پاکستان کی سیمنٹ انڈسٹری کو ایک اور مشکل ماہ کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ اکتوبر 2025 میں برآمدات اور فروخت کے اعدادوشمار نے مخلوط تصویر پیش کی ہے۔ ذیل میں اس صورتِ حال کی تفصیلات پیش ہیں:
اہم اعداد و شمار
- آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (APCMA) کے مطابق اکتوبر 2025 میں مقامی مارکیٹ میں سیمنٹ کی فروخت 3.926 ملین ٹن رہی، جو اکتوبر 2024 میں 3.409 ملین ٹن تھی — اس طرح ماہ بہ ماہ 15.17 فیصد کا اضافہ ہوا۔
- مگر برآمدات کی صورتحال مایوس کن رہی: اکتوبر 2024 میں برآمدات کا حجم 1.081 ملین ٹن تھا جو اکتوبر 2025 میں کم ہو کر 0.827 ملین ٹن رہ گیا، یعنی 23.44 فیصد کی نمایاں کمی۔
- نتیجتاً، اکتوبر 2025 میں سیمنٹ کی کل فروخت (مقامی + برآمدات) 4.754 ملین ٹن رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی مہینے میں یہ 4.490 ملین ٹن تھی — یعنی 5.87 فیصد کا معمولی اضافہ۔
- مزید یہ کہ، اس مالی سال کے پہلے چار مہینوں کے دوران، مقامی اور برآمدی فروخت کا مجموعہ 17.265 ملین ٹن رہا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران 14.951 ملین ٹن تھا — 15.48 فیصد کی نمو ظاہر کرتی ہے۔
- اس مدت میں مقامی فروخت 13.849 ملین ٹن تھی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 11.728 ملین ٹن تھی — یعنی مقامی فروخت میں 18.09 فیصد اضافہ۔
- برآمدات نے اس چار مہینوں کی مدت میں 3.416 ملین ٹن کی سطح عبور کی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 3.223 ملین ٹن تھی — یعنی برآمدی فروخت میں 5.97 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
تشریح و تجزیہ
اس اعداد و شمار سے چند اہم نکات واضح ہوتے ہیں:
- مقامی مارکیٹ کی مضبوطی:
مقامی فروخت میں ماہانہ اور سالانہ لحاظ سے اچھی بڑھوتری دیکھنے کو ملی ہے۔ اکتوبر 2025 میں مقامی فروخت میں 15.17 فیصد اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اندرونی مارکیٹ میں طلب نسبتاً بہتر رہی۔ - برآمداتی شعبے کی کمزوری:
تاہم، برآمدات کی بہت بڑی کمی تشویش کا باعث ہے۔ 23.44 فیصد کی کمی صرف اکتوبر کے مہینے کے لیے اہم ہے، کیونکہ بیرون ملک منڈیوں میں پاکستانی سیمنٹ کی رسائی، مقابلہ اور لاجسٹک چیلنجز ابھر رہے ہیں۔
APCMA کے ترجمان نے بھی نشاندہی کی ہے کہ “اگر یہ رجحان جاری رہا تو یہ سیمنٹ سیکٹر کی بحالی کی امیدوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، حکومت برآمدات کے لیے معاون اقدامات کرے تاکہ پاکستانی سیمنٹ کو غیر ملکی منڈیوں کے لیے زیادہ مسابقتی اور پرکشش بنایا جا سکے۔” - مجموعی نمو کا تاثر:
اگرچہ برآمدات میں کمی ہوئی ہے، مگر مجموعی فروخت چار ماہ کی مدت میں 15.48 فیصد سے بڑی ہے، جس کی وجہ مقامی فروخت کا مضبوط ہونا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ اندرونی طلب نے سہارے کا کردار کیا ہے، اگرچہ بیرون ملک صورتحال کمزور رہی۔ - خطرے کی گھنٹی:
برآمدات میں مسلسل کمی دو ماہ سے جاری ہے، اور یہ تسلسل اگر نہ رکا تو صنعت کو طویل مدت میں منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے — نہ صرف کاروباری سطح پر بلکہ ملکی معیشت اور صنعت کے اعتماد پر بھی۔
ممکنہ وجوہات
کچھ ممکنہ عوامل جنہوں نے اس منفی رجحان کو متاثر کیا ہو سکتے ہیں:
- بیرون ملک مارکیٹ میں مقابلہ بڑھنا، جہاں دیگر ممالک نے اپنی پیداوار آسان اور کم قیمت پر فراہم کی ہو سکتی ہے۔
- لاجسٹک اور ٹرانسپورٹیشن خرچوں میں اضافہ، یوں برآمد کے مارجن کم ہوئے ہوں گے۔
- توانائی اور خام مواد کی قیمتوں میں اضافہ، جس نے پیداوار کی لاگت بڑھا دی۔
- ملکی اندرونی تعمیراتی سرگرمیوں میں تو نسبتا مثبت اضافہ ہوا ہے، مگر بیرون منڈیوں کی طلب متاثر ہوئی ہے۔
- تجارتی و اقتصادی پالیسیاں، ٹیکس یا ڈیوٹی کے مسائل، یا بیرون ملک معیار کے تقاضے جو برآمدات کو متاثر کرتے ہوں۔
Also read:پی ایس ایل فرنچائز مالکان کا مطالبہ تسلیم، انتظامیہ نے اجلاس طلب کرلیا
آئندہ کی راہ
اس صنعت کو بہتر نتائج کے لیے درج ذیل اقدامات تجویز کیے جا سکتے ہیں:
- حکومت اور صنعت مل کر برآمدی معاونت کا پیکج تیار کریں، جیسے ٹریڈ فیر کم کرنا، سبسڈیز، اور بیرون منڈیوں میں پاکستانی سیمنٹ کا پروموشن کرنا۔
- لاجسٹک چین بہتر بنائی جائے تاکہ خام مواد سے لیکر برآمدی کنٹینر تک لاگت کم ہو سکے۔
- معیار اور سرٹیفیکیشن کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے، تاکہ بیرون ملک منڈیوں میں پاکستانی سیمنٹ کی برانڈ ویلیو بن سکے۔
- بیرون منڈیوں میں متعدّد شعبے تلاش کیے جائیں، نئی منڈیاں کھولی جائیں، اور مقابلے کی حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
- اندرونی طلب کو مزید مستحکم بنانے کے لیے تعمیراتی منصوبوں میں تیزی لائی جائے، تاکہ مقامی فروخت مزید بڑھ سکے اور مجموعی نمو کی بنیاد مضبوط ہو۔
خلاصہ
مختصراً، اکتوبر 2025 میں پاکستانی سیمنٹ صنعت نے مقامی فروخت کے لحاظ سے مثبت قدم اٹھایا ہے، مگر برآمدات میں نمایاں کمی نے تشویش پیدا کر دی ہے۔ مجموعی فروخت نے ابھی تک مندی نہیں دیکھی، لیکن برآمدی حصے کی کمزوری اگلے دنوں میں شعبے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس لیے حکومت اور صنعت کو فوراً بروقت اقدامات اٹھانا ہوں گے تاکہ یہ مندی نہ پائیدار ہو بلکہ جلد از جلد برطرف ہو سکے۔
ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ معلومات کی مزید تصدیق کے لیے مستند اور سرکاری ذرائع سے رجوع کریں۔