بیوی کی لاش موٹر سائیکل پر باندھ کر لے جانے کی ویڈیو وائرل — عوام میں غم و غصہ

حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک چونکا دینے والی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک شخص کو اپنی بیوی کی لاش موٹر سائیکل پر باندھ کر لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ منظر نہ صرف دیکھنے والوں کو ششدر کر گیا بلکہ عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ بھی پیدا ہوا۔ ویڈیو کے منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بحث و مباحثہ شروع ہو گیا اور لوگوں نے اس واقعے کو معاشرتی زوال اور انسانی ہمدردی کی کمی کی ایک واضح مثال قرار دیا۔

Advertisement

ویڈیو کی تفصیل

ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی کی لاش کو کپڑوں اور رسی سے موٹر سائیکل کی پچھلی نشست پر باندھ کر کسی گاؤں یا دیہی علاقے کی طرف جا رہا ہے۔ لاش پر سفید چادر ڈالی گئی ہے، مگر بندھن اور انداز سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسے ہنگامی طور پر اور کسی باقاعدہ انتظام کے بغیر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو بنانے والے نے یہ منظر سڑک کنارے سے فلمایا اور جیسے ہی یہ کلپس انٹرنیٹ پر اپ لوڈ ہوئے، وہ تیزی سے وائرل ہو گئے۔

عوامی ردعمل

واقعہ سامنے آتے ہی لوگوں کی جانب سے مختلف آراء سامنے آئیں۔ کچھ افراد نے کہا کہ یہ ایک المناک صورتِ حال ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں غریب طبقہ کس حد تک وسائل سے محروم ہے۔ ایسے حالات میں جب ایمبولینس یا مردہ خانے کی گاڑی کا بندوبست ممکن نہ ہو، لوگ مجبوراً اس طرح کے غیر انسانی اقدامات پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

Advertisement

دوسری جانب، کچھ لوگوں نے اس واقعے کو انسانی اقدار کی پامالی اور حکومتی اداروں کی ناکامی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت اور فلاحی نظام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے مواقع پر فوری مدد فراہم کرے تاکہ کسی بھی شخص کو اپنے پیارے کی لاش کو اس انداز میں لے جانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔

انسانی ہمدردی اور معاشرتی زوال

یہ واقعہ صرف ایک انفرادی کہانی نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں پائے جانے والے خلا کی عکاسی کرتا ہے۔ جب لوگ اپنے عزیز و اقارب کے لیے آخری رسومات تک کے لیے مناسب سہولیات حاصل نہیں کر پاتے، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے فلاحی ادارے کہاں ہیں؟ کیا معاشرتی یکجہتی اور ہمدردی صرف الفاظ تک محدود ہو گئی ہے؟

حکومتی اداروں پر سوال

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اس قسم کی ویڈیو یا تصاویر منظر عام پر آئی ہیں۔ ماضی میں بھی کئی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں لاشوں کو سائیکل، رکشہ یا کسی اور غیر مناسب ذریعے سے منتقل کیا گیا۔ یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عام شہریوں کے لیے ہنگامی اور فلاحی سہولیات نہایت ناکافی ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس معاملے کی فوری تحقیقات کرے، اور یہ تعین کرے کہ واقعہ کس علاقے میں پیش آیا اور اس شخص کو ایمبولینس یا دیگر سہولیات کیوں فراہم نہیں کی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، مقامی انتظامیہ اور فلاحی اداروں کو اس بات کی ہدایت دی جائے کہ وہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔

Also read :بچوں کو اسمارٹ فونز دینا انتہائی نقصان دہ؛ ہوش اڑا دینے والی تحقیق سامنے آگئی

نفسیاتی پہلو

ماہرینِ نفسیات کے مطابق، ایسے واقعات نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ معاشرے پر بھی گہرے نفسیاتی اثرات چھوڑتے ہیں۔ ایک طرف، متاثرہ شخص کی ذہنی کیفیت ناقابلِ بیان ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنے قریبی عزیز کو کھونے کے غم کے ساتھ ساتھ سماجی دباؤ اور عوامی توجہ کا سامنا بھی کرتا ہے۔ دوسری طرف، عوام جب ایسے مناظر دیکھتے ہیں تو ان کے ذہن میں مایوسی اور عدم تحفظ کے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔

میڈیا کا کردار

اس واقعے کو نمایاں کرنے میں میڈیا، خاص طور پر سوشل میڈیا، نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مین اسٹریم میڈیا نے بھی اسے کوریج دی، جس کے نتیجے میں یہ موضوع عوامی مباحث کا حصہ بن گیا۔ تاہم، کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ میڈیا کو ایسے واقعات کو نشر کرتے وقت متاثرہ خاندان کی پرائیویسی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

معاشرتی ذمہ داری

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معاشرتی ذمہ داری صرف حکومتی اداروں پر نہیں بلکہ ہر فرد پر عائد ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص ایسے حالات میں مدد فراہم کر سکتا ہے، چاہے وہ ایمبولینس کا بندوبست ہو یا مالی تعاون، تو اسے فوری قدم اٹھانا چاہیے۔ یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات بڑے سانحات کو کم کر سکتے ہیں۔

Also read :بچوں کو اسمارٹ فونز دینا انتہائی نقصان دہ؛ ہوش اڑا دینے والی تحقیق سامنے آگئی

فلاحی اداروں کی ضرورت

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں فلاحی ادارے اور این جی اوز بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، اکثر اوقات یہ ادارے محدود وسائل کے باعث ہر جگہ فعال نہیں ہوتے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ فلاحی اداروں کا نیٹ ورک دیہی اور پسماندہ علاقوں تک بھی پھیلایا جائے تاکہ ہنگامی صورتحال میں لوگوں کو بروقت مدد مل سکے۔

مستقبل کے لیے تجاویز

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے چند اقدامات فوری طور پر کیے جا سکتے ہیں:

  1. ایمرجنسی ٹرانسپورٹ سروسز کا قیام — ہر ضلع میں کم از کم ایک ایسی گاڑی ہونی چاہیے جو لاشوں اور زخمیوں کی منتقلی کے لیے مختص ہو۔
  2. عوامی آگاہی مہم — لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کہاں اور کیسے رابطہ کرنا ہے۔
  3. فلاحی فنڈز کا قیام — ایک ایسا فنڈ جو ضرورت مندوں کو فوری مالی مدد فراہم کرے تاکہ وہ dignified انداز میں اپنے عزیز کی تدفین کر سکیں۔
  4. میڈیا اور کمیونٹی کے درمیان تعاون — ایسے کیسز کو صرف خبر کے طور پر نہیں بلکہ اصلاحی موقع کے طور پر استعمال کیا جائے۔

نتیجہ

بیوی کی لاش کو موٹر سائیکل پر باندھ کر لے جانے کی ویڈیو ایک المناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ ہمارے معاشرتی اور فلاحی نظام میں اب بھی بڑے خلا موجود ہیں۔ اگر ہم نے ان خلا کو پُر کرنے کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے تو ایسے مناظر مستقبل میں بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

اس واقعے سے سبق یہ ہے کہ انسانی وقار اور ہمدردی کو ہر حال میں مقدم رکھنا چاہیے۔ چاہے وہ حکومتی سطح پر ہو یا انفرادی سطح پر، ہمیں ایسے حالات پیدا نہیں ہونے دینے چاہییں جہاں کسی کو اپنے پیارے کی آخری رسومات کے لیے بھی غیر انسانی طریقہ اختیار کرنا پڑے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top