ہولناک حادثہ: سعودی عرب سے یمن جانے والی مسافر بس میں آگ بھڑک اٹھی، 30 افراد جاں بحق

یمن کے جنوبی صوبے ابین میں پیش آنے والا ایک دل دہلا دینے والا حادثہ درجنوں قیمتی جانوں کو نگل گیا۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب سے یمن جانے والی ایک مسافر بس بدقسمتی سے المناک حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں 30 افراد زندہ جل کر جاں بحق ہو گئے۔

Advertisement

یہ حادثہ ابین کے علاقے العرقوب شاہراہ پر پیش آیا، جہاں مسافر بس اور ایک فوکسی برانڈ کی گاڑی کے درمیان خوفناک تصادم ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق، تصادم اتنا شدید تھا کہ بس کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور چند ہی لمحوں میں اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ شعلوں نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور اندر موجود مسافر باہر نکلنے سے قاصر رہے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق، حادثے کے فوراً بعد مقامی شہریوں اور امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ تاہم بس میں بھڑکنے والی آگ اتنی شدید تھی کہ ریسکیو ٹیموں کو لاشوں تک پہنچنے میں بھی خاصا وقت لگا۔ کئی لاشیں بری طرح جھلس چکی تھیں جن کی شناخت میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

Advertisement

ابتدائی معلومات کے مطابق، یہ بس سعودی عرب سے یمن واپس آنے والے یمنی مزدوروں کو لے کر جا رہی تھی۔ بس میں خواتین، بچے اور مرد مسافر شامل تھے، جن میں سے اکثریت کا تعلق یمن کے جنوبی علاقوں سے بتایا جا رہا ہے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی یمنی حکام نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ عہدیداروں کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تصادم تیز رفتاری اور ممکنہ طور پر ڈرائیور کی لاپرواہی کے باعث پیش آیا۔ کچھ اطلاعات کے مطابق فوکسی گاڑی نے مخالف سمت سے آنے والی بس کو ٹکر ماری جس کے نتیجے میں بس کا توازن بگڑ گیا اور وہ الٹ کر آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔

ریسکیو حکام کے مطابق، جائے حادثہ پر کم از کم پانچ فائر بریگیڈ گاڑیاں اور متعدد ایمبولینسیں بھیجی گئیں۔ جھلسنے والے چند مسافروں کو شدید زخمی حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق کئی زخمیوں کے جسم کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ جھلس چکا ہے۔

حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر اس واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہو گئیں، جنہیں دیکھ کر ہر کوئی افسوس اور صدمے میں مبتلا ہے۔ عرب سوشل میڈیا صارفین نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حادثے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

عرب نیوز ایجنسیوں کے مطابق، یمن کے جنوبی صوبے میں حالیہ مہینوں کے دوران یہ دوسرا بڑا ٹریفک حادثہ ہے۔ اس سے قبل بھی ایک مسافر وین کے الٹنے سے درجنوں افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن میں سڑکوں کی خستہ حالی، ٹریفک قوانین کی عدم پابندی اور گاڑیوں کی ناقص حالت اکثر ایسے سانحات کا باعث بنتی ہے۔

ایک یمنی عہدیدار نے بتایا کہ حکومت مقامی سطح پر سڑکوں کی مرمت اور ٹریفک آگاہی مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ایسے حادثات کی روک تھام کی جا سکے۔ تاہم، موجودہ حالات میں فوری طور پر متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی رقم اور ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

یمنی شہریوں نے اس حادثے کو ایک قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے حکومت اور بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک نظام کی بہتری اور مسافر بسوں کے حفاظتی معیارات پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کریں۔

اس واقعے نے نہ صرف یمن بلکہ پورے عرب خطے میں دکھ اور غم کی لہر دوڑا دی ہے۔ سوشل میڈیا پر متاثرین کے لیے دعا گو پیغامات اور ہمدردی کے اظہار جاری ہیں۔

یاد رہے کہ یمن اور سعودی عرب کے درمیان مزدوری کے لیے ہزاروں یمنی شہری روزانہ سفر کرتے ہیں۔ اس طرح کے طویل فاصلے کے سفر میں پرانی بسوں اور ناکافی حفاظتی انتظامات کی وجہ سے حادثات کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو سخت ضابطہ اخلاق کے تحت لایا جائے تو مستقبل میں ایسے سانحات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

واقعے کے بعد یمنی حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے خصوصی امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حادثے کی مکمل رپورٹ جلد از جلد پیش کریں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ انسانی جان کی حفاظت کے لیے سفری سہولیات میں معیار، احتیاط، اور نگرانی ناگزیر ہیں۔ اگر ٹریفک قوانین پر عمل درآمد، ڈرائیوروں کی تربیت، اور سڑکوں کی بحالی پر توجہ نہ دی گئی تو ایسے المناک سانحات کا خطرہ برقرار رہے گا۔


ڈسکلیمر:
یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع پر مبنی ہے۔ قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ تازہ ترین معلومات اور اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری نیوز ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔

Leave a Comment