دیپیکا کے ابو ظہبی میں حجاب پہننے پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟

بولی وُڈ اداکارہ دیپیکا پڈوکون اس وقت سوشل میڈیا پر دوبارہ زیرِ بحث آئی ہیں، اور اس بار معاملہ اُن کے ملبوسات سے متعلق ہے: انہوں نے ابوظہبی میں واقع ایک کمرشل ویڈیو میں عبایا پہن رکھا تھا، جو بعض حلقوں نے “حجاب پہننا” قرار دیا اور شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

Advertisement

ذیل میں اس واقعے کا پسِ منظر، ردعمل، اور اس سے وابستہ تناقشات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے:

واقعہ کا پسِ منظر

حال ہی میں، دیپیکا پڈوکون اور اُن کے شوہر رنویر سنگھ کو ابوظبی کے ثقافتی و سیاحتی اداروں کے ساتھ اشتراک سے ایک تشہیری ویڈیو بنانے کی دعوت دی گئی۔ AAJ
ویڈیو میں یہ جوڑا لُوور میوزیم سے گزرتا ہوا دکھایا گیا، اور پھر شیخ زاید گرینڈ مسجد کے احاطے میں داخل ہوتا ہے۔ AAJ
مسجد کے اندر کی کچھ جھلکیاں جب منظرِ عام پر آئیں، تو دیپیکا کو گہرا عنابی رنگ کا عبایا پہنے دیکھا گیا، جو پورے جسم کو ڈھانپتا تھا، صرف چہرہ اور ہاتھ کھلے تھے۔

Advertisement

یہ پہناوا دیکھ کر سوشل میڈیا پر تنقید نے جنم لیا، اور صارفین نے تبصرے کرنا شروع کیے کہ “دیپیکا نے آزادیِ رائے پسِ پشت ڈال دی” یا “یہ انتخاب کہاں گیا؟”

تاہم، بعض حلقوں نے وضاحت کی کہ وہ حجاب نہیں بلکہ عبایا پہن رہی تھیں، اور عبایا مسجد جیسے مذہبی مقام کی مناسبت سے ایک روایتی اور شائستہ لباس تصور کیا جاتا ہے۔

Also read :آئی سی سی رینکنگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شاندار پیش رفت

تنقید کے اسباب اور مباحث

۱. تضادِ مفہوم: عبایا بمقابلہ حجاب

کچھ منتقدین کا کہنا ہے کہ عبایا اور حجاب کو الگ فرق کے ساتھ سمجھا جانا چاہیے، مگر سوشل میڈیا پر دونوں کو اکثر ایک ہی چیز سمجھ لیا گیا۔ یہ تذبذب تنقید کا بنیادی باعث بنا۔

۲. آزادیِ اظہار بمقابلہ مذہبی توقعات

کچھ لوگوں نے تنقید کی کہ ایک فنکارہ جو خواتین کی خودمختاری کی حامی ہے، اب اس عمل سے متضاد پیام دے رہی ہے۔ وہ 2015 کی اپنی مختصر فلم My Choice کی یاد دلاتے ہیں، جس میں انہوں نے خواتین کے “اپنی مرضی کے مطابق جینے” کے حق کی بات کی تھی۔

۳. احترامِ مقامی ثقافت

دیپیکا کے مداح اور بعض دیگر حلقے اس بات کی دلیل دیتے ہیں کہ انہوں نے مقامی رسوم کا لحاظ رکھا ہے — مسجد میں داخلے کے وقت روایتی، مکمل ڈھانپ دینے والا لباس پہننا ایک متوقع تقاضا ہے۔

۴. سابقہ تنازعات اور ماضی کی بحثیں

یہ پہلا موقع نہیں جب دیپیکا کو ملبوسات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ مثال کے طور پر، فلم پٹھان کے گانے میں ان کے بکنی سین نے متنازع ردعمل پیدا کیا تھا۔
پیشتر بھی وہ مذہبی یا ثقافتی مقامات پر روایتی انداز میں نظر آئی ہیں، جیسے امرتسر کے گولڈن ٹمپِل یا وینکتیشور مندر۔

ردعمل اور توازنِ رائے

کچھ صارفین اور ماہرین نے اس تنقید کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ایک فنکارہ کی پبلک جگہ پر مقامی اصولوں کا احترام کرنا، ان کی آزادیِ اظہار کا نقصان نہیں بلکہ ایک مؤدبانہ رویہ ہے۔

مداحوں نے دفاع کیا کہ چونکہ مسجد میں مخصوص لباس کی شرائط ہوتی ہیں، تو اس تشہیری ویڈیو نے محض ان شرائط کا لحاظ کیا۔

تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح پبلک شخصیات کے لباس کے انتخاب کو ایک علامتی مترجم بنا کر تنقید کا پہلو بنایا جاتا ہے — خاص طور پر جب وہ ثقافتی یا مذہبی حساس مقامات سے منسلک ہو۔

نتیجہ

دیپیکا پڈوکون کا ابو وظبی میں عبایا پہننا اس لیے تنازعہ بن گیا کیونکہ اس نے فن، آزادی اظہار، مذہبی علامت، اور ثقافتی احترام کے درمیان پائے جانے والے نازک توازن کو ایک بار پھر اجاگر کیا۔
یہ واقعہ صرف ایک ملبوسے کی بات نہیں، بلکہ اس سے ایک بڑا سوال اُبھرتا ہے: جب کسی مشہور شخصیت کی ذاتی انتخاب اور مقامی رسوم آپس میں مل جائیں، تو کس طرح ہم اس کو سمجھیں، تنقید کریں یا قبول کریں؟

اگر آپ چاہیں، تو میں اس موضوع پر مختلف مکتبِ فکر کا تقابلی تجزیہ لکھ سکتا ہوں — آپ چاہیں گے؟


ڈسکلیمر: اس خبر میں پیش کی گئی معلومات دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع پر مبنی ہیں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے مستند اور سرکاری نیوز ذرائع سے تصدیق ضرور کریں

Leave a Comment