اسلامی شریعت میں نکاح ایک نہایت اہم اور مقدس رشتہ ہے جو صرف مرد اور عورت کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔ اس رشتے کی بنیاد محبت، اعتماد اور وفاداری پر قائم ہوتی ہے۔ بہت سے اوقات میں ازدواجی زندگی میں اختلافات، فاصلہ یا علیحدگی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، اور سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر ایک عورت طویل عرصے تک اپنے شوہر سے علیحدہ رہتی ہے، تو کیا اس کے نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے؟ کیا محض لمبے عرصے تک دوری رہنے سے نکاح ختم ہو جاتا ہے؟
نکاح کی حیثیت شریعت میں
اسلامی قانون کے مطابق نکاح ایک مضبوط اور قانونی معاہدہ ہے جو مخصوص الفاظ کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔ اس معاہدے کو ختم کرنے کے لیے بھی شریعت نے واضح اصول اور طریقے بتائے ہیں — یعنی طلاق (شوہر کی طرف سے)، خلع (عورت کی درخواست پر) یا فسخ نکاح (عدالتی طور پر). اگر ان میں سے کوئی عمل انجام نہیں پایا تو نکاح اپنی جگہ برقرار رہتا ہے، خواہ دونوں کے درمیان دوری یا عدم رہائش کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو۔
محض علیحدگی سے نکاح ختم نہیں ہوتا
شریعت کے مطابق، اگر ایک عورت اپنے شوہر سے دور رہ رہی ہے، لیکن شوہر نے اسے طلاق نہیں دی، اور عدالت یا شرعی طریقے سے نکاح فسخ نہیں ہوا، تو محض فاصلہ یا ناراضگی سے نکاح ختم نہیں ہوتا۔
یعنی عورت اگر کئی سالوں تک بھی شوہر کے بغیر رہے، تب بھی وہ شرعاً اسی کی بیوی شمار ہوگی جب تک کہ طلاق یا فسخ نکاح کا کوئی جائز طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔
دوسری شادی کا حکم
اگر عورت طلاق لیے بغیر یا نکاح کے خاتمے کی شرعی تصدیق کے بغیر دوسری شادی کرتی ہے، تو ایسا نکاح باطل اور ناجائز قرار پاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں بھی واضح طور پر ارشاد ہے کہ:
“اور نکاح نہ کرو ان عورتوں سے جو کسی دوسرے کے عقدِ نکاح میں ہوں، یہاں تک کہ وہ اپنے شوہروں سے جدا ہو جائیں۔”
(سورۃ النساء: 24)
لہٰذا، جب تک پہلے نکاح کا تعلق شرعاً ختم نہ ہو جائے، دوسری شادی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
عملی صورتِ حال اور شرعی رہنمائی
اکثر اوقات ایسی عورتیں معاشرتی دباؤ یا مالی مجبوری کے باعث یا شوہر کے لاپتہ ہونے کی وجہ سے اس مسئلے کا سامنا کرتی ہیں۔ ایسی صورت میں شریعت نے عورت کے لیے کچھ حل تجویز کیے ہیں:
- اگر شوہر زندہ ہے اور طلاق نہیں دی:
عورت عدت کے بغیر کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کر سکتی۔ اسے چاہیے کہ شوہر سے رابطہ کرے یا باہمی رضامندی سے خلع کا معاملہ طے کرے۔ - اگر شوہر لاپتہ ہے:
فقہاء نے اس صورت میں بھی ہدایت دی ہے کہ اگر شوہر چار سال یا اس سے زیادہ عرصے تک لاپتہ رہے اور اس کے زندہ ہونے کا کوئی سراغ نہ ملے تو عورت قاضی یا عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔ عدالت تحقیقات کے بعد نکاح فسخ کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ - اگر شوہر راضی نہ ہو یا ظلم کرتا ہو:
ایسی عورت کو بھی عدالت کے ذریعے فسخ نکاح کا حق حاصل ہے، بشرطیکہ وہ ثابت کرے کہ ازدواجی زندگی نبھانا ممکن نہیں۔
معاشرتی پہلو
اسلامی معاشرہ عورت کو بے سہارا چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔ شوہر کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کے حقوق ادا کرے، اور اگر کسی وجہ سے ازدواجی تعلقات برقرار نہیں رکھ سکتا، تو بہتر یہ ہے کہ طلاق دے کر عورت کو آزاد کرے۔ اسی طرح عورت کو بھی چاہیے کہ شرعی تقاضوں کے مطابق اپنا حق حاصل کرے، نہ کہ اپنی مرضی سے نکاح ختم سمجھ کر دوسری شادی کر لے۔
نتیجہ
شرعاً محض شوہر کے بغیر لمبے عرصے تک رہنے سے نکاح ختم نہیں ہوتا۔ جب تک طلاق، خلع یا عدالتی فسخ نہ ہو، نکاح برقرار رہتا ہے۔ عورت کو دوسری شادی سے پہلے اپنے موجودہ نکاح کے اختتام کی شرعی تصدیق لازمی حاصل کرنی چاہیے۔ بصورتِ دیگر نئی شادی باطل شمار ہوگی، اور دونوں فریق گناہ کے مرتکب ہوں گے۔
اسلامی اصول ہمیں یہی سکھاتے ہیں کہ ازدواجی مسائل میں صبر، گفت و شنید اور شریعت کی رہنمائی کو اختیار کیا جائے، تاکہ نہ صرف دینی احکام کی پابندی ہو بلکہ معاشرتی سکون بھی قائم رہے۔
ڈس کلیمر:
یہ مضمون صرف معلوماتی اور تعلیمی مقاصد کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی شرعی یا ازدواجی فیصلے سے قبل مستند دینی علماء یا معتبر اسلامی اداروں سے رجوع کریں تاکہ درست رہنمائی حاصل ہو سکے۔