مذاکرات کی آڑ میں افغانستان کی منافقانہ پالیسیاں

استنبول میں ہونے والے حالیہ پاک افغان مذاکرات کے باوجود سرحدی صورتحال میں بہتری کی بجائے مزید کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔ بظاہر افغانستان مذاکرات کی میز پر امن و تعاون کی بات کرتا ہے، مگر عملاً اس کی پالیسیوں میں منافقت اور دوغلا پن نمایاں ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے شمالی وزیرستان کے علاقے میں افغان سرزمین سے فتنۃ الخوارج یعنی دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ کابل حکومت کے دعوے اور زمینی حقائق میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بہادری اور چابک دستی سے یہ کوشش ناکام بناتے ہوئے 25 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا، تاہم اس دوران پاک فوج کے 5 جوانوں نے مادرِ وطن کی خاطر جامِ شہادت نوش کیا۔

Advertisement

یہ واقعہ نہ صرف دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ افغانستان کے اندر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ طالبان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد توقع تھی کہ افغان سرزمین اب کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، مگر افسوس کہ یہ امیدیں بار بار ٹوٹ رہی ہیں۔ پاکستانی حکام بارہا واضح کر چکے ہیں کہ اگر افغانستان اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کو پناہ دینے اور ان کی معاونت کا سلسلہ بند نہیں کرتا تو دو طرفہ تعلقات پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

افغانستان کی موجودہ حکومت کی منافقانہ روش کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک طرف وہ عالمی برادری سے مالی امداد اور سیاسی قبولیت کے لیے امن پسندی کا تاثر دیتی ہے، مگر دوسری طرف اپنی سرزمین پر ایسے گروہوں کو فعال رکھتی ہے جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ طالبان انتظامیہ کے لیے یہ ایک امتحان ہے کہ آیا وہ واقعی ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خود کو منوانا چاہتی ہے یا پرانی روش پر قائم رہنا چاہتی ہے۔

Advertisement

پاکستان، جو گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی قربانیاں دے چکا ہے، اب مزید کسی کو اپنی سلامتی سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ شمالی وزیرستان کے حالیہ واقعے کے بعد پاکستان نے افغان حکام کو سخت پیغام دیا ہے کہ دوستی کا تقاضا یہی ہے کہ ایک دوسرے کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جائے۔ اگر افغانستان کی حکومت اس ضمن میں مؤثر اقدامات نہیں کرتی تو پاکستان کے پاس اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے تمام آپشنز کھلے ہیں۔

دوسری جانب، پاکستانی عوام اور مسلح افواج کا عزم ہمیشہ کی طرح غیر متزلزل ہے۔ قوم نے ایک بار پھر اپنے شہیدوں کے لیے فخر کا اظہار کیا ہے، کیونکہ یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وطن عزیز کے دفاع میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی افواج کی بروقت کارروائی نے نہ صرف ایک بڑے خطرے کو ٹال دیا بلکہ دہشت گردوں کے عزائم کو بھی ناکام بنایا۔

علاقائی امن کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرے، ان کے خلاف عملی اقدامات کرے اور پاکستان کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنے۔ مذاکرات کا مقصد اگر صرف وقت حاصل کرنا اور دنیا کو دھوکہ دینا ہے تو ایسے مذاکرات بے معنی ہیں۔ اصل امن تب ہی ممکن ہے جب نیت صاف ہو اور عمل میں خلوص پایا جائے۔

Also read:لگتا ہے بھارت سمندر کے راستے کوئی فالس فلیگ آپریشن کرے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

اس تمام صورتحال میں عالمی برادری کا کردار بھی اہم ہے۔ اگر دنیا واقعی خطے میں امن چاہتی ہے تو اسے افغانستان پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرے اور دہشت گرد گروہوں کو نہ صرف قابو میں لے بلکہ ان کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ پاکستان نے بارہا اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ہے، مگر امن صرف ایک فریق کی کوششوں سے قائم نہیں ہو سکتا۔

افغانستان کی منافقانہ پالیسیوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نازک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ اگر کابل نے اپنے رویے میں سنجیدگی نہ دکھائی تو مستقبل میں خطے کا امن ایک بار پھر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ امن کی قیمت ہمیشہ چکانی پڑتی ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اب کسی بھی قیمت پر اپنی سرزمین کو غیر محفوظ نہیں ہونے دے گا۔

آخر میں، ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان کے حکمران سمجھیں کہ مذاکرات کی آڑ میں منافقت زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ اگر وہ واقعی ایک مستحکم اور پرامن خطے کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے قول و فعل میں یکسانیت لانی ہوگی، ورنہ تاریخ انہیں ایک غیر ذمہ دار حکومت کے طور پر یاد رکھے گی۔ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے، مگر کمزور نہیں۔ ہماری افواج، عوام، اور ریاست سب ایک صف میں کھڑے ہیں — دشمن چاہے کسی بھی بھیس میں ہو، اس کا انجام شکست ہی ہوگا۔


ڈسکلیمر:
یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین معلومات کے لیے سرکاری اور مستند نیوز ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔

Leave a Comment