پاکستانی ڈراموں میں غیر ضروری مناظر کا بڑھتا ہوا رجحان — کہانی کی روح کہاں گم ہو گئی؟

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری ایک وقت میں اپنی مضبوط کہانیوں، معیاری اسکرپٹس، اور خاندانی اقدار پر مبنی موضوعات کے لیے پہچانی جاتی تھی۔ ماضی کے ڈرامے جیسے دھوپ کنارے، آنہ، تنہائیاں یا الفا براوو چارلی ناظرین کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں، کیونکہ ان میں کہانی کی روانی، کرداروں کی گہرائی، اور معاشرتی پہلوؤں کی حقیقی عکاسی موجود تھی۔ لیکن حالیہ برسوں میں صورتحال کچھ مختلف دکھائی دے رہی ہے۔

Advertisement

ناظرین اور ناقدین کے مطابق، آج کے بیشتر ڈراموں میں غیر ضروری اور غیر متعلقہ مناظر شامل کر دیے جاتے ہیں جو کہانی کے تسلسل کو توڑ دیتے ہیں۔ حال ہی میں ڈرامہ “میری بہوئیں” میں فابیہ کی ماں کے ڈیلیوری سین کو لے کر سوشل میڈیا پر کافی بحث ہوئی۔ بہت سے ناظرین کا کہنا تھا کہ یہ سین نہ صرف غیر ضروری تھا بلکہ اس نے ڈرامے کی کہانی کی روانی کو بھی متاثر کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسے مناظر شامل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟

ریٹنگ کی دوڑ اور تخلیقی انحطاط

ایک اہم وجہ ٹی آر پی اور ریٹنگ کی دوڑ ہے۔ پروڈیوسرز اور چینلز کا مقصد اب صرف کہانی سنانا نہیں رہا بلکہ زیادہ سے زیادہ ویورشپ حاصل کرنا بن چکا ہے۔ اسی مقصد کے تحت کئی بار ایسے مناظر شامل کر دیے جاتے ہیں جو جذباتی یا چونکا دینے والے ہوں، تاکہ ناظرین کی توجہ حاصل کی جا سکے۔ تاہم، یہ حکمتِ عملی اکثر الٹا اثر ڈالتی ہے، کیونکہ جب کہانی کی بنیاد کمزور ہو تو محض سنسنی خیزی اسے سہارا نہیں دے سکتی۔

Advertisement

مواد کی سمت میں تبدیلی

پاکستانی معاشرہ روایتی طور پر خاندانی اقدار اور اخلاقیات کو نمایاں کرتا ہے، مگر آج کے ڈراموں میں اکثر ایسی کہانیاں دکھائی جا رہی ہیں جو ان اقدار سے متصادم ہیں۔ شادی شدہ تعلقات میں بے وفائی، غیر اخلاقی رشتے، یا ذاتی دشمنیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ایک عام رجحان بن چکا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف مواد کے معیار کو متاثر کرتی ہے بلکہ ناظرین کے ذوق کو بھی بدل رہی ہے۔

Also read:مدتِ طویلہ تک شوہر کے بغیر رہنے سے نکاح کا حکم

فنکاروں اور مصنفین کا کردار

بعض اداکار اور مصنفین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ڈرامہ انڈسٹری کو تخلیقی آزادی حاصل ہونی چاہیے، تاکہ وہ مختلف موضوعات کو اجاگر کر سکے۔ تاہم، تخلیقی آزادی اور غیر ذمہ دارانہ مواد کے درمیان ایک باریک لکیر ہے۔ جب کہانی کی ضرورت کے بغیر جذباتی یا متنازع مناظر شامل کیے جائیں، تو وہ آرٹ نہیں بلکہ محض ریٹنگ حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

ناظرین کی توقعات

دلچسپ بات یہ ہے کہ آج بھی پاکستانی ناظرین وہی ڈرامے زیادہ پسند کرتے ہیں جن میں کہانی مضبوط اور کردار حقیقت سے قریب ہوں۔ کدی تے ہنس بول، ہمسفر، پیار کے صدقے یا کچھ ان کہی جیسے ڈرامے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر کہانی میں دم ہو تو بغیر غیر ضروری مناظر کے بھی مقبولیت حاصل کی جا سکتی ہے۔

معاشرتی اثرات

ٹی وی ڈرامے معاشرتی رویوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ جب ہر دوسرے ڈرامے میں تنازعات، چیخ و پکار، یا غیر ضروری مناظر دکھائے جائیں تو اس کا اثر ناظرین کے لاشعور پر پڑتا ہے۔ نوجوان نسل ان مناظر کو معمول سمجھنے لگتی ہے، اور خاندانی تعلقات میں رواداری اور برداشت کی جگہ جارحیت اور بداعتمادی نے لے لی ہے۔

اصلاح کی ضرورت

ڈرامہ انڈسٹری کو دوبارہ اپنی اصل روح کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے — یعنی کہانی سنانے کی طاقت۔ اگر مصنفین، ہدایتکار اور پروڈیوسرز اجتماعی طور پر اس بات کا عزم کریں کہ وہ صرف ریٹنگ نہیں بلکہ معیاری مواد تخلیق کریں گے تو پاکستانی ڈرامہ ایک بار پھر سنجیدہ ناظرین کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے۔

ناظرین کا کردار

ناظرین کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے۔ جب ہم سنجیدہ اور معیاری مواد دیکھنے کو ترجیح دیں گے، تو پروڈیوسرز بھی معیار کی طرف لوٹنے پر مجبور ہوں گے۔ آخرکار، ناظرین ہی وہ طاقت ہیں جو مواد کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔

نتیجہ

ڈرامہ محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرتی تعلیم کا ایک پلیٹ فارم بھی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ غیر ضروری مناظر، مصنوعی جذبات اور غیر حقیقی کہانیاں نہ صرف فن کی توہین ہیں بلکہ ناظرین کے وقت اور جذبات کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے ٹی وی ڈراموں میں معیار، معنویت اور سادگی کو واپس لائیں تاکہ نئی نسل کو بہتر مواد فراہم کیا جا سکے۔


ڈسکلیمر:
یہ تحریر صرف معلوماتی اور تجزیاتی مقاصد کے لیے پیش کی گئی ہے۔ اس میں بیان کردہ آراء عمومی مشاہدے پر مبنی ہیں۔ قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی فیصلے یا رائے سے قبل معتبر ذرائع سے معلومات کی تصدیق کریں۔

Leave a Comment