فیصل آباد کے اقبال سٹیڈیم میں آج ایک تاریخی لمحہ رقم ہو گیا، جب 17 سال کے طویل انتظار کے بعد بین الاقوامی کرکٹ ایک بار پھر اس شہر میں لوٹ آئی۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان پہلا ون ڈے میچ تین نومبر 2025 کو کھیلا جا رہا ہے، جس نے فیصل آباد کے کرکٹ شائقین کے جوش و خروش کو نئی زندگی بخشی ہے۔
اقبال سٹیڈیم، جو کبھی پاکستانی کرکٹ کا ایک نمایاں مرکز تھا، 2008 کے بعد بین الاقوامی مقابلوں سے محروم رہا۔ سکیورٹی خدشات، بین الاقوامی ٹیموں کی عدم دستیابی اور دیگر مسائل کے باعث فیصل آباد کی کرکٹ منظر سے اوجھل ہو گئی تھی۔ تاہم، اب حالات میں بہتری اور پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں شہر کو ایک بار پھر عالمی کرکٹ کے نقشے پر نمایاں مقام حاصل ہو گیا ہے۔
تاریخی پس منظر
اقبال سٹیڈیم میں آخری انٹرنیشنل میچ 2008 میں کھیلا گیا تھا، جب پاکستان نے زمبابوے کی میزبانی کی۔ اس کے بعد ملک میں دہشت گردی کی لہر اور بین الاقوامی ٹیموں کے انکار نے پاکستانی میدانوں کو خاموش کر دیا۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں سری لنکا، بنگلہ دیش، نیوزی لینڈ، اور ویسٹ انڈیز جیسی ٹیموں کی آمد نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے محفوظ اور پرجوش ملک ہے۔ فیصل آباد میں میچ کا انعقاد اسی بحالی کا تسلسل ہے۔
عوام کا جوش و خروش
میچ سے قبل ہی فیصل آباد کی سڑکیں، بازار، اور ہوٹل کرکٹ کے رنگ میں رنگے دکھائی دیے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، اور محمد رضوان کے پوسٹرز آویزاں کیے گئے۔ شہریوں نے اپنے گھروں اور گاڑیوں پر پاکستانی پرچم لہرا کر اپنی محبت اور جذبے کا اظہار کیا۔
اسٹیڈیم کے باہر شائقین کی لمبی قطاریں نظر آئیں، جن میں بچے، خواتین، اور بزرگ سب شامل تھے۔ کئی شائقین نے بتایا کہ انہوں نے بچپن میں یہاں کرکٹ دیکھی تھی اور اب اپنے بچوں کے ساتھ دوبارہ وہ لمحے جینے آئے ہیں۔
ٹیموں کی تیاری
پاکستانی کپتان بابر اعظم نے میچ سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد میں کھیلنا ان کے لیے ایک خاص احساس ہے۔ انہوں نے کہا،
“یہ شہر ہمیشہ کرکٹ سے محبت کرتا آیا ہے۔ 17 سال بعد یہاں میچ کھیلنا ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملے۔”
جنوبی افریقہ کی ٹیم کے کپتان نے بھی پاکستان کے گرمجوش استقبال کو سراہا اور کہا کہ پاکستانی شائقین کا جوش دنیا میں بے مثال ہے۔ دونوں ٹیموں نے میچ سے ایک دن قبل اقبال سٹیڈیم میں نیٹ پریکٹس کی، جہاں پاکستانی اسپنرز نے وکٹ کے رویے کا بغور مطالعہ کیا۔
اسٹیڈیم کی تیاری اور سکیورٹی انتظامات
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اقبال سٹیڈیم کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا ہے۔ فلڈ لائٹس کو اپ گریڈ کیا گیا، نئی ڈیجیٹل اسکرینز نصب کی گئیں، اور تماشائیوں کے لیے 15 ہزار نشستوں پر مشتمل جدید انکلوژرز تیار کیے گئے ہیں۔
سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس، رینجرز، اور اسپیشل فورسز نے اسٹیڈیم کے اندر اور باہر حصار قائم کر رکھا ہے۔ ڈرون نگرانی، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ، اور خصوصی روٹس کے ذریعے ٹیموں کی آمدورفت کو محفوظ بنایا گیا ہے۔
Also read:سیمنٹ کی برآمد اکتوبر 2025 میں بھی منفی نمو کا شکار
فیصل آباد کی معیشت پر اثر
میچ کے موقع پر فیصل آباد کی معیشت کو بھی عارضی فروغ ملا ہے۔ ہوٹلوں میں کمرے مکمل طور پر بک ہو چکے ہیں، جبکہ ریستورانوں، ٹرانسپورٹ، اور دکانداروں کے کاروبار میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیڈیم کے قریب موجود تاجروں کا کہنا ہے کہ “کرکٹ کی واپسی نے ہمارے کاروبار میں نئی جان ڈال دی ہے۔”
عوامی ردعمل اور سوشل میڈیا پر جوش
سوشل میڈیا پر فیصل آباد کے میچ کا ہیش ٹیگ #FaisalabadReturns عالمی سطح پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔ صارفین نے تصاویر، ویڈیوز، اور یادیں شیئر کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔ کئی معروف کرکٹرز اور مبصرین نے بھی ٹویٹس کے ذریعے فیصل آباد میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کو پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔
مستقبل کی توقعات
PCB کے مطابق، اگر یہ سیریز کامیاب رہی تو فیصل آباد کو مزید انٹرنیشنل میچز اور پی ایس ایل کے مقابلے بھی دیے جائیں گے۔ کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیڈیم کی بحالی اور عوامی دلچسپی پاکستان کرکٹ کے نئے دور کی شروعات ثابت ہو سکتی ہے۔
نتیجہ
17 سال بعد فیصل آباد میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی نہ صرف کھیل کے لیے بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ کے لیے بھی ایک خوش آئند قدم ہے۔ یہ میچ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی عوام کی کرکٹ سے محبت کبھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔
ڈسکلیمر:
یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔ قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ تازہ ترین معلومات کے لیے سرکاری نیوز چینلز یا مستند ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔