سوشل میڈیا کی غلط معلومات نے برطانوی مردوں کو اسپتال پہنچا دیا

برطانیہ میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی گمراہ کن معلومات ایک نیا صحت عامہ کا مسئلہ بن چکی ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، بڑی تعداد میں مرد نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کی کلینکس کا رخ کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی شریکِ حیات کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ٹیسٹوسٹیرون تھراپی حاصل کرسکیں۔ تاہم، ان میں سے زیادہ تر افراد کو اس علاج کی کوئی حقیقی طبی ضرورت نہیں ہوتی۔

Advertisement

غلط معلومات کا پھیلاؤ

برطانوی میڈیا کے مطابق، مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر ایسے ویڈیوز اور مشورے عام ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ٹیسٹوسٹیرون تھراپی سے نہ صرف مردوں کی جسمانی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ازدواجی تعلقات میں بھی بہتری آتی ہے۔ ان ویڈیوز میں اکثر “پہلے اور بعد کی تصاویر” اور غیر تصدیق شدہ تجربات دکھائے جاتے ہیں جن سے عام لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یہ علاج ہر مسئلے کا حل ہے۔

یہ مواد زیادہ تر غیر ماہر افراد یا ایسے انسٹاگرام “فٹنس انفلوئنسرز” کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے جن کے پاس طبی علم نہیں ہوتا۔ بعض کلینکس اور نجی کمپنیز بھی اس رجحان سے فائدہ اٹھانے کے لیے سوشل میڈیا پر گمراہ کن اشتہارات چلا رہی ہیں جن میں ٹیسٹوسٹیرون کے استعمال کو ’’مردانگی کی علامت‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

Advertisement

ماہرین کی تشویش

ماہرین صحت کے مطابق، ٹیسٹوسٹیرون تھراپی صرف ان افراد کے لیے تجویز کی جاتی ہے جن کے جسم میں واقعی ہارمون کی کمی پائی جاتی ہے — جیسے کہ بعض اینڈوکرائن عوارض یا مخصوص طبی وجوہات کے باعث۔ لیکن سوشل میڈیا کے دباؤ اور غیر حقیقی توقعات کے باعث بہت سے نوجوان اور درمیانی عمر کے مرد خود کو ’’کمزور‘‘ سمجھنے لگے ہیں اور بلاوجہ یہ علاج حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

این ایچ ایس کے ایک نمائندے کے مطابق، حالیہ مہینوں میں اس نوعیت کی درخواستوں میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان میں سے اکثریت کے ٹیسٹ نتائج بالکل نارمل پائے گئے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ رجحان زیادہ تر نفسیاتی دباؤ یا غلط معلومات کی بنیاد پر ہے۔

صحت پر اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلا ضرورت ٹیسٹوسٹیرون تھراپی کے سنگین سائیڈ ایفیکٹس ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جگر، دل، اور گردوں کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہارمون کے غیر متوازن استعمال سے جسم میں قدرتی ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث طویل مدتی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ بعض مریضوں میں غصہ، بے چینی، یا ڈپریشن جیسے نفسیاتی اثرات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔

سماجی دباؤ اور مردانگی کا نیا تصور

سوشل میڈیا پر مثالی جسمانی ساخت اور ’’پرفیکٹ ریلیشن شپ‘‘ کی تشہیر نے مردوں پر ایک غیر حقیقی دباؤ ڈال دیا ہے۔ کئی ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ یہ رجحان “ٹاکسک ماسکیولینیٹی” کا ایک نیا چہرہ ہے، جہاں مردوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہمیشہ مضبوط، پُرجوش اور پرفیکٹ ہوں۔ اس دباؤ کے باعث مرد اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کو خطرے میں ڈالنے لگے ہیں۔

حکومتی اقدامات اور آگاہی

برطانوی وزارتِ صحت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے رابطہ کیا ہے تاکہ گمراہ کن اشتہارات اور غیر مصدقہ طبی دعووں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ این ایچ ایس نے بھی عوامی آگاہی کے لیے ایک نئی مہم شروع کی ہے جس میں بتایا جا رہا ہے کہ کسی بھی قسم کی ہارمون تھراپی یا سپلیمنٹ لینے سے پہلے مستند ڈاکٹر سے مشورہ لینا ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مردوں کو اپنی صحت کے حوالے سے فیصلہ کرنے سے پہلے آن لائن موجود معلومات کی صداقت کو پرکھنا چاہیے۔ اگر انہیں تھکن، کمزوری یا دیگر مسائل درپیش ہوں تو خود علاج کرنے کے بجائے کسی ماہرِ اینڈوکرائنولوجسٹ سے رجوع کرنا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔

نتیجہ

سوشل میڈیا کے دور میں جہاں معلومات تک رسائی آسان ہو گئی ہے، وہیں غلط معلومات کے پھیلاؤ نے صحت کے حوالے سے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ برطانیہ میں ٹیسٹوسٹیرون تھراپی کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی واضح مثال ہے کہ بغیر سائنسی شواہد کے پھیلائی جانے والی معلومات کس طرح معاشرتی رویوں کو بدل سکتی ہیں اور صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔

انتباہ

سوشل میڈیا صارفین کو چاہیے کہ وہ کسی بھی طبی مشورے پر عمل کرنے سے پہلے ماہر ڈاکٹر سے تصدیق کریں۔ ہر شخص کی جسمانی کیفیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے کسی دوسرے کا تجربہ ہر فرد پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔


ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع پر مبنی ہے۔ قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ تازہ ترین معلومات اور تصدیق کے لیے سرکاری یا مستند نیوز ذرائع سے رجوع کریں۔

Leave a Comment