ایشیا کپ ہمیشہ سے کرکٹ شائقین کے لیے ایک یادگار ٹورنامنٹ رہا ہے، لیکن اس بار یہ ٹورنامنٹ صرف کرکٹ کے کھیل تک محدود نہیں رہا بلکہ سیاست، سفارت اور قانونی معاملات بھی اس کا حصہ بن گئے۔ سب سے زیادہ زیر بحث موضوع یہ تھا کہ آیا پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ہوگا یا نہیں۔ اس حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آ چکا ہے، جس نے معاملے کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔ اس مضمون میں ہم اس فیصلے کی تفصیلات، پس منظر، دونوں ممالک کے ردعمل اور شائقین کرکٹ پر اس کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
پس منظر: پاک-بھارت کرکٹ تعلقات
پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جذباتی مقابلہ ہوتا ہے۔ دونوں ممالک کی عوام اس میچ کو جنگ کے متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم، پچھلے کئی برسوں سے سیاسی کشیدگی اور سفارتی تعلقات میں تناؤ کے باعث دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی جا رہی۔ پاک-بھارت مقابلے صرف عالمی ٹورنامنٹس یا ایشیا کپ جیسے ایونٹس میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔
لیکن اس بار ایشیا کپ کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے جب بھارتی بورڈ نے پاکستان میں کھیلنے پر تحفظات ظاہر کیے۔ بات یہاں تک پہنچ گئی کہ معاملہ بھارتی عدالتوں تک پہنچ گیا۔
بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ
بھارتی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ موجودہ حالات میں بھارت کو پاکستان کے خلاف میچ نہیں کھیلنا چاہیے۔ اس درخواست پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے اور کھیلوں کے ایونٹس میں سیاسی کشیدگی کو مداخلت کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایشیا کپ ایک بین الاقوامی ایونٹ ہے، جس کے فیصلے صرف بھارت یا پاکستان کے نہیں بلکہ ایشین کرکٹ کونسل (ACC) کے تحت ہوتے ہیں۔ لہٰذا، بھارت کی ٹیم ایشیا کپ میں شرکت کرے گی اور اگر شیڈول کے مطابق پاک-بھارت میچ ہے تو وہ ضرور کھیلا جائے گا۔
Also read :ایشیا کپ 2025: سلمان علی آغا گردن کی تکلیف میں مبتلا
پاکستان کرکٹ بورڈ کا ردعمل
پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ پی سی بی حکام کا کہنا تھا کہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھنے کا یہ فیصلہ کرکٹ کے فروغ کے لیے مثبت قدم ہے۔ ان کے مطابق، یہ نہ صرف شائقین کے لیے خوشخبری ہے بلکہ دونوں ممالک کے کرکٹرز کے لیے بھی حوصلہ افزا ہے۔
بھارتی بورڈ (BCCI) کا موقف
بھارتی بورڈ نے بھی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تاہم، بورڈ کے کچھ عہدیداروں نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ سیکیورٹی اور سیاسی دباؤ کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ اس کے باوجود، عدالت کے فیصلے کے بعد بھارتی ٹیم ایشیا کپ میں پاکستان کے خلاف میدان میں اترے گی۔
شائقین کرکٹ کی خوشی
شائقین کرکٹ کے لیے یہ خبر کسی عید سے کم نہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچز کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، ان میچز کی ٹی وی ریٹنگ کسی بھی دوسرے مقابلے سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔
پاکستانی شائقین کا کہنا ہے کہ پاک-بھارت میچ صرف کھیل نہیں بلکہ ایک تاریخی لمحہ ہوتا ہے، اور سپریم کورٹ کے فیصلے نے ان کے جوش و خروش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بھارتی شائقین بھی اس میچ کے لیے بے تاب ہیں، کیونکہ یہ مقابلہ ہمیشہ سنسنی خیز ہوتا ہے۔
اقتصادی اثرات
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاک-بھارت میچز صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے بڑے تجارتی اور اقتصادی اثرات بھی ہوتے ہیں۔
- ٹی وی نشریات سے اربوں روپے کی آمدنی متوقع ہوتی ہے۔
- اسپانسرز اور اشتہاری کمپنیاں اس موقع کو سنہری موقع سمجھتی ہیں۔
- ایشیا کپ کے اس میچ سے براہِ راست معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
سیاسی دباؤ اور خدشات
اگرچہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے نے شائقین کو خوش کر دیا ہے، لیکن سیاسی دباؤ اور خدشات اپنی جگہ موجود ہیں۔ بھارت کی کچھ سیاسی جماعتیں اب بھی پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ دوسری طرف، پاکستانی سیاستدان اس فیصلے کو مثبت قرار دے رہے ہیں اور اسے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی ایک چھوٹی سی کرن سمجھ رہے ہیں۔
ایشین کرکٹ کونسل (ACC) کا کردار
ایشیا کپ کا انعقاد اور اس کے شیڈول کا فیصلہ ایشین کرکٹ کونسل کرتی ہے۔ ACC کے مطابق، پاک-بھارت میچ ایشیا کپ کا سب سے بڑا میچ ہوتا ہے اور اس کے بغیر ٹورنامنٹ کی چمک ماند پڑ جاتی ہے۔ اسی لیے ACC نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آمدید کہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ میچ کامیابی سے منعقد ہوگا۔
کرکٹرز کی رائے
کئی سابق کرکٹرز نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے سابق کپتانوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کرکٹ کے لیے جیت ہے۔ بھارتی سابق کھلاڑی بھی اس بات سے متفق ہیں کہ کرکٹ کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے اور شائقین کو ان مقابلوں سے محروم نہیں کرنا چاہیے۔
نتیجہ
بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے نے ایک بڑے سوال کا جواب دے دیا ہے کہ ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کا میچ ہوگا یا نہیں۔ عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جائے، اور اس فیصلے نے شائقین کرکٹ کے دل جیت لیے ہیں۔
اب تمام نظریں اس میچ پر ہیں جو نہ صرف ایشیا کپ کا سب سے بڑا مقابلہ ہوگا بلکہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو اپنی طرف متوجہ کرے گا۔ یہ میچ کھیل سے بڑھ کر ایک تاریخی موقع ہوگا، جو دونوں ممالک کے عوام کو ایک بار پھر کرکٹ کے جذبے میں متحد کرے گا۔