راولپنڈی: غیر قانونی مقیم افغانیوں کے لیے بری خبر

راولپنڈی (نمائندہ خصوصی) — راولپنڈی میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے نہ صرف غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغانیوں کو حراست میں لینا شروع کر دیا ہے بلکہ ان پاکستانی شہریوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جو افغان باشندوں کو پناہ یا سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

Advertisement

تفصیلات کے مطابق تھانہ جاتلی اور تھانہ مورگاہ پولیس نے افغان شہریوں کو پناہ دینے کے الزام میں دو الگ الگ مقدمات درج کیے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ان مقدمات میں افغان باشندوں زاہد خان اور محمد امین کو نامزد کیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ملزمان کے پاس پاکستان میں قیام کے لیے کوئی قانونی ویزا یا اجازت نامہ موجود نہیں تھا۔

پولیس کے مطابق تھانہ جاتلی کے علاقے میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران زاہد خان کو گرفتار کیا گیا جو بغیر کسی قانونی اجازت کے ایک مقامی رہائشی کے مکان میں رہائش پذیر تھا۔ دورانِ تفتیش یہ بھی معلوم ہوا کہ مذکورہ پاکستانی میزبان کو معلوم تھا کہ افغان شہری کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہیں ہیں، اس کے باوجود اس نے اسے پناہ دی۔

Advertisement

اسی طرح تھانہ مورگاہ پولیس نے ایک الگ کارروائی میں افغان شہری محمد امین کو گرفتار کیا، جو عرصہ دراز سے راولپنڈی میں غیر قانونی طور پر مقیم تھا۔ پولیس کے مطابق محمد امین کے میزبان پاکستانی شہری کے خلاف بھی دفعہ 14 فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، وزارتِ داخلہ کی ہدایات پر پنجاب پولیس نے غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں خصوصاً افغان شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ راولپنڈی، اٹک، جہلم اور چکوال سمیت دیگر اضلاع میں بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جو بھی شہری غیر قانونی افراد کو پناہ یا سہولت فراہم کرے گا، اسے قانون کے مطابق سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Also read:لگتا ہے بھارت سمندر کے راستے کوئی فالس فلیگ آپریشن کرے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

پولیس حکام کے مطابق یہ اقدامات حکومتِ پاکستان کے اس فیصلے کے تحت کیے جا رہے ہیں جس کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ملک سے واپس بھیجا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور داخلی نظم و نسق کو بہتر بنانا ہے۔

ادھر شہریوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کسی غیر ملکی کو بغیر قانونی اجازت اپنے مکان، دوکان یا کسی بھی جگہ پر ٹھہرانے سے گریز کریں۔ اگر کسی شہری کو معلوم ہو کہ کوئی غیر ملکی غیر قانونی طور پر مقیم ہے تو وہ فوراً متعلقہ تھانے یا ضلعی انتظامیہ کو اطلاع دے۔

پولیس نے واضح کیا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ جو بھی شہری غیر قانونی مقیم افراد کو سہولت فراہم کرے گا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، چاہے وہ کسی بھی حیثیت یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مزید کہا ہے کہ بعض افغان شہری جعلی شناختی کارڈز اور دستاویزات کے ذریعے پاکستان میں قیام پذیر ہیں، جن کی نشاندہی کے لیے نادرا اور حساس ادارے بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مشتبہ افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال تیزی سے جاری ہے اور ایسے تمام افراد کو ملک بدر کرنے کے لیے فہرستیں تیار کی جا رہی ہیں۔

عوامی سطح پر بھی اس کارروائی کے مثبت اور منفی ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے، کیونکہ غیر قانونی مقیم افراد کی موجودگی بعض اوقات جرائم اور غیر قانونی سرگرمیوں میں اضافہ کرتی ہے۔ تاہم بعض شہریوں کا خیال ہے کہ انسانی بنیادوں پر حکومت کو ایسے افراد کے لیے نرمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے جو کئی برسوں سے یہاں آباد ہیں اور پاکستان میں ان کا روزگار یا خاندان قائم ہے۔

ادھر افغان سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ حکومتِ پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور قانونی طریقے سے واپس جانے والے افغان شہریوں کے لیے سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی، اور کسی بھی شہری کو قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔


ڈائنامک ڈسکلیمر
یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اور مصدقہ معلومات کے لیے سرکاری نیوز آؤٹ لیٹس سے تصدیق ضرور کریں۔

Leave a Comment