور کھانوں میں استعمال ہوتا ہے جبکہ دہی اپنے ذائقے اور صحت بخش خصوصیات کی وجہ سے کھانوں کا لازمی حصہ ہے۔ ان کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ان اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جن میں آٹا، خوردنی تیل اور گوشت بھی شامل ہیں۔
مارکیٹ رپورٹس کے مطابق نئی قیمتیں مویشیوں کے چارے، ٹرانسپورٹ اور ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو ظاہر کرتی ہیں۔ دودھ فروش اور ڈیری فارمرز کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات کی وجہ سے وہ قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب صارفین براہِ راست ان مہنگائیوں کا سامنا کرتے ہیں اور ان کے گھریلو بجٹ مزید دباؤ میں آجاتے ہیں۔
قیمتوں میں اضافے کی وجوہات
دودھ اور دہی کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے کئی باہمی طور پر جُڑے عوامل ہیں:
- مویشیوں کے چارے کی قیمت میں اضافہ: چارہ، دانے اور غذائی سپلیمنٹس کی قیمت بڑھ چکی ہے۔ چونکہ یہ اخراجات ڈیری فارمنگ کا بڑا حصہ ہیں، اس لیے فارمرز یہ بوجھ صارفین پر منتقل کرتے ہیں۔
- ٹرانسپورٹ اور ایندھن کے اخراجات: ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دودھ کی ترسیل پر براہِ راست اثر ڈالا ہے۔ خاص طور پر ریفریجریٹڈ ٹرانسپورٹ مزید مہنگی ہوگئی ہے۔
- موسمیاتی تبدیلیاں: بعض اوقات موسم کی تبدیلی کے باعث دودھ کی پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے، جس سے سپلائی گھٹتی ہے لیکن طلب برقرار رہتی ہے۔
- مہنگائی کا عمومی دباؤ: کرنسی کی قدر میں کمی اور درآمدی اخراجات میں اضافے کی وجہ سے مجموعی مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔
- بیوپاری اور تقسیم کا نظام: ماہرین کا کہنا ہے کہ بیوپاری اور دلال بھی قیمتوں میں غیرضروری اضافہ کرتے ہیں کیونکہ ہر مرحلے پر منافع شامل کیا جاتا ہے۔
صارفین پر اثرات
عام گھرانوں کے لیے، خاص طور پر بچوں والے گھروں میں، دودھ اور دہی روزمرہ کی ضرورت ہیں۔ قیمتوں میں اضافہ یا تو استعمال میں کمی لاتا ہے یا محدود وسائل کی ازسرنو تقسیم پر مجبور کرتا ہے۔ نچلے اور درمیانے طبقے کے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ کھانے پینے پر خرچ ہوتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ اضافہ ایک سلسلہ وار اثر بھی پیدا کرتا ہے:
- ہوٹلوں اور چائے خانوں میں چائے مزید مہنگی ہوجاتی ہے۔
- دہی سے بنی ہوئی روایتی ڈشز کے استعمال میں کمی آتی ہے۔
- بچوں اور بڑوں کی غذائیت متاثر ہوتی ہے کیونکہ خاندان دودھ اور دہی کی خریداری کم کردیتے ہیں۔
مارکیٹ اور دکانداروں کا مؤقف
ڈیری فارمرز اور چھوٹے دکاندار اپنی مشکلات بھی بیان کرتے ہیں۔ فارمرز کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے قیمتیں بڑھاتے ہیں، جبکہ دکانداروں کا مؤقف ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے بعد ان کے گاہک کم ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات مال ضائع بھی ہوجاتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ شکایات بھی عام ہیں کہ جب حکومت قیمتوں پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرتی ہے تو ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ دکاندار کہتے ہیں کہ انسپکشن کے دوران جرمانے کیے جاتے ہیں جبکہ اصل مسئلہ سپلائی چین کے اخراجات ہیں جو ان کے قابو میں نہیں۔
وسیع تر معاشی اثرات
دودھ اور دہی کی قیمتوں میں اضافہ صرف گھریلو مسئلہ نہیں بلکہ معاشی مسئلہ بھی ہے۔ ڈیری انڈسٹری ہزاروں فارمرز، مزدوروں اور بیوپاریوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ قیمتوں میں عدم استحکام اس پورے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ بڑھتی ہوئی خوراک کی قیمتیں افراطِ زر کے اشاریے میں براہِ راست شامل ہوتی ہیں جس سے معیشت کمزور نظر آتی ہے اور عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
اگر یہ رجحان برقرار رہا تو روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوامی بےچینی، احتجاج اور حکومتی اقدامات کے مطالبے کو جنم دے سکتا ہے۔
Also read :ویکسین مہم سے طالبات کی حالت خراب: وائرل ویڈیو کی حقیقت
ممکنہ حل
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے:
- حکومتی نگرانی: حکام کو سپلائی چین پر کڑی نظر رکھنی ہوگی تاکہ صارفین پر غیرضروری بوجھ نہ ڈالا جائے۔ شفاف نرخوں اور ناجائز منافع خوری پر قابو پانے کے اقدامات لازمی ہیں۔
- فارمرز کو سبسڈی: چارے اور ویٹرنری سہولیات پر سبسڈی فراہم کرکے پیداواری اخراجات کم کیے جاسکتے ہیں۔
- موثر تقسیم کا نظام: بیوپاریوں کے کردار کو کم کرکے فارمر سے براہِ راست دکاندار تک دودھ پہنچانے کا نظام بنایا جاسکتا ہے۔
- آگاہی مہمات: عوام کو متبادل غذائی ذرائع استعمال کرنے کی ترغیب دینا چاہیے تاکہ غذائیت کے معیار میں کمی نہ آئے۔
نتیجہ
دودھ اور دہی کی قیمتوں میں اضافہ صرف نرخوں کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک بڑے معاشی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے یہ روزمرہ غذائیت کے حصول کو مشکل بنا دیتا ہے، فارمرز اور دکانداروں کے لیے یہ بقا اور انصاف کے درمیان توازن قائم رکھنے کا مسئلہ ہے اور حکومت کے لیے معاشی نظم و نسق کا امتحان۔
اگر قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بوجھ مزید بڑھے گا، صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور مارکیٹیں غیر مستحکم رہیں گی۔ دودھ اور دہی، جو کبھی روزمرہ کی سادہ ضروریات سمجھی جاتی تھیں، اب لاکھوں خاندانوں کے لیے مالی پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔