امریکی ریاست ڈیلاویئر میں ایک ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں 25 سالہ پاکستانی نژاد نوجوان لقمان خان کو اسلحہ رکھنے اور مبینہ طور پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ یہ خبر امریکی مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے بعد منظرِ عام پر آئی، جس نے پورے علاقے میں سنسنی کی فضا پیدا کردی۔
گرفتاری کب اور کیسے ہوئی؟
رپورٹس کے مطابق لقمان خان کو 24 نومبر کو حراست میں لیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کی حرکات و سکنات پر نظر رکھنے کے بعد کارروائی کی، جس کے نتیجے میں نہ صرف اسے گرفتار کیا گیا بلکہ اس کے زیرِ استعمال گاڑی اور گھر پر بھی چھاپے مارے گئے۔ چھاپوں کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا، جس سے یہ شبہ مزید گہرا ہوگیا کہ وہ کسی بڑے حملے کی تیاری میں مصروف تھا۔
اسلحہ اور گولہ بارود کی تفصیلات
تحقیقات کے مطابق ملزم کے گھر اور گاڑی سے متعدد ہتھیار برآمد ہوئے، جن میں شامل تھے:
- جدید خودکار رائفلیں
- پستول
- میگزین
- گولہ بارود کے بڑے ذخائر
- حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق نوٹس اور دستاویزات
اگرچہ حکام نے ضبط شدہ اسلحے کی مکمل تعداد ظاہر نہیں کی، لیکن ابتدائی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ یہ ذخیرہ عام شہریوں کے پاس پائے جانے والے اسلحے سے کہیں زیادہ تھا۔
ملزم کا تعلق کہاں سے ہے؟
لقمان خان پاکستانی نژاد بتایا جا رہا ہے، جو امریکا میں رہائش پذیر تھا۔ اس کی گزشتہ سرگرمیوں، رابطوں اور ممکنہ محرکات کے بارے میں حکام کی جانب سے تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزم نے ڈیلاویئر یونیورسٹی کے پولیس ڈیپارٹمنٹ کے خلاف کچھ ماضی کے تنازعات یا ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ یہ پہلو بھی تحقیقات کا حصہ ہے کہ آیا اس کا منصوبہ کسی مخصوص ہدف کو نشانہ بنانے سے متعلق تھا۔
ڈیلاویئر یونیورسٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ کا ردِعمل
یونیورسٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ نے اس معاملے کو “انتہائی سنجیدہ نوعیت” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم کی جانب سے ممکنہ خطرے کے باعث بڑے حادثے کا اندیشہ تھا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائی نے ایک ممکنہ نقصان کو روک لیا ہے۔
تحقیقات کن مراحل میں داخل ہو چکی ہیں؟
امریکی فیڈرل اور ریاستی سطح کے تحقیقاتی اداروں نے مشترکہ طور پر کیس کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ چند اہم نکات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے:
- کیا ملزم اکیلا تھا یا اس کے کوئی سہولت کار بھی تھے؟
- اس نے اسلحہ کہاں سے اور کیسے خریدا؟
- حملے کا ممکنہ ہدف کون تھا؟
- حملے کا وقت اور منصوبہ کیا تھا؟
- اس کے ڈیجیٹل آلات اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے کیا معلومات مل سکتی ہیں؟
تحقیقات سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔
علاقے میں خوف اور تشویش کی فضا
اس واقعے نے مقامی کمیونٹی میں شدید بے چینی پیدا کردی ہے۔ ڈیلاویئر کی رہائشی آبادی خصوصاً یونیورسٹی کے طلبہ اور والدین نے ممکنہ حملے کی خبر پر تشویش ظاہر کی ہے۔ پولیس نے شہریوں کو یقین دلایا ہے کہ صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے اور مزید حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پاکستانی کمیونٹی کا ردِعمل
امریکا میں پاکستانی کمیونٹی نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کمیونٹی لیڈرز کا کہنا ہے کہ کسی ایک فرد کی کارروائی پوری کمیونٹی کی نمائندگی نہیں کرتی اور انہیں امید ہے کہ مکمل تفتیش کے بعد حقیقت سامنے آئے گی۔
قانونی کارروائی اور ممکنہ سزائیں
لقمان خان پر جن الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، ان میں شامل ہیں:
- غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا الزام
- دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی
- عوامی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کی دفعات
امریکی قوانین کے تحت ان الزامات پر کئی سال قید، بھاری جرمانے اور دیگر سخت سزائیں ہو سکتی ہیں۔ عدالت میں پیشی کے بعد ملزم کی درخواستِ ضمانت پر بھی فیصلہ متوقع ہے۔
نتیجہ
یہ واقعہ اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مشتبہ سرگرمیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بروقت کارروائی کرتے ہیں۔ تحقیقات جاری ہیں اور مزید انکشافات سامنے آنے کی توقع ہے۔
ڈائنامک ڈسکلیمر (خبر سے متعلق):
ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور قابلِ اعتماد ذرائع پر مبنی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے متعلقہ سرکاری یا مستند نیوز پورٹلز سے معلومات ضرور تصدیق کریں۔