لاہور: پاکستان کے تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عامر نے ایک بار پھر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور سابق ٹیم مینجمنٹ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ “بدسلوکی” اور واضح رابطے کی کمی ہی ان کی حالیہ بین الاقوامی ریٹائرمنٹ کے اصل عوامل ہیں۔
قائنہ اسپورٹس (QAYNASPORTS) کو دیے گئے ایک صاف گوئی پر مبنی انٹرویو میں عامر نے اپنے کیریئر کے دوسرے حصے میں ہونے والی مایوسی پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد انہیں مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔ عامر نے کہا:
“ورلڈ کپ ختم ہونے کے بعد کسی نے مجھ سے بات تک نہیں کی۔ کسی نے نہیں بتایا کہ میں مستقبل کے پلانز کا حصہ ہوں یا نہیں۔ سمجھدار آدمی اشارہ سمجھ لیتا ہے—اگر آپ پلان میں نہیں تو پھر اپنے بارے میں سوچنا پڑتا ہے۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے، شکریہ انٹرنیشنل کرکٹ۔”
Also read :محسن نقوی نے ٹرافی یو اے ای بورڈ کے حوالے کی، بی سی سی آئی پر مواخذے کی تلوار لٹکنے لگی: ذرائع
تعصب کے الزامات اور پرانے گِلے شکوے
یہ پہلی بار نہیں کہ عامر نے غیر کرکٹ وجوہات کو اپنی ریٹائرمنٹ کی وجہ بتایا ہو۔ اس سے قبل 2020 میں بھی وہ ریٹائر ہو گئے تھے اور اُس وقت کے کوچ وقار یونس سمیت مینجمنٹ پر ذاتی تعصب کا الزام لگایا تھا۔
اپنے بیانات میں عامر نے یہ بھی کہا کہ ایک موقع پر اسکواڈ کا اعلان جان بوجھ کر پی ایس ایل سے پہلے کر دیا گیا تاکہ وہ اور شعیب ملک اچھی کارکردگی دکھا کر سلیکشن پر دباؤ نہ ڈال سکیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 90 کی دہائی کے ایک سابق کرکٹر نے ان کے کیریئر کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔
فرنچائز کرکٹ پر فوکس
محمد عامر نے مزید انکشاف کیا کہ قومی ٹیم کے لیے کھیلتے ہوئے انہیں مالی اور ذاتی قربانیاں دینا پڑیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے ایک منافع بخش کاؤنٹی کنٹریکٹ قربان کر
ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع پر مبنی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری اور معتبر نیوز آؤٹ لیٹس سے معلومات کی تصدیق کریں۔