پاکستان میں زرعی اجناس کی مارکیٹ ہمیشہ سے ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ گندم، جو غذائی تحفظ کی بنیاد ہے، اس وقت غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق گندم کی مارکیٹ میں اچانک کریش دیکھنے میں آیا ہے اور قیمت فی من 700 روپے تک کم ہو گئی ہے۔ یہ خبر جہاں صارفین کے لیے کسی حد تک خوش آئند ہے، وہیں کسانوں اور تاجروں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
گندم کی قیمتوں میں کمی کا پس منظر
پاکستان میں گندم کی قیمتیں ہر سال مختلف عوامل کی بنیاد پر طے پاتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
- حکومتی امدادی قیمت (Support Price)
- پیداوار کی شرح
- موسمی حالات (سیلاب، بارشیں یا خشک سالی)
- ذخیرہ اندوزی اور منڈی کے رجحانات
- درآمد اور برآمد کی پالیسی
رواں سال اچھی پیداوار اور حکومتی فیصلوں نے گندم کی مارکیٹ کو غیر متوقع طور پر متاثر کیا ہے۔ ڈیمانڈ کے مقابلے میں سپلائی بڑھ جانے کی وجہ سے قیمتوں میں تیزی سے کمی دیکھی گئی۔
قیمتوں میں کمی کی تفصیلات
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق:
- فی من گندم کی قیمت میں 700 روپے تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
- جہاں گزشتہ ماہ فی من گندم 4000 روپے تک فروخت ہو رہی تھی، اب اس کی قیمت تقریباً 3300 روپے تک آگئی ہے۔
- مقامی منڈیوں میں یہ کمی زیادہ نمایاں ہے، بالخصوص پنجاب اور سندھ میں قیمتیں تیزی سے گری ہیں۔
کمی کی بنیادی وجوہات
ماہرین کے مطابق گندم مارکیٹ کے کریش کے چند اہم عوامل درج ذیل ہیں:
- اچھی پیداوار
رواں سال بارشوں اور بہتر کاشت کے باعث گندم کی پیداوار توقعات سے زیادہ ہوئی ہے۔ - حکومتی درآمدی پالیسی
گزشتہ سال قلت کے خدشے پر حکومت نے گندم کی بڑی مقدار درآمد کی تھی۔ اب جبکہ مقامی پیداوار بھی زیادہ ہے، تو سپلائی ضرورت سے کہیں زیادہ ہو گئی۔ - ذخیرہ اندوزوں کی پالیسی میں ناکامی
ذخیرہ اندوز جو زیادہ قیمت پر گندم فروخت کرنے کی امید کر رہے تھے، وہ موجودہ حالات میں اپنا ذخیرہ سستے داموں بیچنے پر مجبور ہو گئے۔ - عوامی دباؤ اور فلور ملز کی حکمت عملی
آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر عوامی دباؤ کے بعد حکومت اور فلور ملز نے مارکیٹ میں سپلائی بڑھا دی، جس سے قیمتوں پر دباؤ آیا۔
کسانوں پر اثرات
قیمتوں میں یہ کمی کسانوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
صارفین کے لیے فائدہ
جہاں کسانوں کو نقصان کا سامنا ہے، وہیں عام صارفین کے لیے یہ ایک خوشخبری ہے:
- آٹے کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔
- غریب اور متوسط طبقے کے لیے روزمرہ زندگی میں کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔
- بیکری، فوڈ انڈسٹری اور دیگر شعبوں میں گندم سے بنی اشیاء کی قیمتوں پر بھی کمی آ سکتی ہے۔
Also read :بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کا خفیہ لاکر آخر کار مل ہی گیا! جانئے اندر پیسوں کے علاوہ اور کیا کیا تھا؟
حکومت کا ردعمل
حکومت اس صورتحال پر باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹس کے مطابق:
- کسانوں کے تحفظ کے لیے سبسڈی یا خریداری اسکیم لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
- پاسکو اور صوبائی حکومتیں کسانوں سے گندم خرید کر اپنے ذخائر بڑھا سکتی ہیں۔
- آٹے کی قیمت کو مستحکم رکھنے کے لیے فلور ملز کے ساتھ اجلاس کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ:
- قیمتوں میں کمی وقتی بھی ہو سکتی ہے کیونکہ اگر ذخیرہ اندوز دوبارہ سرگرم ہو گئے تو مارکیٹ پر دباؤ واپس آ سکتا ہے۔
- گندم کی سپلائی چین کو شفاف بنانا ہوگا تاکہ مصنوعی بحران پیدا نہ ہو۔
- کسانوں کو ان کے اخراجات کے مطابق امدادی قیمت دینا لازمی ہے تاکہ اگلی فصل متاثر نہ ہو۔
مستقبل کے خدشات
اگرچہ اس وقت صارفین خوش ہیں لیکن ماہرین چند خدشات ظاہر کر رہے ہیں:
- کسانوں کو نقصان کی وجہ سے اگلے سال گندم کی کاشت کم ہو سکتی ہے۔
- درآمدی گندم پر انحصار بڑھ سکتا ہے جو زرمبادلہ پر دباؤ ڈالے گا۔
- اگر عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھیں تو پاکستان کو دوبارہ بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عوامی ردعمل
مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں کمی کی خبر عام ہوتے ہی عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
- شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت اس کمی کا فائدہ فوری طور پر آٹے کی قیمتوں میں منتقل کرے۔
- کئی صارفین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کہیں یہ کمی وقتی نہ ہو اور ذخیرہ اندوز دوبارہ مارکیٹ پر قابض نہ ہو جائیں۔
نتیجہ
پاکستان میں گندم کی قیمتوں میں 700 روپے تک کمی ایک بڑی معاشی اور سماجی خبر ہے۔ یہ صورتحال جہاں صارفین کے لیے ریلیف کا باعث ہے، وہیں کسانوں کو مشکلات میں ڈال رہی ہے۔ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کسانوں اور صارفین کے درمیان ایک متوازن پالیسی مرتب کرے تاکہ دونوں فریقین کو فائدہ پہنچے۔
اگر یہ کمی شفافیت کے ساتھ برقرار رکھی گئی تو یہ نہ صرف عوام کے لیے ریلیف بنے گی بلکہ ملکی معیشت کے استحکام کا ذریعہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔