سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) نے ملک بھر میں گھریلو گیس کنکشنز پر عائد پابندی کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد طویل عرصے سے منتظر صارفین کو سہولت فراہم کرنا اور گیس کی فراہمی کو بڑھانا ہے۔ مینجنگ ڈائریکٹر عامر طفیل نے میڈیا بریفنگ میں تفصیلات بتائیں کہ اب نئے کنکشن کی منظوری دی جائے گی اور درخواست کنندگان کو ترجیحی بنیاد پر نمٹا جائے گا۔
پابندی کی تاریخ اور نئی پالیسیاں
- 2021 میں گیس کنکشنز پر پابندی عائد کی گئی تھی، جس کا سبب ملک میں گیس کے وسائل کا تنگ ہونا اور توازن برقرار رکھنے کی ضرورت تھی۔
- اب پابندی اٹھانے کے بعد، گھریلو صارفین کو RLNG (ری گیسفائیڈ لیکوئفائیڈ نیچرل گیس) کنکشن فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
- اس سال کا ہدف 300,000 نئے کنکشنز فراہم کرنا ہے، اور آئندہ سال سے سالانہ 600,000 کنکشنز کا اہداف مقرر کیا گیا ہے۔
- گیس کا نرخ RLNG کی بنیاد پر متعین کیا گیا ہے، جس کی قیمت 3,200 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو رکھی گئی ہے۔
- ایس این جی پی ایل نے اپنے ہیڈ آفس اور ریجنل دفاتر میں مانیٹرنگ یونٹیں قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ درخواستوں کی رفتار میں بہتری لائی جائے۔
- ہیلپ لائن نمبر 0800 بھی متعین کیا گیا ہے تاکہ صارفین براہِ راست رابطہ کر سکیں۔
Also read :دیپیکا کے ابو ظہبی میں حجاب پہننے پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟
پہلی ترجیح کس صارفین کو ہوگی؟
- جن صارفین نے پہلے سے ڈیمانڈ نوٹس جمع کرائے ہوئے ہیں، یعنی وہ درخواست گزار جو پابندی سے پہلے درخواست دے چکے تھے، انہیں پہلی ترجیح دی جائے گی۔
- ان صارفین کو خطوط بھی بھیجے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے کنکشن کی تنصیب کی کارروائی مکمل کریں۔
- علاوہ ازیں، جن لوگ ابھی درخواست نہیں دیے، وہ ارجنٹ فیس جمع کروا کر درخواست میں ترجیح حاصل کر سکتے ہیں۔
- نئے اور پرانے درخواست گزاروں میں فرق نہیں رکھا جائے گا، بشرطیکہ وہ پوری ادائیگی پہلے کریں۔
ممکنہ چیلنجز اور امکانات
یہ فیصلہ توانائی کے توازن اور درآمدی گیس پر انحصار میں اضافہ کے تناظر میں آیا ہے۔ RLNG گیس مہنگی ضرور ہے، مگر کمپنی کا خیال ہے کہ اگر صارفین احتیاط سے استعمال کریں تو یہ قابل برداشت رہے گی۔
تاہم، درخواستوں کی تعداد اور میٹرس کی دستیابی اہم چیلنج ہیں۔ SNGPL کے پاس پہلے سے کئی لاکھ درخواستیں التوا کا شکار تھیں۔
نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد صارفین کو بہتر شفافیت، کنکشن کی رفتار، اور منصفانہ تقسیم کی امید ہے۔
ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور قابلِ اعتماد ذرائع پر مبنی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین معلومات کے لیے سرکاری اور مستند ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔