کرکٹ ہمیشہ سے پاکستانی عوام کے دلوں میں بسا ہوا کھیل ہے۔ یہ محض ایک کھیل نہیں بلکہ جذبے، محبت اور قوم کی یکجہتی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ہر میچ کے بعد جہاں مداح اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں وہیں کرکٹ کے ماہرین اور سابق کھلاڑی بھی میدان کے فیصلوں پر گفتگو کرتے ہیں۔ حال ہی میں ایک ایسے ہی واقعے نے کرکٹ شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے جب قومی ٹیم کے اوپنر فخر زمان کے آؤٹ ہونے پر سابق فاسٹ بالر شعیب اختر نے تھرڈ امپائر کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
فخر زمان کا وکٹ پر قیام اور اہمیت
فخر زمان پاکستان کرکٹ ٹیم کے ان اوپنرز میں سے ہیں جن کی جارحانہ بیٹنگ ٹیم کے مورال کو بلند کرتی ہے۔ ان کے اسٹروکس اور تیز کھیلنے کے انداز کی وجہ سے شائقین ان سے بڑی توقعات رکھتے ہیں۔ حالیہ میچ میں بھی جب وہ کریز پر موجود تھے تو بیٹنگ لائن کو سہارا دے رہے تھے۔ ان کی موجودگی نہ صرف ٹیم کے رن ریٹ کو بہتر بنارہی تھی بلکہ مخالف ٹیم پر بھی دباؤ ڈال رہی تھی۔
متنازعہ آؤٹ کا لمحہ
میچ کے دوران ایک موقع ایسا آیا جب فخر زمان کو تھرڈ امپائر کے ذریعے آؤٹ قرار دیا گیا۔ ابتدائی طور پر آن فیلڈ امپائر نے فیلڈنگ ٹیم کی اپیل پر غور کیا لیکن معاملہ پیچیدہ ہونے کے باعث فیصلہ تھرڈ امپائر کو ریفر کیا گیا۔ ری پلے میں واضح طور پر شکوک پائے گئے اور کچھ زاویوں سے یوں محسوس ہوا کہ شاید بیل حرکت میں آنے سے پہلے گیند کا بلیڈ سے واضح رابطہ نہیں تھا۔ مگر آخرکار تھرڈ امپائر نے انہیں آؤٹ قرار دیا۔
Also read :پاکستان سے اب رقابت والا معاملہ نہیں رہا، بھارتی کپتان — ایک تجزیاتی مضمون
شعیب اختر کا ردعمل
سابق اسپیڈ اسٹار شعیب اختر ہمیشہ کھری اور بے باک رائے دینے کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے اس فیصلے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ فخر زمان کے آؤٹ ہونے کے وقت جو شواہد موجود تھے وہ فیصلہ دینے کے لیے کافی واضح نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تھرڈ امپائر کے پاس سو فیصد یقین نہ ہو تو ایسے میں “بینفٹ آف ڈاؤٹ” ہمیشہ بیٹسمین کو جانا چاہیے۔
شعیب اختر نے مزید کہا کہ کرکٹ کے قوانین میں بارہا اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ غیر واضح یا متنازعہ فیصلے میں بلے باز کو فائدہ پہنچانا چاہیے، لیکن یہاں اس اصول کو بالائے طاق رکھا گیا۔ ان کے مطابق ایسے فیصلے کھیل کے حسن کو متاثر کرتے ہیں اور کھلاڑیوں کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔
شائقین اور ماہرین کی رائے
یہ معاملہ صرف شعیب اختر تک محدود نہ رہا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بن گیا۔ کرکٹ کے مداحوں نے اپنی اپنی رائے دی۔ کچھ نے کہا کہ تھرڈ امپائر نے جلد بازی میں فیصلہ دیا جبکہ دیگر کے مطابق تکنیکی طور پر فیصلہ درست تھا۔ بہرحال اس اختلافِ رائے نے ایک مرتبہ پھر ڈی آر ایس (Decision Review System) اور تھرڈ امپائر کے فیصلوں کی شفافیت پر سوال اٹھا دیا۔
ٹیکنالوجی اور کرکٹ
کرکٹ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا مقصد یہی ہے کہ فیصلے زیادہ درست اور صاف ہوں۔ ہاک آئی، الٹرا ایج اور ری پلے جیسے آلات کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے انصاف پر مبنی نتائج لانے کے لیے متعارف کرائے گئے۔ مگر اس واقعے نے ثابت کیا کہ ٹیکنالوجی کے باوجود انسانی فیصلے کی گنجائش باقی رہتی ہے اور امپائر کی تشریح کئی بار متنازعہ ہوسکتی ہے۔
فخر زمان پر اثرات
فخر زمان اس وقت بہترین فارم میں تھے اور ان کی اننگز ٹیم کے لیے نہایت قیمتی ثابت ہوسکتی تھی۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد بیٹنگ لائن پر دباؤ بڑھا اور ٹیم کے رنز بنانے کی رفتار بھی متاثر ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فیصلہ صرف ایک کھلاڑی کے آؤٹ ہونے تک محدود نہیں رہا بلکہ میچ کے نتائج پر بھی اثرانداز ہوا۔
شعیب اختر کا مؤقف اور کرکٹ کی شفافیت
شعیب اختر نے اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ اگر کھیل میں شفافیت اور انصاف برقرار نہ رکھا جائے تو یہ کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ ان کا ماننا ہے کہ امپائرز کو ایسے مواقع پر مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ٹیم کو بلاوجہ نقصان نہ پہنچے۔
نتیجہ
فخر زمان کے آؤٹ ہونے اور شعیب اختر کی تنقید نے ایک بار پھر کرکٹ کے فیصلوں میں شفافیت اور ٹیکنالوجی کے کردار کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ یہ واضح ہے کہ جدید آلات کے باوجود امپائر کے فیصلوں پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئی سی سی اور متعلقہ بورڈز ایسے معاملات پر مزید توجہ دیں اور قوانین میں شفافیت لائیں تاکہ کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کو کھیل کے حسن اور انصاف پر یقین قائم رہے۔
کرکٹ کا حسن اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب ہر فیصلہ کھلے دل اور غیر جانبدار طریقے سے کیا جائے۔ فخر زمان کا یہ آؤٹ اور اس پر شعیب اختر کی تنقید یقیناً آئندہ دنوں میں کرکٹ حلقوں میں مزید بحث کو جنم دے گی۔