سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں اسکول یونیفارم پہنی ہوئی لڑکیاں اسپتال کے بستر پر لیٹی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ یہ مناظر اس لیے ہیں کہ طالبات کو ایچ پی وی (Human Papilloma Virus) ویکسین لگائی گئی، جس کے بعد ان کی طبیعت خراب ہو گئی اور انہیں اسپتال منتقل کرنا پڑا ہے۔ تاہم مختلف فیکٹ چیک رپورٹس اور ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ دعویٰ غلط اور گمراہ کن ہے—یہ ویڈیو اصل میں دیگر کسی واقعے سے تعلق رکھتی ہے، ویکسینیشن مہم سے نہیں۔
Advertisement
دعوے اور ویڈیو کا پسِ منظر
- ویڈیو میں طالبات اسپتال کے بستر پر پڑی ہوئی نظر آتی ہیں، اور کیپشن کے مطابق “اسکولوں میں زبردستی ویکسینیشن کے بعد بچیاں بیمار ہوگئیں”۔
- یہ دعوے خاص طور پر ایچ پی وی ویکسین مہم سے تعلق کے ساتھ کیے گئے، جسے پاکستان میں 9 سے 14 سال کی عمر کی لڑکیوں کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے مقصد سے شروع کیا گیا ہے۔
- دعوے کرنے والوں میں شامل ہیں سابق انٹیلی جنس چیف حمید گل کے صاحبزادے، نیز مختلف سوشل میڈیا صارفین جنہوں نے ویڈیو کو ہزاروں ویوز اور شیئرز ملنے کا ذکر کیا ہے۔
Also read :IND vs PAK: تنازعہ میں گھرے پاکستانی بلے باز صاحب زادہ فرحان، کہا، مجھے فرق نہیں پڑتا
فیکٹ چیک: حقیقت کیا ہے؟
- اصل واقعہ اور ویڈیو کی زمان و مکاں:
- ویڈیو مئی 2024 کا ہے، اور یہ واقعہ آزاد جموں و کشمیر کے علاقے ڈھیڈیال کا ہے۔
- مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والے احتجاج کے دوران آنسو گیس استعمال کی گئی تھی، جس سے اسکول کی چند طالبات بے ہوش ہو گئیں۔
- ویڈیو کا عنوان بھی یہی ہے کہ ’’ڈھیڈیال میں لڑکیوں کے اسکولوں پر پولیس نے آنسو گیس کے شیل برسا دیے‘‘۔
- ایچ پی وی ویکسین مہم کی حقیقت:
- پاکستان میں یہ ویکسینیشن مہم ستمبر 2025 میں شروع کی گئی ہے، جو 9 سے 14 سال کی عمر کی تقریباً 13 ملین لڑکیوں کو شامل کرے گی، سروائیکل کینسر کے خطرے سے بچاؤ کے لیے۔
- یہ مہم ڈبلیو ایچ او، یونیسیف اور ایف ڈی آئی (فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن) کے تعاون سے چلائی جا رہی ہے۔
- ویکسین محفوظ سمجھی گئی ہے، اور اگر کوئی ضمنی اثرات ہوں تو عموماً معمولی جیسے انجیکشن والی جگہ پر درد یا ہلکا بخار۔
- گمراہ کن دعویٰ کیوں پھیل گیا:
- صارفین نے ویڈیو کے ساتھ ویکسین کا تذکرہ کیا، لیکن ویڈیو کی تاریخ، مقام، اور وہ ویکسین کون سی ہے—یوں اہم معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
- ویڈیو پہلے سے موجود تھی، اور اس کی بنیاد آنسو گیس کے استعمال پر احتجاج کی تھی، نہ کہ ویکسین لگانے کے واقعے پر۔
نتیجہ
مجموعی طور پر فیکٹ چیک ٹیموں نے یہ ثابت کیا ہے کہ:
- وائرل ویڈیو ایچ پی وی ویکسین مہم سے تعلق نہیں رکھتی۔
- ویڈیو مئی 2024 میں ہوا ایک احتجاج ہے، جس میں آنسو گیس استعمال ہوئی اور طالبات متاثر ہوئیں۔
- ایچ پی وی ویکسین مہم ابھی حال ہی میں شروع ہوئی ہے اور اس کا مقصد مہلک سروائیکل کینسر سے بچاؤ ہے۔
- ویکسین کے ضمنی اثرات عموماً ہلکے ہوتے ہیں، اور بڑے پیمانے پر بیمار ہونے یا اسپتال منتقل ہونے جیسا واقعہ تصدیق شدہ نہیں ہے۔
سفارشات و احتیاطی تدابیر
- معلومات کی تصدیق کریں: ویڈیو یا پوسٹ دیکھ کر فوراً دعویٰ نہ کریں—تاریخ، مقام اور معتبر ذرائع تلاش کریں۔
- ماہرین کی آراء سنیں: ویکسینیشن یا صحت سے متعلق سوالات کے لیے طبّی ماہر یا سرکاری محکمہ صحت کے بیانات معتبر ہوتے ہیں۔
- سوشل میڈیا پر ذمہ دارانہ شیئرنگ: بغیر تحقیق کے کوئی دعویٰ یا ویڈیو نہ شیئر کریں، تاکہ گمراہ کن معلومات نہ پھیلیں۔