پی ایس ایل میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت کا امکان — ایونٹ اپریل اور مئی میں متوقع

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے شائقین کے لیے خوشخبری ہے کہ آئندہ ایڈیشن میں دو اضافی ٹیموں کی شمولیت کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اس بات پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے کہ پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن میں کل ٹیموں کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کر دی جائے۔ اگر یہ منصوبہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ پی ایس ایل کی تاریخ میں ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوگا۔

Advertisement

نئی ٹیموں کی شمولیت پر غور

اطلاعات کے مطابق پی سی بی نے متعدد سرمایہ کار گروپس سے رابطے کیے ہیں جو فرنچائزز خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ممکنہ طور پر نئی ٹیمیں فیصل آباد اور سیالکوٹ یا حیدرآباد اور کشمیری ٹیم کے ناموں سے شامل کی جا سکتی ہیں۔ ان شہروں کے شائقین کرکٹ پہلے ہی پی ایس ایل میں اپنی نمائندگی کے لیے پرجوش ہیں، اور نئی ٹیموں کی آمد سے ایونٹ میں نیا جوش و خروش پیدا ہوگا۔

ٹورنامنٹ کی ممکنہ تاریخیں

ذرائع کے مطابق پی ایس ایل 11 کا انعقاد اپریل اور مئی 2026 میں متوقع ہے۔ ماضی میں لیگ فروری اور مارچ میں کھیلی جاتی رہی ہے، لیکن بین الاقوامی کرکٹ شیڈول اور رمضان المبارک کے باعث ایونٹ کو آگے بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس طرح کھلاڑیوں کو بھی عالمی کرکٹ سے ہم آہنگ ہونے میں آسانی ہوگی۔

Advertisement

Also read :ٹی ٹونٹی سیریز: بابراعظم اور محمد رضوان کی واپسی کے امکانات مسترد

ٹیموں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے اثرات

دو نئی ٹیموں کی شمولیت کے بعد ایونٹ میں میچز کی تعداد میں اضافہ ہوگا، جس سے لیگ کا دورانیہ بھی بڑھنے کا امکان ہے۔ مزید ٹیموں کا مطلب زیادہ روزگار کے مواقع، زیادہ اسپانسرز، اور زیادہ تفریح ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف پی سی بی کی آمدنی بڑھے گی بلکہ ملک میں کرکٹ کے فروغ کو بھی تقویت ملے گی۔

شائقین کی توقعات

شائقین کرکٹ اس ممکنہ توسیع کو ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ نئے شہروں کو بھی نمائندگی کا موقع دیا جائے تاکہ کرکٹ کا دائرہ مزید وسیع ہو۔

اگر پی سی بی نے یہ فیصلہ باضابطہ طور پر کر لیا تو آئندہ پی ایس ایل ایڈیشن نہ صرف زیادہ رنگین بلکہ تاریخی بھی ثابت ہو سکتا ہے۔


Disclaimer: یہ خبر مختلف رپورٹس اور ذرائع ابلاغ کی دستیاب معلومات پر مبنی ہے۔ قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ تازہ ترین اور مصدقہ اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری یا معتبر نیوز چینلز سے رجوع کریں۔

Leave a Comment