بھارت نے پاکستان پر ایک اور حملے کا اشارہ دے دیا

بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی ایک مرتبہ پھر عروج پر ہے، جب بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے “آپریشن سندور” کے حوالے سے پیچھے مڑنے کا کوئی ارادہ نہ رکھتے ہوئے اِشارہ دیا ہے کہ یہ کارروائی صرف “پارٹ ون” تھی اور “پارٹ ٹو” بھی ممکن ہے۔ ایسے میں سرحدی تناؤ، فوجی دعوے اور میڈیا پر پروپیگنڈا نے صورتحال کو مزید الجھا دیا ہے۔

Advertisement

پسِ منظر

  • آپریشن سندور: یہ بھارت کی طرف سے 7 مئی 2025 کو شروع کی گئی فوجی کارروائی ہے جسے بھارت نے پاکستانی علاقوں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انجام دیا۔
  • بھارت کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ 22 اپریل کو پہلگام میں ایک دہشت گردانہ حملے کے جواب میں کیا گیا، جس میں زیادہ تر سیاح ہلاک ہوئے تھے۔
  • پاکستان نے بھارت کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ وہاں کوئی فوجی تنصیبات نشانہ بنیں، اور کہا کہ شہری علاقے، مساجد بھی اس کا شکار بنیں۔

کیا کہا راج ناتھ سنگھ نے؟

  • بھارتی وزیر دفاع نے کھل کر کہا ہے کہ “آپریشن سندور” کا حصہ ایک تھا، مگر اگر حالات ہوتے ہیں تو “پارٹ ٹو” بھی ہو سکتا ہے، یعنی مزید فوجی آپریشنز کا امکان موجود ہے۔
  • یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب بھارت اپنی داخلی سیاسی و اقتصادی صورتحال سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے، اور انتخابات قریب ہیں۔ مقامی ماہرین اس بیان کو بھارتی حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

پاکستانی ردِعمل اور دعوے

  • پاکستان کی فضائیہ نے دعویٰ کیا کہ اُس نے بھارتی طیاروں اور ڈرونز کو مار گرایا۔
  • ایک خاص دعویٰ میں کہا گیا کہ اس فضائی کارروائی کے دوران بھارت کے کئی طیارے، جن میں رافیل طیارے بھی شامل تھے، مارے گئے، اور ایک ایس-400 فضائی دفاعی نظام تباہ ہوا۔
  • پاکستان نے یہ بھی بیان کیا کہ بھارت نے غیر حقیقی یا مبالغہ آرائی پر مبنی دعوے کیے، اور کہ بھارتی ایئر چیف کی طرف سے پیش کردہ دعوے (مثلاً “5 پاکستانی طیارے گرائے”) ثبوت کے بغیر ہیں۔

سیاسی اور سماجی پہلو

  • تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار عوام کی توجہ بنیادی مشکلات جیسے بڑھتی ہوئی مہنگائی، زرعی بحران، اقلیتیوں پر مظالم سے ہٹانے کے لیے پاکستان کارڈ استعمال کر رہی ہے۔
  • اس طرح کے بیان اور دعوے دونوں ممالک کے درمیان دیرپا تناؤ کا باعث بن سکتے ہیں، اور سرحدی جھڑپوں، فضائی حملوں یا مزید عسکری اقدامات کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔

Also read :بھارت سے میچ کیوں ہارے؟ سلمان علی آغا نے بتا دیا

امکانات اور خدشات

  • مزید فوجی کارروائیاں: “پارٹ ٹو” کی امکان کی وجہ سے پاکستان کی ممکنہ ردِ عمل کی تیاری اور دفاعی حکمتِ عملی پر دھیان بڑھ جائے گا۔
  • عالمی ردعمل: بین الاقوامی سطح پر ایسے بیانات پر تشویش کا اظہار ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر شہری علاقے متاثر ہوں یا انسانی جانوں کا نقصان ہو۔
  • سرحدی استحکام: دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی یا امن مذاکرات کی راہیں مزید مشکل ہوسکتی ہیں اگر فوجی بیانات اور کارروائیاں جارحانہ رہیں۔

نتیجہ

بھارت کا “پارٹ ٹو ہو سکتا ہے” والا بیان محض محاذ آرائی کا اعلان نہیں بلکہ ایک حکمتِ عملی حصہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ ایک اطلاع ہے کہ حالات مزید بگڑ سکتے ہیں، اور پاکستان سمیت خطے کے ممالک اپنی سلامتی اور استحکام کے لیے چوکس ہیں۔ پاکستان کے مسلح افواج نے بار بار دعویٰ کیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے اہل ہیں۔ ایسے میں، بین الاقوامی برادری کی توجہ اور ثالثی کا کردار اہم ثابت ہو سکتا ہے تاکہ کشیدگی پھر سے خونریزی اور بڑے تصادم کی طرف نہ جائے۔

Leave a Comment