پاکستانی سیاست ہمیشہ سے تنازعات، وعدوں اور عوامی بیانیے پر مبنی رہی ہے۔ ہر دور میں سیاسی رہنما اپنے طرزِ سیاست اور بیانیے کی بنیاد پر عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک تناظر میں گلوکار اور سیاسی رہنما جواد احمد نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:
“عمران نے ہمیشہ غریبوں کو پاگل بنایا ہے”۔
یہ بیان نہ صرف عمران خان کی سیاسی پالیسیوں پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ عوامی سطح پر جاری بحث کا ایک نیا رخ بھی سامنے لاتا ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم جواد احمد کے اس بیان کا پس منظر، عمران خان کی سیاست، عوام پر اس کے اثرات اور تنقیدی و حمایتی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
جواد احمد کا پس منظر
جواد احمد ایک مشہور پاکستانی گلوکار ہیں جنہوں نے اپنے کیریئر میں کئی مقبول نغمے گائے۔ بعدازاں انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور “برابری پارٹی پاکستان” کے نام سے ایک سیاسی جماعت قائم کی۔
- جواد احمد ہمیشہ سے مزدوروں، کسانوں اور غریب طبقے کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہے ہیں۔
- ان کا ماننا ہے کہ پاکستان میں اصل مسائل غربت، بے روزگاری، طبقاتی نظام اور تعلیم کی کمی ہیں۔
- وہ عمران خان سمیت دیگر روایتی سیاسی رہنماؤں کو “اسٹیٹس کو” کا حصہ سمجھتے ہیں۔
عمران خان کی سیاست اور عوامی بیانیہ
عمران خان نے اپنی سیاست کا آغاز کرپشن کے خلاف اور انصاف کے نظام کے قیام کے بیانیے سے کیا۔ ان کا نعرہ “نیا پاکستان” عوام کو امید دلاتا تھا۔
- 2000 کی دہائی: عمران خان کی پارٹی ایک محدود حلقے تک مقبول تھی۔
- 2011 کے جلسے: لاہور مینارِ پاکستان کا جلسہ عمران خان کی سیاست کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔
- 2018: پی ٹی آئی نے حکومت بنائی اور عمران خان وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
عمران خان کی حکومت نے غربت مٹانے اور عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کے کئی وعدے کیے۔ “احساس پروگرام”، “ہیلتھ کارڈ” اور “پناہ گاہ” جیسے منصوبے اسی بیانیے کا حصہ تھے۔
جواد احمد کی تنقید کی بنیاد
جواد احمد کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ہمیشہ غریب عوام کو جھوٹے خواب دکھائے اور ان کے جذبات سے کھیل کر اپنی سیاست کو مضبوط کیا۔ ان کی نظر میں:
- عوامی توقعات اور حقیقت کا فرق
عمران خان نے تبدیلی کا وعدہ کیا، لیکن ان کے دورِ حکومت میں مہنگائی، بیروزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا۔ - طبقاتی نظام پر کوئی ضرب نہیں لگی
جواد احمد کا ماننا ہے کہ عمران خان نے اسٹیٹس کو کے خلاف لڑنے کے بجائے پرانے سیاسی ڈھانچے کو ہی اپنا لیا۔ - سرمایہ داروں کے ساتھ تعلقات
عمران خان نے اپنے گرد وہی سرمایہ دار اور بااثر طبقہ اکٹھا کیا جن کے خلاف وہ پہلے بیانیہ دیتے تھے۔ - عوامی فلاح کے بجائے سیاسی کھیل
ان کے مطابق عمران خان نے زیادہ وقت اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے میں گزارا بجائے اس کے کہ حقیقی اصلاحات کرتے۔
Also read :گمنام ارب پتی نے اپنی ساری جائیداد معروف فٹبالر کے نام کردی — حیران کن فیصلہ
عوامی ردِ عمل
جواد احمد کے اس بیان پر عوام کی رائے دو حصوں میں تقسیم ہے:
- حمایتی نقطہ نظر:
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ عمران خان واقعی عوام کو خواب دکھاتے رہے اور عملی اقدامات ناکافی تھے۔ وہ جواد احمد کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ غریب طبقہ ہر دور میں دھوکا کھاتا آیا ہے۔ - مخالفتی نقطہ نظر:
عمران خان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے منصوبے جیسے “احساس کفالت”، “ہیلتھ کارڈ”، اور “پناہ گاہ” غریبوں کے لیے بڑے اقدامات تھے، اور جواد احمد کا یہ بیان صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے۔
عمران خان کی پالیسیوں کا جائزہ
- معاشی پالیسیاں
ان کے دور میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے ہوئے، ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور مہنگائی میں شدت آئی۔ غریب طبقہ براہ راست متاثر ہوا۔ - سماجی فلاحی پروگرام
“احساس پروگرام” جیسے اقدامات سے لاکھوں خاندانوں کو فائدہ ہوا، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مسائل کا مستقل حل نہیں بلکہ عارضی ریلیف تھا۔ - تعلیم اور صحت
عمران خان نے سرکاری اسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں اصلاحات کا وعدہ کیا، مگر نتائج محدود رہے۔ - بیرونی تعلقات
عالمی سطح پر بھی عمران خان کی حکومت کو چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات معیشت پر پڑے۔
جواد احمد کا متبادل بیانیہ
جواد احمد کی “برابری پارٹی” کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان میں طبقاتی نظام ختم کر کے مزدوروں اور کسانوں کو اصل طاقت دینا چاہتے ہیں۔
- ان کے مطابق ملک کی سیاست ہمیشہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے قبضے میں رہی ہے۔
- وہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان بھی انہی طاقتور طبقوں کا حصہ بن گئے۔
- جواد احمد کی تنقید کا مقصد یہ ہے کہ عوام کو ان وعدوں سے آگاہ کیا جائے جو کبھی پورے نہیں ہوئے۔
تجزیاتی پہلو
اگر سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے لی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ عمران خان نے عوام کو متاثر ضرور کیا لیکن ان کے وعدوں پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
- غریب طبقے نے ان سے بڑی امیدیں وابستہ کیں لیکن معاشی مشکلات میں کمی نہ آئی۔
- جواد احمد کی تنقید بنیادی طور پر انہی ناکامیوں پر مبنی ہے۔
- تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں کسی بھی حکومت کے لیے فوری تبدیلی لانا ایک مشکل چیلنج ہوتا ہے۔
نتیجہ
جواد احمد کا یہ بیان کہ “عمران نے ہمیشہ غریبوں کو پاگل بنایا ہے” دراصل پاکستان کے سیاسی کلچر پر ایک گہری تنقید ہے، جہاں ہر دور میں عوام کو خواب دکھائے جاتے ہیں مگر عملی اقدامات کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔
یہ بیان عوام کے لیے سوچنے کا موقع ہے کہ کیا وہ بار بار انہی وعدوں پر بھروسہ کریں یا پھر نئے متبادل سیاسی نظریات کو آزمانا چاہیئے۔
پاکستان کی سیاست میں عمران خان ایک اہم کردار ہیں، لیکن ان پر ہونے والی یہ تنقید یہ ظاہر کرتی ہے کہ عوامی توقعات اور سیاسی بیانیے میں اب بھی بڑا فرق موجود ہے۔ اگر مستقبل میں کسی بھی رہنما کو عوامی اعتماد حاصل کرنا ہے تو اسے محض خواب نہیں بلکہ عملی اقدامات سے اپنے وعدے پورے کرنے ہوں گے۔