لاہور: سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنے عہدے کی نزاکت کو سمجھنا چاہیے اور بات چیت کے دوران الفاظ کے انتخاب میں انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔ فواد چوہدری نے یہ بات ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہی، جس میں انہوں نے سہیل آفریدی کو نصیحت کی کہ وہ حوصلے سے کام لیں اور ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کسی بھی اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بیانات اور الفاظ کے اثرات کو مدنظر رکھے، کیونکہ عوامی عہدے داروں کی باتیں عوامی رائے پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاست میں اختلافات فطری ہیں، لیکن ان اختلافات کو ذاتی حملوں یا سخت جملوں کے ذریعے بڑھانے کے بجائے بہتر رویے اور گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “بیہودہ پروپیگنڈا” سے نہ صرف سیاسی فضا مزید کشیدہ ہوگی بلکہ اس سے عوامی اعتماد بھی متاثر ہوگا۔ فواد چوہدری نے خبردار کیا کہ اس طرح کی باتیں کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتیں، بلکہ نقصان سب کو ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں برداشت، مکالمہ اور شائستگی کا مظاہرہ ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
سابق وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ جیسے اہم عہدے کے حامل شخص کو ہر بیان دیتے وقت یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کے الفاظ نہ صرف عوام بلکہ اداروں اور مخالفین پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ سیاسی قیادت کو تنقید کا سامنا حوصلے سے کرنا چاہیے اور عوامی خدمت کے ایجنڈے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔
فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ اگر سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف ذاتی حملے اور پروپیگنڈا کرتے رہیں گے تو اس کا نقصان سیاسی نظام کو پہنچے گا۔ سیاست میں اخلاقیات اور برداشت کی اقدار کو فروغ دینا ہی وہ راستہ ہے جو جمہوریت کو مستحکم کرتا ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ وہ عوامی نمائندوں اور اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ بھی تحمل سے پیش آئیں۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حصہ ہے لیکن اختلاف کو دشمنی میں بدلنا نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الفاظ وہ ہتھیار ہیں جو اگر سوچ سمجھ کر استعمال کیے جائیں تو سیاسی ماحول میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں، لیکن اگر غیر ذمہ داری سے استعمال ہوں تو یہ انتشار اور نفرت کو جنم دیتے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ملک کو اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ سیاسی استحکام اور برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی رہنماؤں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ان کی گفتگو صرف چند افراد تک محدود نہیں رہتی بلکہ سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے لاکھوں لوگوں تک پہنچتی ہے، اس لیے ان کی ذمہ داری عام شہریوں سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر سیاسی رہنما باہمی احترام اور برداشت کا مظاہرہ کریں تو سیاسی درجہ حرارت میں کمی آئے گی، اور عوامی مسائل کے حل کے لیے زیادہ موثر پالیسی سازی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ قیادت کی اصل پہچان الفاظ نہیں بلکہ عمل اور کردار سے ہوتی ہے۔
فواد چوہدری نے اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کے مفاد میں فیصلے کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی عہدے دار کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی گفتگو، طرزِ عمل اور رویے سے وہ مثال قائم کرے جو عوام کے لیے مثبت پیغام کا باعث بنے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق فواد چوہدری کا یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں شائستگی اور تحمل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ حالیہ برسوں میں سیاسی کشیدگی اور بیان بازی نے معاشرتی تقسیم میں اضافہ کیا ہے، جس سے نہ صرف عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے بلکہ اداروں پر اعتماد بھی متاثر ہو رہا ہے۔
Also read:ہولناک حادثہ: سعودی عرب سے یمن جانے والی مسافر بس میں آگ بھڑک اٹھی، 30 افراد جاں بحق
یہ بیان اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کے الفاظ صرف ایک لمحے کے نہیں ہوتے بلکہ ان کا اثر طویل عرصے تک قائم رہتا ہے۔ لہٰذا، سیاست میں شائستگی، رواداری اور سنجیدگی کو فروغ دینا ہی جمہوری ترقی کی ضمانت ہے۔
فواد چوہدری کا یہ پیغام دراصل ایک یاد دہانی ہے کہ سیاست کا اصل مقصد خدمت ہے، نہ کہ مخالفین کو نیچا دکھانا۔ اگر تمام سیاسی قوتیں اس سوچ کو اپنائیں تو پاکستان میں سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد دونوں میں اضافہ ممکن ہے۔
ڈسکلیمر:
یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین معلومات کے لیے سرکاری اور مصدقہ ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔