کراچی میں کھلے مین ہولز کی خطرناک صورتحال ایک بار پھر سامنے آ گئی، جب بلدیہ ٹاؤن سیکٹر 12 ڈی، یونین کونسل 11 میں ایک معصوم بچی کھلے مین ہول میں جا گری۔ یہ واقعہ نہ صرف خوفناک تھا بلکہ شہریوں میں شدید غم و غصے کا باعث بھی بنا۔ کراچی جیسے میگا سٹی میں حفاظتی اقدامات کی کمی طویل عرصے سے مسائل کا سبب بنی ہوئی ہے، اور یہ اس بدنظمی کی ایک تازہ مثال ہے۔
واقعے کی تفصیل
عینی شاہدین کے مطابق بچی گلی میں کھیل رہی تھی کہ اچانک کھلے مین ہول میں گر گئی۔ اہلِ محلہ نے فوری طور پر ریسکیو کارروائی شروع کی اور چند لمحوں کی کوششوں کے بعد بچی کو محفوظ طریقے سے باہر نکال لیا۔ واقعہ اتنا تیزی سے پیش آیا کہ دیکھنے والوں کے دل دہل گئے، لیکن خوش قسمتی سے بروقت کوششوں نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مین ہول بغیر کسی ڈھکن کے کھلا پڑا تھا۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد شہریوں نے اس غفلت پر شدید ردِ عمل ظاہر کیا اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، بلکہ کراچی میں کھلے مین ہولز کی وجہ سے درجنوں افراد حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔ کچھ واقعات میں بچوں کی جان بھی ضائع ہو چکی ہے، لیکن اس کے باوجود متعلقہ محکموں کی طرف سے مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔
علاقہ مکینوں کا غم و غصہ
یو سی 11 کے رہائشیوں نے کہا کہ وہ کئی بار متعلقہ اداروں کو شکایات درج کروا چکے ہیں، مگر اب تک مین ہولز کی مرمت یا ڈھکن لگانے کا کام نہیں کیا گیا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر اہلِ محلہ موقع پر موجود نہ ہوتے تو آج ایک بڑا نقصان ہو سکتا تھا۔
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا کہ شہر بھر میں کھلے مین ہولز کا فوری سروے کر کے انہیں بند کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ شہریوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مین ہولز کے گرد حفاظتی جال یا نشانات لگائے جائیں تاکہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔
Also read:اسلام آباد ہائی کورٹ نے عافیہ صدیقی کی وطن واپسی سے متعلق اہم پیش رفت — حکومت سے جواب طلب
بلدیاتی کارروائی کا مطالبہ
کراچی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اداروں کی جانب سے مین ہولز کے ڈھکن چوری ہونے یا ٹوٹنے کی شکایات عام ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی جگہ نئے ڈھکن لگانا یا حفاظتی اقدامات کرنا اداروں کی ذمہ داری ہے۔
سوشل میڈیا پر شہریوں نے لکھا کہ اگر اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں ہوتی، تو یہ غفلت کی انتہا ہوگی۔ کئی صارفین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور ذمہ داران کو جوابدہ بنائیں۔
شہریوں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟
ماہرین کے مطابق شہر میں سیوریج لائنز اور مین ہولز کی حالت بہتر بنانے کے لیے منظم حکمتِ عملی ضروری ہے:
- کھلے مین ہولز کا شہر بھر میں روزانہ کی بنیاد پر سروے
- چوری ہونے والے ڈھکنوں کی فوری جگہ پُر کرنا
- حفاظتی جال یا ٹمپریری کور کا استعمال
- علاقے کے عوام کی نشاندہی پر فوری ایکشن
- غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی
اگر یہ اقدامات مستقل بنیادوں پر کیے جائیں تو کراچی میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے۔
آخر میں
یہ واقعہ ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ شہری علاقوں میں معمولی سی غفلت بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ کراچی کے عوام اس صورتحال سے شدید پریشان ہیں اور انہیں امید ہے کہ اس بار متعلقہ ادارے فوری اور مؤثر ایکشن لیں گے، تاکہ معصوم جانیں خطرے میں نہ پڑیں۔
ڈائنامک ڈسکلیمر (خبری نوعیت کے مطابق)
Disclaimer: یہ خبر دستیاب معلومات اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے متعلقہ سرکاری یا مستند نیوز آؤٹ لیٹس سے رجوع کریں۔