ماہر نفسیات کا کہنا: مرد جب عورت کے جسم کو استعمال کرنا چاہتا ہے تو تین کام کرتا ہے، لیکن عورت سمجھتی ہے کہ مرد کو محبت ہے

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان تعلقات میں اکثر غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ خاص طور پر محبت اور جنسی خواہش کے معاملے میں، مرد اور عورت کی سوچ میں بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔ مرد کی کچھ خاص رویے عورت کے لیے محبت کی علامت لگ سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ کچھ مخصوص مقاصد کے لیے کیے جاتے ہیں۔

Advertisement

نفسیاتی مطالعوں کے مطابق، جب مرد کا مقصد صرف عورت کے جسمانی استعمال تک محدود ہوتا ہے، تو وہ عموماً تین بنیادی کام کرتا ہے:

  1. توجہ اور تعریف (Attention and Flattery)
    مرد عورت کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس کی خوبصورتی یا شخصیت کی تعریف کرتا ہے۔ یہ تعریف اکثر اس کی جذباتی وابستگی ظاہر کرنے کے بجائے جسمانی خواہش کو بڑھانے کے لیے کی جاتی ہے۔ عورت عام طور پر اس تعریف کو محبت یا دلچسپی کا مظہر سمجھ لیتی ہے، حالانکہ حقیقت میں مرد کا مقصد زیادہ تر جسمانی تعلق حاصل کرنا ہوتا ہے۔
  2. وقت گزارنا اور قربت پیدا کرنا (Spending Time and Creating Closeness)
    مرد عموماً وقت گزارنے کے بہانے پیدا کرتا ہے، جیسے کسی تفریحی مقام پر جانا، فون پر زیادہ بات کرنا یا مخصوص مواقع پر ملنا۔ عورت یہ قربت اور وقت گزارنا محبت کی علامت کے طور پر دیکھتی ہے، لیکن نفسیات کے ماہرین کے مطابق یہ اکثر جسمانی تعلق کے لیے ایک حکمت عملی ہوتی ہے۔ یہ رویہ عورت کے جذبات کو قابو میں کرنے اور اعتماد جیتنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
  3. جذباتی وابستگی کے اشارے دینا (Giving Emotional Signals)
    مرد بعض اوقات چھوٹے جذباتی اشارے دیتا ہے، جیسے خصوصی توجہ، تحائف دینا یا عورت کی باتوں میں دلچسپی دکھانا۔ یہ اشارے عورت کے لیے محبت کے اظہار کے طور پر نظر آتے ہیں۔ لیکن ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ جب مرد کا اصل مقصد جسمانی تعلق ہوتا ہے، تو یہ اشارے عارضی اور موقع پر مبنی ہوتے ہیں۔ مرد اپنی اصل نیت ظاہر نہیں کرتا بلکہ عورت کو فریب دینے کے لیے یہ رویہ اپناتا ہے۔

یہ تینوں رویے عورت کے ذہن میں ایک غلط تاثر پیدا کر سکتے ہیں کہ مرد واقعی محبت کرتا ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی رویے بھی عورت کی توقعات میں اضافہ کرتے ہیں کہ مرد کی توجہ محبت کی علامت ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نفسیاتی مطالعے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بعض مرد اپنی جسمانی خواہش کے حصول کے لیے ہی یہ رویے اپناتے ہیں، اور عورت اس کا فہم غلط کرتی ہے۔

Advertisement

Also read:سری لنکا کے خلاف ون ڈے اور تین ملکی سیریز کے لیے قومی ٹیم کا اعلان، نوجوان کھلاڑی باہر

عورت کے لیے نفسیاتی مشورے

ماہرین نفسیات کے مطابق، عورت کو اپنے جذبات اور رویوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی تعلق میں یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا رویے محبت کی اصل نشانی ہیں یا صرف جسمانی خواہش کی عکاسی۔ چند اہم مشورے درج ذیل ہیں:

  1. اشاروں کو سمجھیں: مرد کی توجہ یا تعریف کو ہمیشہ محبت کے اظہار کے طور پر نہ لیں۔ اس کا مقصد اور سابقہ رویے دیکھیں۔
  2. وقت اور عمل پر غور کریں: کیا مرد آپ کے ساتھ صرف وقت گزارنے میں دلچسپی رکھتا ہے یا آپ کی شخصیت، خیالات اور مستقبل میں شراکت داری میں بھی دلچسپی رکھتا ہے؟
  3. احساسات کا مشاہدہ کریں: جذباتی وابستگی کے حقیقی آثار تلاش کریں، نہ کہ صرف موقع پر مبنی اشارے۔
  4. خود کی قدر بڑھائیں: اپنی خودی اور خود اعتمادی کو بڑھانے سے آپ غلط رویوں کی نشاندہی بہتر طریقے سے کر سکتی ہیں۔

معاشرتی اور ثقافتی اثرات

مرد اور عورت کے تعلقات پر ثقافتی اور معاشرتی عناصر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ بعض معاشروں میں مرد کی تعریف اور توجہ کو ہمیشہ محبت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ نفسیاتی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ یہ غلط فہمی اکثر رشتوں میں مشکلات پیدا کرتی ہے اور عورت کے جذباتی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

نتیجہ

تعلقات میں واضح اور ایماندارانہ رویہ ضروری ہے۔ اگرچہ بعض مرد اپنی جسمانی خواہش کو چھپانے کے لیے محبت کے مظاہر دکھاتے ہیں، لیکن عورت کو چاہئے کہ وہ ہر اشارے اور رویے کو گہرائی سے سمجھے۔ توجہ، وقت گزارنا اور جذباتی اشارے ہمیشہ محبت کی ضمانت نہیں ہیں۔ نفسیاتی شعور اور خود آگاہی کے ذریعے عورت اپنے جذبات اور تعلقات میں بہتر فیصلے کر سکتی ہے۔


ڈسکلیمر: یہ مضمون صرف معلوماتی اور تعلیمی مقاصد کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ تعلقات اور نفسیاتی مشورے کے سلسلے میں معتبر ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں اور کسی بھی فیصلے سے پہلے مستند ذرائع سے تصدیق کریں۔

Leave a Comment