پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے حالیہ خبروں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹی ٹونٹی سیریز کے دوران کپتان بابراعظم اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کی فوری واپسی کے امکانات کو مکمل طور پر مسترد کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی نے اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ دونوں سینئر کھلاڑی آئندہ میچز میں حصہ لیں گے یا نہیں۔
بابراعظم اور محمد رضوان دونوں نے گزشتہ کچھ ہفتوں سے آرام حاصل کیا ہوا ہے تاکہ وہ اپنی فٹنس اور فارم پر بہتر طریقے سے توجہ دے سکیں۔ کرکٹ ماہرین کے مطابق، ٹیم مینجمنٹ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کے حق میں ہے تاکہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط اور متوازن ٹیم تیار کی جا سکے۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کو زیادہ مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، اور تجربہ کار کھلاڑیوں کو آرام دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، کوچنگ اسٹاف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بابراعظم اور رضوان جیسے اسٹار کھلاڑیوں کی واپسی جلد بازی میں نہیں کی جائے گی بلکہ ان کی واپسی مکمل فٹنس اور فارم کی بحالی کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ ٹیم کی کارکردگی پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کی غیر موجودگی سے ٹیم کے بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی آئی ہے، جس سے نوجوان بلے بازوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا بہترین موقع ملا ہے۔
Also read :سرفراز احمد کو پی سی بی میں ذمہ داری ملنے کے امکانات پر محمد عامر نے خاموشی توڑ دی
دوسری جانب، شائقینِ کرکٹ میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا بابراعظم اور محمد رضوان کے بغیر ٹیم اتنی مضبوط رہے گی جتنی ان کی موجودگی میں ہوتی ہے۔ کچھ مداحوں کا ماننا ہے کہ نئے کھلاڑیوں کو وقت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ دباؤ میں کھیلنے کا تجربہ حاصل کریں، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ دونوں سینئر بیٹرز کی واپسی ٹیم کے لیے فوری تقویت ثابت ہوگی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کی موجودہ حالت تسلی بخش ہے، تاہم ان کی واپسی کا فیصلہ سیریز کے بعد کیا جائے گا۔ اس فیصلے کا مقصد ٹیم کی طویل المدتی حکمت عملی کو مستحکم کرنا اور آئندہ بین الاقوامی مقابلوں کے لیے مضبوط بنیاد رکھنا ہے۔
یہ واضح ہے کہ بابراعظم اور محمد رضوان کی واپسی کے امکانات فی الحال موجود نہیں، مگر ان کی غیر موجودگی میں نئے ٹیلنٹ کا ابھرنا پاکستان کرکٹ کے مستقبل کے لیے خوش آئند ثابت ہوسکتا ہے۔
Disclaimer: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔ قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری اور مستند نیوز ذرائع سے تصدیق کریں۔