اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت اور وطن واپسی سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں عدالت نے وفاقی حکومت کو باضابطہ طور پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 20 جنوری تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ یہ کیس نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی انتہائی حساس اور عوامی دلچسپی کا حامل ہے، کیونکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی گزشتہ کئی سالوں سے بیرونِ ملک قید ہیں، اور ان کی وطن واپسی کے لیے مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبات کیے جاتے رہے ہیں۔
عدالتی کارروائی کی تفصیلات
اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس کی سربراہی جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی۔ بینچ میں جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس شامل تھے۔ دورانِ سماعت عدالت نے حکومت سے پوچھا کہ ڈاکٹر عافیہ کی موجودہ صحت، قید کی صورتحال، اور پاکستان منتقلی کے لیے اب تک کون سے عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ کیس انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس لیے حکومت واضح طور پر بتائے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کے معاملے میں کیا پیش رفت ہوئی ہے، اور مستقبل میں کیا ممکنہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ عدالت نے حکومتی نمائندوں کو ہدایت کی کہ اگلی سماعت پر مکمل ریکارڈ، پیش رفت رپورٹ اور وزارتِ خارجہ کا مؤقف بھی پیش کیا جائے۔
حکومت سے جواب طلب — 20 جنوری کی ڈیڈ لائن
عدالت نے وفاقی حکومت سے سختی کے ساتھ کہا کہ اس معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت اور جامع جواب جمع کرایا جائے۔ حکومتی اداروں کو یہ بھی سمجھایا گیا کہ ڈاکٹر عافیہ کی صحت کے حوالے سے موصول ہونے والی معلومات بہت اہم ہیں، لہٰذا اس ضمن میں کسی قسم کی تاخیر ناقابلِ قبول ہوگی۔
20 جنوری کی مقررہ تاریخ پر عدالت نہ صرف حکومتی جواب کا جائزہ لے گی بلکہ ممکنہ طور پر آئندہ اقدامات کے حوالے سے بھی فیصلہ کرے گی۔ اس بات کا امکان ہے کہ عدالت وزارتِ خارجہ، وزارتِ قانون اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا پسِ منظر
ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک پاکستانی نیوروسائنٹسٹ ہیں جنہیں کئی سال قبل امریکہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں عدالت نے انہیں سزا سنائی۔ ان کی گرفتاری اور مقدمے کے بعد سے ہی پاکستان میں ان کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ مختلف حکومتوں نے اس معاملے پر سفارتی سطح پر کوششیں کرنے کا عندیہ دیا، لیکن ابھی تک ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔
عوامی حلقوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی شخصیات کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھتا رہا ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ تاہم، عالمی قوانین، عدالتی پیچیدگیوں اور سفارتی رکاوٹوں کے باعث یہ معاملہ طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔
Also read:امریکا میں پاکستانی نژاد نوجوان کی گرفتاری — اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی کا سنسنی خیز انکشاف
عدالت کے ممکنہ اگلے اقدامات
اگر حکومت کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب نا مکمل یا غیر تسلی بخش ہوا، تو عدالت مزید سخت احکامات جاری کر سکتی ہے۔ عدالت اس بات کا بھی جائزہ لے سکتی ہے کہ کیا حکومت نے بین الاقوامی سطح پر ڈاکٹر عافیہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے یا نہیں۔
عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کے شہریوں کی صحت، حقوق اور تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لیے ڈاکٹر عافیہ کے معاملے میں بھی حکومت کو اپنی سنجیدگی کا بھرپور ثبوت دینا ہوگا۔
عوامی ردِ عمل اور اہمیت
ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ پاکستانی عوام کے دلوں سے جڑا ہوا ہے۔ انہیں “بیٹیِ پاکستان” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی بارہا مختلف فورمز پر آواز اٹھاتی رہی ہیں کہ حکومت ان کی رہائی کے لیے مضبوط سفارتی اقدام کرے۔
اس پیش رفت نے ایک بار پھر اس معاملے کو نمایاں کر دیا ہے اور عوام یہ جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ آیا اب کی بار حکومت کی طرف سے کوئی مثبت اور فیصلہ کن قدم اٹھایا جائے گا۔
نتیجہ
اسلام آباد ہائیکورٹ کی تازہ ہدایات نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کے معاملے میں ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ اب تمام نظریں 20 جنوری کی سماعت پر ہیں، جہاں یہ واضح ہوگا کہ حکومت نے اس ضمن میں کیا عملی اور سفارتی اقدامات کیے ہیں اور مستقبل میں کیا پیش رفت ممکن ہے۔
ڈائنامک ڈسکلیمر (نیوز آرٹیکل کے مطابق)
Disclaimer: اس خبر میں شامل معلومات معتبر رپورٹس اور دستیاب تفصیلات کی بنیاد پر پیش کی گئی ہیں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری ذرائع یا مستند نیوز آؤٹلیٹس سے بھی معلومات ضرور حاصل کریں۔