بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے نہ صرف مقامی لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی شدید بحث چھیڑ دی۔ ایک دیوانی عاشقہ نے اپنے قتل ہونے والے عاشق کی لاش سے شادی کرکے محبت کی ایسی انوکھی مثال قائم کردی جس کی نظیر کم ہی ملتی ہے۔ یہ کہانی نہ صرف محبت کی شدت بیان کرتی ہے بلکہ معاشرتی رکاوٹوں، خاندانی دباؤ اور جذباتی ٹوٹ پھوٹ کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
محبت کی کہانی کہاں سے شروع ہوئی؟
رپورٹس کے مطابق مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والی انچل نامی لڑکی اور سکشم نامی نوجوان گزشتہ تین سال سے رشتے میں تھے۔ دونوں ایک دوسرے سے شدید محبت کرتے تھے اور جلد شادی کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ دونوں کے درمیان گہری قربت اور ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کا مکمل عزم تھا۔ تاہم ان کی محبت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود انچل کا خاندان بنا۔
انچل کے گھر والے اس رشتے کے سخت خلاف تھے۔ ان کے مطابق یہ رشتہ نہ صرف ان کے خاندانی اصولوں کے خلاف تھا بلکہ وہ چاہتے تھے کہ انچل کی شادی کہیں اور ہو۔ اس مخالفت نے دونوں کی زندگیوں میں شدید تناؤ پیدا کیا، لیکن اس کے باوجود جوڑہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑا رہا۔
حادثہ یا قتل؟ سکشم کی موت نے سب بدل دیا
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سکشم کو قتل کردیا گیا۔ یہ واقعہ اچانک پیش آیا اور انچل کی زندگی ایک لمحے میں اجڑ گئی۔ سکشم کی موت نے انچل کو توڑ کر رکھ دیا، لیکن اس کے دل میں موجود محبت کو ختم نہ کرسکی۔
انچل کے لیے یہ حقیقت ناقابلِ برداشت تھی کہ جس شخص کے ساتھ وہ زندگی گزارنے کا خواب دیکھ رہی تھی، وہ اس دنیا میں موجود ہی نہیں رہا۔ لیکن اس نے یہ فیصلہ کرلیا کہ چاہے دنیا کچھ بھی کہے، وہ سکشم سے اپنا تعلق ہمیشہ کے لیے قائم رکھے گی۔
لاش سے شادی — ایک غیر معمولی قدم
سکشم کی موت کے بعد جب اس کی آخری رسومات کی تیاری کی جارہی تھی، انچل نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو سب کو حیران کر گیا۔ اس نے اعلان کیا کہ وہ اپنے محبوب سے اس کی لاش کے ساتھ شادی کرے گی۔
کچھ قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے مطابق انچل نے اس قدم کو محبت کی تکمیل قرار دیا۔ اس کے مطابق:
“اگر زندگی میں اس سے شادی نہ ہوسکی، تو مرنے کے بعد ہی سہی۔”
لاش کے ساتھ شادی کی یہ رسم سادگی سے ادا کی گئی۔ انچل نے سکشم کی لاش کے پاس بیٹھ کر اس کے ہاتھ میں ہاتھ رکھا، روایتی رسومات ادا کیں اور اپنے محبوب کو ہمیشہ کے لیے اپنا شریکِ حیات تسلیم کرلیا۔
یہ منظر نہایت جذباتی تھا۔ موجود افراد کے مطابق ماحول میں نہ صرف غم تھا بلکہ انچل کے اس فیصلے نے سب کو حیرانی اور افسوس میں مبتلا کردیا۔
سماجی ردعمل — حمایت بھی، تنقید بھی
یہ واقعہ جیسے ہی سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز تک پہنچا، لوگ دو گروپوں میں تقسیم ہوگئے۔ کچھ افراد نے اسے محبت کی انتہائی شکل قرار دیا، جب کہ کئی لوگوں نے اسے جذباتی عدم توازن اور معاشرتی دباؤ کا نتیجہ کہا۔
کچھ نے کہا کہ انچل کو اتنی شدت کے ساتھ اس قدم پر مجبور کرنے والے دراصل وہ حالات تھے جنہوں نے اس کی محبت کو پہلے روکا، پھر اس سے ہمیشہ کے لیے چھین لیا۔
Also read :کیڈٹ کالج وانا پر کامیاب آپریشن: حملہ آور تمام خوارج ہلاک، 650 افراد محفوظ
معاشرتی دباؤ اور جذباتی ٹوٹ پھوٹ کا نوحہ
یہ واقعہ صرف ایک عجیب کہانی نہیں بلکہ بہت سے نوجوانوں کے سامنے آنے والی ایک بڑی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے:
خاندانی مخالفت، طبقاتی فرق، شادی پر غیر ضروری پابندیاں اور جذباتی عدم توازن اکثر نوجوان جوڑوں کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کردیتے ہیں جو معاشرے کے لیے حیران کن ہوتے ہیں۔
انچل اور سکشم کی کہانی محبت کے اس پہلو کو اجاگر کرتی ہے جس میں شادی محض دو افراد کا ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ معاشرے کی مداخلت کا شکار بھی ہوتی ہے۔
حقیقت سے زیادہ دردناک المیہ
سکشم کی موت کا غم اپنی جگہ، لیکن اس کی لاش سے شادی کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انچل محبت میں کس حد تک ڈوب چکی تھی۔ یہ واقعہ دردناک بھی ہے اور سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر کب معاشرہ نوجوانوں کو اپنی پسند کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی دے گا۔
آخر میں…
انچل کی اس کہانی نے نہ صرف بھارتی میڈیا بلکہ عالمی میڈیا کی بھی توجہ حاصل کی ہے۔ یہ ایک غیر معمولی، جذباتی اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جو محبت، غم اور معاشرتی دباؤ کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔
ڈسکلیمر (خبری نوعیت کا مضمون):
یہ خبر مختلف میڈیا رپورٹس اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ تازہ ترین اپڈیٹس، حقائق یا اضافی تفصیلات کے لیے براہِ راست مستند اور سرکاری نیوز ذرائع سے رجوع کریں۔