شاہین شاہ آفریدی کا محمد رضوان سے متعلق اہم بیان — ٹیم سلیکشن پر بڑا مؤقف سامنے آگیا

راولپنڈی: قومی ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے پریس کانفرنس کے دوران محمد رضوان سے متعلق اہم بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ہمیشہ ٹیم میں ہم آہنگی اور مشاورت کے قائل ہیں، اور اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے رضوان کو اعتماد میں لے کر ہی قیادت کی ذمہ داری قبول کی۔

Advertisement

شاہین آفریدی کا کہنا تھا کہ کرکٹ ٹیم کے معاملات صرف ایک فرد کے نہیں بلکہ پورے گروپ کے ہوتے ہیں۔ “جب مجھے قیادت سونپی گئی تو میری پہلی ترجیح یہ تھی کہ ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں، خاص طور پر محمد رضوان جیسے تجربہ کار ساتھی کو اعتماد میں لیا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ٹیم کی کامیابی کا راز باہمی مشاورت میں ہے،” انہوں نے کہا۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ٹیم سلیکشن کے عمل میں کپتان کو شامل کیا جانا بہت ضروری ہے، کیونکہ میدان میں جو کھلاڑی قیادت کر رہا ہوتا ہے، وہ سب سے بہتر جانتا ہے کہ کن کھلاڑیوں کے ساتھ کس کمبی نیشن میں ٹیم کامیاب ہو سکتی ہے۔ “کپتان کے بغیر ٹیم سلیکشن مکمل نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ کپتان کو ہی گراونڈ کی صورتحال اور کھلاڑیوں کی فٹنس کا حقیقی اندازہ ہوتا ہے،” شاہین نے کہا۔

Advertisement

شاہین آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ ایک ایسے مرحلے میں ہے جہاں ٹیم کو استحکام، تسلسل اور مثبت سوچ کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ہدف ٹیم میں وہ ماحول پیدا کرنا ہے جہاں ہر کھلاڑی اعتماد کے ساتھ کھیل سکے، چاہے وہ سینئر ہو یا جونیئر۔

رضوان سے باہمی تعلق اور اعتماد

شاہین نے محمد رضوان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک شاندار ٹیم مین اور حقیقی پیشہ ور کرکٹر ہیں۔ “رضوان ہمیشہ ٹیم کو ترجیح دیتے ہیں، ذاتی کارکردگی کے بجائے وہ ٹیم کی کامیابی پر توجہ دیتے ہیں۔ ان کے ساتھ کھیلنا میرے لیے باعث فخر ہے، اور کپتانی کے دوران ان کا ساتھ میرے لیے بہت مددگار رہا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ رضوان نہ صرف وکٹ کیپر اور بلے باز کے طور پر شاندار کردار ادا کرتے ہیں بلکہ ڈریسنگ روم میں بھی ایک مثبت اور رہنمائی کرنے والے کھلاڑی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ “جب بھی ٹیم کو کسی مشکل صورتحال کا سامنا ہوتا ہے، رضوان ہمیشہ مشورہ دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ان کی موجودگی ٹیم کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے،” شاہین نے بتایا۔

ٹیم میں اتحاد اور مثبت سوچ کی ضرورت

قومی کپتان نے کہا کہ کسی بھی ٹیم کی اصل طاقت اس کا اتحاد ہوتا ہے۔ “ہم سب ایک ہی مقصد کے لیے کھیل رہے ہیں — پاکستان کی کامیابی۔ ہمیں ذاتی اختلافات کے بجائے ٹیم کی بہتری کے لیے سوچنا چاہیے۔ میں چاہتا ہوں کہ ٹیم کے تمام کھلاڑی ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور ایک مثبت ماحول میں کھیل پیش کریں۔”

انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیم میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے، لیکن اس ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی ضروری ہے۔ “ہمیں اپنی کمزوریوں پر کھل کر بات کرنی چاہیے، اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔ یہی وہ چیز ہے جو دنیا کی بہترین ٹیموں کو مضبوط بناتی ہے،” انہوں نے کہا۔

Also read:وہاب ریاض کو پی سی بی کی جانب سے اہم ذمہ داری سونپ دی گئی

کپتانی کے چیلنجز اور آگے کا لائحہ عمل

شاہین شاہ آفریدی نے تسلیم کیا کہ کپتانی ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن وہ اسے خوشی سے قبول کرتے ہیں۔ “یہ ذمہ داری میرے لیے اعزاز ہے۔ میں جانتا ہوں کہ توقعات بہت زیادہ ہیں، لیکن میرا مقصد صرف جیتنا نہیں بلکہ ایک ایسی ٹیم بنانا ہے جو آنے والے سالوں میں دنیا کی بہترین ٹیموں میں شمار ہو۔”

انہوں نے کہا کہ وہ کوچنگ اسٹاف، بورڈ اور سلیکشن کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کے حامی ہیں، لیکن کپتان کی رائے کو اہمیت دینا لازمی ہے تاکہ میدان میں فیصلے مؤثر ثابت ہوں۔ “کپتان وہ شخص ہے جو گراونڈ میں ٹیم کے ساتھ ہوتا ہے، لہٰذا اسے یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ ٹیم کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے۔”

مستقبل کے اہداف

پریس کانفرنس کے اختتام پر شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ ان کی ٹیم اگلے ٹورنامنٹس کے لیے پرعزم ہے اور کھلاڑی اپنی فٹنس اور کارکردگی پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے قوم سے دعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “ہم سب مل کر پاکستان کرکٹ کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ دعا کریں کہ ہم اپنے ملک کے لیے فخر کا باعث بنیں۔”


ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع پر مبنی ہے۔ قاری حضرات کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ تازہ ترین اور درست معلومات کے لیے متعلقہ سرکاری یا مستند نیوز پلیٹ فارمز سے تصدیق ضرور کریں۔

Leave a Comment