راولپنڈی — راولپنڈی پولیس نے ایک بڑی کارروائی کے دوران انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث چار رکنی گروہ کو گرفتار کر لیا ہے، جو مبینہ طور پر لوگوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر ان کے گردے نکال کر فروخت کر رہے تھے۔ اس گھناؤنے کاروبار کا انکشاف اس وقت ہوا جب ایک متاثرہ نوجوان کی حالت غیر ہونے کے بعد اس کے اہل خانہ نے معاملہ پولیس کے علم میں لایا۔
پولیس کے مطابق یہ گروہ کئی مہینوں سے سرگرم تھا اور خاص طور پر دیہی اور غریب علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو نوکری یا بیرون ملک جانے کے خواب دکھا کر انہیں اپنے جال میں پھنساتے تھے۔ گروہ کے ارکان نے انتہائی پیشہ ور طریقے سے اپنی سرگرمیوں کو چھپایا ہوا تھا، اور بظاہر ایک میڈیکل سہولت کے طور پر کام کر رہے تھے، لیکن درحقیقت وہاں انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری کی جا رہی تھی۔
کارروائی کی تفصیلات
راولپنڈی پولیس کے ترجمان کے مطابق، گرفتار کیے گئے ملزمان میں ایک جعلی ڈاکٹر، ایک کمپاؤنڈر، ایک بروکر اور ایک آپریشن تھیٹر ٹیکنیشن شامل ہیں۔ پولیس نے مخبری پر چھاپہ مار کر ان افراد کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ ایک اور نوجوان کا گردہ نکالنے کی تیاری کر رہے تھے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے آپریشن کے لیے استعمال ہونے والا طبی سامان، جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹس، مختلف متاثرہ افراد کی فائلیں، اور نقدی بھی برآمد ہوئی ہے۔ ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
متاثرین کی روداد
متاثرین نے پولیس کو بتایا کہ انہیں بیرون ملک ملازمت کی پیشکش کی گئی تھی۔ گروہ کے افراد نے انہیں یہ بتایا کہ ملازمت کے لیے میڈیکل ٹیسٹ ضروری ہے، جس کے لیے وہ انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ میڈیکل ٹیسٹ کے بہانے سے نشہ آور دوا دے کر انہیں بے ہوش کیا گیا، اور جب ہوش آیا تو انہیں بتایا گیا کہ ایک گردہ نکال دیا گیا ہے۔
ایک متاثرہ نوجوان، جو کہ فیصل آباد سے تعلق رکھتا ہے، نے بتایا:
“مجھے دبئی میں سیکیورٹی گارڈ کی نوکری کی آفر ہوئی۔ جب راولپنڈی پہنچا تو ایک کلینک میں لے جایا گیا، جہاں کہا گیا کہ میڈیکل چیک اپ ہوگا۔ مجھے کچھ پینے کو دیا گیا، اور پھر مجھے کچھ یاد نہیں۔ جب ہوش آیا، جسم میں شدید درد تھا اور پیٹ پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔”
گروہ کا طریقۂ واردات
پولیس حکام کے مطابق یہ گروہ مختلف شہروں میں بروکرز کے ذریعے متاثرین تک پہنچتا تھا۔ خاص طور پر وہ نوجوان جو مالی مشکلات کا شکار ہوتے یا بیرون ملک جانے کے خواہشمند ہوتے، ان کا آسانی سے شکار بن جاتے۔ بروکرز ان کے ساتھ اعتماد قائم کرتے، پھر انہیں راولپنڈی کے ایک مخصوص مکان یا کلینک میں بلایا جاتا۔
گینگ نے جعلی لیبارٹری رپورٹس اور ڈاکٹرز کے کارڈز کا استعمال کر کے ایک قانونی میڈیکل سہولت کا تاثر دیا ہوا تھا۔ انہیں باقاعدہ سرجیکل آلات اور مشینری تک رسائی حاصل تھی، جو انہوں نے یا تو چوری سے حاصل کی تھی یا کباڑی بازار سے خریدی تھی۔
Also read : کینسر کی سب سے عام قسم تیزی سے پھیلنے کی اہم وجہ دریافت
پولیس کا موقف
راولپنڈی کے سی پی او نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حساس اور سنگین معاملہ ہے۔ انسانی اعضا کی غیر قانونی تجارت نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ انسانی زندگیوں کے لیے بھی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا:
“ہم اس گروہ کے تمام سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے تفتیش کو وسعت دے رہے ہیں۔ متاثرین کی مدد کے لیے میڈیکل اور نفسیاتی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ہم ہر اس فرد کو انصاف دلائیں گے جس کے ساتھ یہ ظلم ہوا ہے۔”
قانونی پہلو
پاکستان میں انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ انسانی اعضا کی پیوند کاری سے متعلق قانون 2010 میں نافذ کیا گیا، جس کے تحت بغیر اجازت گردہ نکالنے یا فروخت کرنے والے افراد کو 10 سال تک قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، انسانی اعضا کی بلیک مارکیٹ اب بھی خفیہ طریقے سے فعال ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیسز میں موثر عدالتی کارروائی اور سزاؤں کی اشد ضرورت ہے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔ اگر سزا کے عمل کو تیز اور شفاف بنایا جائے تو ایسی وارداتوں میں کمی آ سکتی ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ لوگوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مکروہ کاروبار میں ملوث تمام افراد کو عبرتناک سزا دی جائے۔ کئی صارفین نے متاثرین کے لیے مالی مدد اور بحالی کی سہولیات فراہم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
حکومتی اقدامات
پنجاب حکومت نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ ایسی تمام غیر قانونی میڈیکل سہولیات کی فہرست تیار کی جائے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے پر صفر برداشت کی پالیسی اپنائی جائے گی۔
راولپنڈی میں انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری کے انکشاف نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کیسے غربت، جہالت، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سست روی مجرموں کو انسانیت سے کھیلنے کا موقع دیتی ہے۔ اس افسوسناک واقعے سے نہ صرف قانون سازی میں بہتری کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے بلکہ سماجی شعور اور عوامی بیداری کو بھی فروغ دینے کی اہمیت سامنے آتی ہے۔