راولپنڈی کی اڈیالہ جیل ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں اور ممکنہ احتجاجی دباؤ کے باعث سیکیورٹی کے سخت حصار میں آچکی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے نامزد وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی نے اپنی جماعت کے کارکنوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ منگل کے روز صوبے کے ہر گاؤں سے لوگ اکٹھے کرکے اڈیالہ جیل پہنچیں۔ اس اعلان کے بعد جیل انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں نے ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
پس منظر: احتجاج کی کال اور سیاسی ماحول
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ کارکن اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہو کر اپنا سیاسی پیغام دیں گے۔ یہ ہدایت ایک ایسے وقت میں دی گئی جب ملک بھر میں سیاسی صورتحال مسلسل بدل رہی ہے اور مختلف مقدمات، گرفتاریوں اور قانونی معاملات کے باعث کارکنوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
پی ٹی آئی قیادت کا مؤقف ہے کہ اُن کے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، جس کے باعث وہ احتجاج کو اپنا جمہوری حق سمجھتے ہیں۔ تاہم، انتظامیہ کا موقف بالکل مختلف ہے اور وہ اسے سیکیورٹی رسک قرار دے رہی ہے۔
اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی کیوں سخت کی گئی؟
جیل حکام اور ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ
- اڈیالہ جیل کے علاقے میں کسی قسم کے احتجاج کی اجازت پہلے ہی موجود نہیں ہے۔
- ماضی میں جیل کے باہر بڑے احتجاجوں کے باعث ٹریفک اور حفاظتی مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں، جن کی بنیاد پر یہ علاقہ ممنوعہ احتجاجی زون قرار دیا گیا ہے۔
- حساس نوعیت کے مقدمات اور قیدیوں کی موجودگی کے باعث معمول سے زیادہ سیکیورٹی ضروری ہے۔
اسی لیے کسی بھی غیر متوقع یلغار یا مظاہرے کے خطرے کے پیش نظر فورسز کو چوکس کر دیا گیا ہے۔
انتظامیہ کے ممکنہ حفاظتی اقدامات
ذرائع کے مطابق درج ذیل سیکیورٹی اقدامات یقینی بنائے گئے ہیں:
1. اضافی نفری کی تعیناتی
رینجرز، پولیس، ایلیٹ فورس اور کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی اضافی ٹیمیں جیل کے اطراف تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی شورش ناک صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
2. داخلی و خارجی راستوں پر کنٹرول
- جیل جانے والے تمام رابطہ راستوں پر ناکے لگا دیے گئے ہیں۔
- صرف مجاز افراد کو آمد و رفت کی اجازت ہوگی۔
- مشکوک افراد کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔
3. ممکنہ شرپسند عناصر کی فہرستیں تیار
سیکیورٹی اداروں نے ایسے افراد کی فہرستیں مرتب کی ہیں جو ممکنہ طور پر کسی اشتعال انگیزی میں ملوث ہو سکتے ہیں۔
Also read:دیوانی لڑکی نے قتل ہونے والے عاشق کی لاش سے شادی کرلی — ایک دردناک مگر حیران کن محبت کی کہانی
4. ہنگامی پلان مرتب
اگر ہجوم قابو سے باہر نکلنے کی کوشش کرے تو:
- واٹر کینن،
- آنسو گیس،
- حفاظتی بیرئیر،
- گرفتاری یونٹس
کو متحرک کرنے کا پلان بھی تیار ہے۔
پی ٹی آئی کارکنوں کی متوقع آمد — انتظامیہ کی حکمت عملی
پی ٹی آئی کی کال کے باعث یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا سے قافلے منگل کی صبح یا دوپہر کے وقت راولپنڈی کی جانب روانہ ہوں گے۔
انتظامیہ نے واضح پیغام دیا ہے کہ:
- جیل کے قریب کسی بھی بڑے اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی۔
- شرپسندی کی صورت میں قانون حرکت میں آئے گا۔
- امن عامہ کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے۔
سیاسی حلقوں میں ردعمل
ملکی سیاسی حلقوں میں اس صورتحال پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں:
- کچھ حلقے اسے کارکنوں کا آئینی حق قرار دے رہے ہیں۔
- دوسری جانب حکومتی اور انتظامی ذرائع اسے ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش سمجھ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف کی اس کال سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب ملک انتخابی اور قانونی سرگرمیوں کے اہم مراحل سے گزر رہا ہے۔
عوامی خدشات اور ممکنہ اثرات
شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ:
- سڑکیں بند ہونے سے ٹریفک مسائل پیدا ہوں گے،
- روزمرہ کاروبار متاثر ہو سکتا ہے،
- ممکنہ تصادم سے صورتحال کشیدہ ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں کو ایسے حالات سے نمٹنے کے لئے بات چیت اور حکمت عملی کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ ملک کو افراتفری کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔
نتیجہ
اڈیالہ جیل کے باہر ممکنہ احتجاج اور کارکنوں کی یلغار کی کال نے انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر سیکیورٹی بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ سیاسی تناؤ بھی اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ آنے والے 24 گھنٹے اس حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
ڈائنامک ڈسکلیمر (خبری نوعیت کا مضمون)
ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور قابلِ اعتماد ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔ تازہ ترین اور حتمی معلومات کے لئے براہِ کرم سرکاری خبروں کے ذرائع اور متعلقہ اداروں سے جاری کردہ اپ ڈیٹس کو ضرور چیک کریں۔