پاکستانی شوبز انڈسٹری نے ایک اور ہنر مند فنکار کو الوداع کہہ دیا۔ سابق اداکار انور علی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ پھیپھڑوں اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور کافی عرصے سے بیماری کے ساتھ جدوجہد کر رہے تھے۔ انور علی نے کئی سال پہلے ہی شوبز کی دنیا کو خیرباد کہہ کر دین کی راہ اختیار کر لی تھی۔ ان کی زندگی، سفر اور شخصیت نے مداحوں پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔
ابتدائی زندگی اور پس منظر
انور علی کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں پاکستانی فلم اور ٹی وی انڈسٹری کو اپنے فن سے سجایا۔
- انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز تھیٹر سے کیا، جہاں ان کی اداکاری اور ڈائیلاگ کی ادائیگی نے تیزی سے پہچان دلائی۔
- ٹی وی پر آنے کے بعد انور علی نے ڈرامہ سیریلز میں منفرد کردار ادا کیے۔
- وہ زیادہ تر سنجیدہ اور منفی کرداروں میں نظر آتے تھے لیکن ان کی اداکاری میں حقیقت کی جھلک اتنی نمایاں ہوتی کہ ناظرین انہیں برسوں یاد رکھتے۔
شوبز کیریئر
انور علی کا کیریئر کئی دہائیوں پر محیط رہا۔
- انہوں نے ٹی وی ڈراموں میں ایسے کردار ادا کیے جو سماجی مسائل کو اجاگر کرتے تھے۔
- فلموں میں بھی وہ معاون کرداروں کے ذریعے نمایاں ہوئے۔
- ان کے مکالمے اور تاثرات ناظرین کے ذہنوں میں نقش ہو جاتے تھے۔
- انہیں اپنے وقت کے دیگر بڑے فنکاروں جیسے ندیم، وحید مراد، محمد علی اور بابرا شریف کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔
انور علی کا فن اس وقت کے پاکستانی ڈرامے اور فلموں میں حقیقت پسندی کی عکاسی کرتا تھا۔
شوبز سے کنارہ کشی اور دینی سفر
کافی عرصہ پہلے انور علی نے فیصلہ کیا کہ وہ شوبز کو خیرباد کہیں گے۔
- ان کے قریبی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اچانک نہیں بلکہ ایک طویل سوچ بچار کے بعد کیا گیا۔
- انہوں نے دنیاوی شہرت کو چھوڑ کر دین کی راہ اختیار کی اور اپنی زندگی کو مذہبی سرگرمیوں کے لیے وقف کر دیا۔
- وہ تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوئے اور دین کی تعلیمات کو عام کرنے میں حصہ لیا۔
- ان کی یہ تبدیلی مداحوں اور ساتھی فنکاروں کے لیے حیران کن ضرور تھی لیکن سب نے ان کے اس فیصلے کا احترام کیا۔
بیماری اور مشکلات
گزشتہ چند سالوں میں انور علی صحت کے سنگین مسائل سے دوچار ہو گئے۔
- انہیں پھیپھڑوں اور گردوں کے عارضے نے گھیر لیا۔
- علاج کے دوران بھی وہ صبر و شکر کے ساتھ وقت گزارتے رہے۔
- ان کے قریبی دوستوں کے مطابق وہ آخری وقت تک دین کی بات کرتے رہے اور دوسروں کو صبر و حوصلہ دینے کی کوشش کرتے رہے۔
انتقال اور افسوس کی لہر
انور علی کے انتقال کی خبر شوبز انڈسٹری اور مداحوں کے لیے ایک صدمہ ہے۔
Also read :مچل اسٹارک نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا: کرکٹ کی دنیا میں ایک عہد کا اختتام
شخصیت اور رویہ
انور علی اپنی شائستگی، عاجزی اور مثبت رویے کے لیے جانے جاتے تھے۔
- شوبز میں رہتے ہوئے بھی وہ تکبر اور غرور سے دور رہے۔
- ساتھی فنکار انہیں ایک بہترین ساتھی اور دوست قرار دیتے ہیں۔
- دین کی طرف رجوع کے بعد ان کی سادگی اور عاجزی مزید نمایاں ہو گئی۔
مداحوں اور ساتھی فنکاروں کا ردعمل
ان کے انتقال پر کئی بڑے فنکاروں نے افسوس کا اظہار کیا۔
- ایک فنکار نے کہا: “انور بھائی کی مسکراہٹ اور نصیحتیں ہمیشہ یاد رہیں گی۔”
- مداحوں نے ان کے ڈراموں اور فلموں کے مناظر شیئر کر کے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
- دینی حلقوں میں بھی انہیں ایک باعمل اور مخلص شخصیت کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔
فنکار سے داعی تک کا سفر
انور علی کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ شہرت اور دولت سب کچھ نہیں ہوتی۔
- انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ فن کو دیا لیکن آخرکار دین کو ترجیح دی۔
- ان کا یہ سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان جب چاہے اپنی راہ بدل سکتا ہے۔
- آج ان کی پہچان صرف ایک فنکار نہیں بلکہ ایک نیک انسان کے طور پر بھی کی جاتی ہے۔
پاکستانی شوبز میں کمی
انور علی جیسے اداکار بہت کم ملتے ہیں۔
- ان کی وفات کے بعد ایک خلا پیدا ہو گیا ہے جو آسانی سے پر نہیں ہو سکتا۔
- آج کے دور میں جہاں شوبز میں گلیمر زیادہ اور حقیقت پسندی کم ہے، انور علی جیسے فنکاروں کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی۔
انور علی کی یادگار وراثت
ان کی وراثت صرف ڈرامے اور فلمیں ہی نہیں بلکہ وہ سبق بھی ہیں جو انہوں نے اپنی زندگی سے دیے:
نتیجہ
سابق اداکار انور علی کا انتقال پاکستانی شوبز انڈسٹری کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ وہ نہ صرف ایک ہنر مند اداکار تھے بلکہ ایک نیک اور باعمل انسان بھی تھے۔ ان کی زندگی فن اور دین کے امتزاج کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ مداح ہمیشہ ان کے فن، کرداروں اور ان کے دینی سفر کو یاد رکھیں گے۔
اہم نکات کا خلاصہ
- انور علی پھیپھڑوں اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔
- انہوں نے کافی عرصہ پہلے شوبز کو خیرباد کہہ دیا تھا۔
- دین کی طرف ان کا رجحان نمایاں ہو گیا تھا۔
- مداحوں اور ساتھی فنکاروں نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
- وہ اپنی عاجزی، سادگی اور فنکارانہ مہارت کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔