افغانستان کو خبردار کر دیا گیا: دہشتگردوں کو نہ روکا تو ہم بندوبست کریں گے، وزیرِ داخلہ محسن نقوی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) — وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے افغانستان کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اگر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے دہشت گرد حملے نہ رکے تو پاکستان اپنے دفاع کے لیے مؤثر بندوبست کرے گا۔

Advertisement

محسن نقوی نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ آج دوپہر 12 بجکر 39 منٹ پر ہونے والے خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان نے زخمیوں کے فوری علاج اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کو ٹھوس شواہد فراہم کیے ہیں جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دہشتگرد وہاں تربیت حاصل کر رہے ہیں اور پھر پاکستان میں حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہم نے افغان حکام کو یہ ثبوت دکھائے ہیں کہ کس طرح وہاں کے شرپسند عناصر دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ اب اگر افغانستان نے ان عناصر کو نہ روکا تو پاکستان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں بچے گا۔”

Advertisement

افغانستان سے متعلق واضح پیغام

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ اچھے تعلقات چاہتا ہے، لیکن اگر کسی ملک کی سرزمین سے بار بار خون بہایا جائے تو خاموش رہنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکام کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہوں کے خلاف فوری کارروائی کریں، ورنہ پاکستان کو اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔

دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ

حالیہ ہفتوں میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق بیشتر حملوں کے منصوبہ ساز اور سہولت کار افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں۔ وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ پاکستانی انٹیلی جنس اداروں نے کئی حملوں کو ناکام بنایا ہے، تاہم کچھ حملے افسوسناک طور پر کامیاب ہوئے جن میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔

حکومت کا ردعمل اور سیکیورٹی اقدامات

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پوری طرح متحرک ہیں۔ ملک کے حساس علاقوں میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوراً حکام کو دیں تاکہ دہشتگردی کے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے علاقائی تعاون ضروری ہے، اور افغانستان اگر واقعی امن چاہتا ہے تو اسے اپنی سرزمین دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنی ہوگی۔

سیاسی قیادت کا اظہارِ افسوس

وزیراعظم، وزراء اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور شہداء کے خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ زخمیوں کے علاج میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔

Also read :شاداب خان کندھے کی انجری سے صحتیاب، پریکٹس میچ میں شاندار واپسی

عوام میں غم و غصہ

دھماکے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور افغان حکام سے دو ٹوک بات کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

تجزیہ: تعلقات میں نئی کشیدگی

سیاسی مبصرین کے مطابق وزیرِ داخلہ کا یہ بیان پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ دہشتگردی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان نے مؤثر اقدامات نہ کیے تو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

نتیجہ

پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ وفاقی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، چاہے اس کے لیے کتنے ہی سخت فیصلے کیوں نہ کرنے پڑیں۔


ڈسکلیمر: اس خبر میں پیش کی گئی معلومات دستیاب رپورٹس اور قابلِ اعتماد ذرائع پر مبنی ہیں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری نیوز ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔

Leave a Comment