ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا ایک ایسا عمل تھا جو طویل انتظار، کاغذی کارروائی، متعدد محکماتی دوروں اور بعض اوقات رشوت خوری یا غیر ضروری تقاضوں کی وجہ سے شہریوں کے لیے ایک مشکل مرحلہ بن گیا تھا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حالیہ اقدامات اور اصلاحات نے اس عمل کو بہت حد تک آسان بنا دیا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس مسئلے کی وجوہات، کیے گئے حل، شہریوں کے لیے فوائد، اور مستقبل کے لیے سفارشات پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔
سب سے پہلے، اس مشکل کی بنیادی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔ روایتی نظام میں درخواست دہندہ کو متعدد دفعات میں الگ الگ کاغذات جمع کرانے پڑتے تھے—شناختی دستاویزات، رہائشی ثبوت، فوٹوگراف، میڈیکل سرٹیفیکیٹ وغیرہ۔ اس کے علاوہ فزیکل فارم بھرنے، دفتری اوقات میں حاضر ہونے اور طویل قطاروں میں کھڑے رہنے کی وجہ سے وقت کا ضیاع ہوتا تھا۔ امتحانات بھی بعض اوقات غیر شفاف یا غیر معیاری طریقے سے منعقد کیے جاتے، جس سے شہریوں کا اعتماد کم ہوتا تھا۔ اس پورے عمل میں لاگتیں بھی بڑھ جاتی تھیں — نہ صرف فیسیں بلکہ ٹرانسپورٹ اور کمائے جانے والے روزگار کا نقصان بھی شامل ہوتا تھا۔
Also read :مانگا منڈی: بھابھی سے زیادتی کرنے والا جیٹھ گرفتار
ان مشکلات کو کم کرنے کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ سب سے مؤثر قدم کاغذی کارروائی کو ڈیجیٹل کرنا اور آن لائن سروسز
متعارف کروانا رہا ہے۔ اب درخواستیں آن لائن فارم کے ذریعے جمع کروائی جا سکتی ہیں، دستاویزات اسکین یا ڈیجیٹل اپلوڈ کے ذریعے بھیجے ج سکتے ہیں، اور اپوائنٹمنٹس آن لائن بُک کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوئی بلکہ دفتری بوجھ بھی کم ہوا، اور رشوت کے مواقع محدود ہوئے کیونکہ بہت ساری مداخلتوں کی جگہ خودکار نظام نے لے لی ہے۔
دوسرا بڑا قدم امتحانی نظام کی کمپیوٹرائزیشن اور معیار کو بہتر بنانا ہے۔ کمپیوٹرائزڈ تھیوری ٹیسٹ اور گیئر/ڈراونگ ٹریک پر کیمرہ نگرانی جیسے انتظامات نے امتحانی عمل کو زیادہ شفاف بنایا ہے۔ اسی طرح تربیتی اقدامات میں بہتری آ چکی ہے — سرکاری منظوری یافتہ ڈرائیونگ اسکولز، آن لائن تربیتی ویڈیوز، اور روڈ سیفٹی کورسز نے امیدواروں کو بہتر طریقے سے تیار کیا ہے، جس سے فیل ہونے کی شرح کم اور روڈ سیفٹی میں اضافہ ممکن ہوا ہے۔
تیسرا، موبائل لائسنس یونٹس اور کیمپس ڈرائیونگ کیمپ منعقد کیے جانے سے دیہی اور دور دراز علاقوں کے شہری بھی آسانی سے خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ اقدامات دور دراز شہریوں کے لیے خاص طور پر مفید ہیں جو پہلے متعلقہ دفاتر تک پہنچنے کے لیے کئی گھنٹے سفر کرتے تھے۔ اسی طرح محدود وقت میں قائم کیے جانے والے کیوسک اور ہیلتھ کیمپس نے میڈیکل سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے عمل کو بھی تیز کیا ہے۔
فیسوں اور دستاویزات کے پابند اصولوں میں بھی سادگی لائی گئی ہے۔ بے شمار غیر ضروری کاغذات کو ختم کر کے صرف لازمی دستاویزات رہ گئی ہیں، اور فیس سسٹم کو شفاف بنا کر آن لائن ادائیگیوں کا راستہ کھولا گیا ہے۔ نتیجتاً، شہریوں کو ہر دورہ پر اضافی اخراجات ادا نہیں کرنے پڑتے اور مالی بوجھ کم ہوا ہے۔
ان اصلاحات کے واضح فوائد سامنے آئے ہیں۔ شہریوں کے لیے وقت اور پیسے کی بچت ہوئی، لائسنس حاصل کرنے کا عمل زیادہ دوستانہ اور قابلِ پیش بینی بن گیا، اور روڈ سیفٹی میں بہتری آیی کیونکہ نئی تربیت یافتہ ڈرائیورز بہتر طور پرقواعد و ضوابط پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی، بیوروکریسی میں شفافیت بڑھی اور بدعنوانی کے امکانات کم ہوئے، جو شہری اعتماد کے لیے ضروری ہے۔ عوامی سطح پر یہ بھی دیکھا گیا کہ جب ڈرائیونگ لائسنس کا عمل آسان ہوتا ہے تو لوگ قانونی طریقے سے لائسنس لینے کی طرف راغب ہوتے ہیں، جس سے غیر قانونی ڈرائیونگ کی شرح میں کمی آتی ہے۔
تاہم، ابھی بھی کچھ چیلنجز باقی ہیں جن پر توجہ درکار ہے۔ سب سے بڑا چیلنج ڈیجیٹل تقسیم — ہر شہری تک انٹرنیٹ اور سمارٹ ڈیوائسز کی رسائی یقینی بنانا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔ اس کے علاوہ تربیت کا معیار برابر طور پر بلند رکھنا، امتحانات میں شمولیت کے مواقع کو مساوی بنانا، اور آن لائن سسٹمز کی سائبر سیکیورٹی کو مضبوط کرنا اہم ہیں۔ مزید برآں، بعض جگہوں پر انسانی عملدرآمد ابھی بھی درکار ہے — جیسے کہ عملی ڈرائیونگ ٹیسٹ — جس کے لیے اتفاقی شفافیت اور معیاری جانچ کے لیے تربیت یافتہ عملہ ضروری ہے۔
مستقبل کے لیے سفارشات میں شامل ہونا چاہیے: آن لائن سسٹمز کی مزید اپ گریڈیشن اور موبائل-فرینڈلی انٹرفیس کی فراہمی، مقامی سطح پر آگاہی مہمات تاکہ شہری نئے نظام سے بخوبی واقف ہوں، اور سرکاری و نجی شعبے کے مشترکہ پروگرامز تاکہ ڈرائیونگ ٹریننگ کی رسائی بڑھ سکے۔ اس کے علاوہ مستقل آڈٹ اور فیڈبیک میکانزم قائم کیے جائیں تاکہ نظام میں وقتاً فوقتاً بہتری لائی جا سکے۔
خلاصہ یہ کہ جو مشکلات کبھی ڈرائیونگ لائسنس کے حصول میں شہریوں کے سامنے رکاوٹ بنی ہوئی تھیں، انہیں اب تکنیکی حل، انتظامی اصلاحات، اور سروسز کی نزدیکی کے ذریعے نمایاں طور پر آسان بنایا جا چکا ہے۔ اگرچہ مکمل طور پر تمام مسائل ختم نہیں ہوئے، مگر شروع کیے گئے اقدامات شہریوں کے لیے ایک خوش آئند تبدیلی ہیں — ایک ایسا راستہ جو نہ صرف لائسنس کے حصول کو آسان بناتا ہے بلکہ مجموعی طور پر روڈ سیفٹی اور شفافیت کو بھی فروغ دیتا ہے۔