محمد عامر ابوظہبی ٹی 10 لیگ میں کوئٹہ کیولری کے کپتان مقرر

اسلام آباد (اے پی پی): پاکستان کے معروف فاسٹ بولر محمد عامر کو ابوظہبی ٹی 10 لیگ 2025 میں نئی فرنچائز کوئٹہ کیولری کا کپتان مقرر کر دیا گیا ہے۔ فرنچائز مینجمنٹ نے محمد عامر پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ٹیم کی قیادت سونپی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ محمد عامر ٹی 10 فارمیٹ میں بطور کپتان ایک ٹیم کی قیادت کریں گے، جو ان کے کیریئر کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔

Advertisement

ٹی 10 لیگ، جو اپنی تیز رفتار اور سنسنی خیز کرکٹ کے لیے مشہور ہے، ہر سال دنیا بھر کے بہترین کھلاڑیوں کو متحد کرتی ہے۔ 2025 کے ایڈیشن میں کئی نئی فرنچائزز شامل کی گئی ہیں جن میں کوئٹہ کیولری بھی ایک نمایاں اضافہ ہے۔ ٹیم مینجمنٹ کے مطابق، محمد عامر کی قیادت میں ٹیم نہ صرف مضبوط بولنگ یونٹ کے ساتھ میدان میں اترے گی بلکہ ایک جارحانہ کرکٹ برانڈ پیش کرے گی جو لیگ میں نیا رنگ بھر دے گی۔

محمد عامر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہیں کوئٹہ کیولری کی قیادت سونپنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا، “میں ہمیشہ سے ٹیم کرکٹ پر یقین رکھتا ہوں، اور ٹی 10 جیسے فارمیٹ میں قیادت کرنا ایک بڑا چیلنج اور موقع دونوں ہے۔ ہم اس ایونٹ میں ایک متوازن ٹیم کے ساتھ جائیں گے، جس میں نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا حسین امتزاج ہوگا۔”

Advertisement

کوئٹہ کیولری کی ٹیم مینجمنٹ نے بھی اپنے کپتان کے حوالے سے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق، محمد عامر کی قیادت میں ٹیم کا عزم ہے کہ وہ نہ صرف اچھی کرکٹ کھیلے بلکہ شائقین کو بھرپور تفریح فراہم کرے۔ مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ عامر کی تجربہ کار قیادت ٹیم کو دباؤ والے لمحات میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دے گی۔

ابوظہبی ٹی 10 لیگ دُنیا بھر کے شائقین کے لیے تیزی سے مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ صرف دس اوورز فی اننگز کے فارمیٹ نے اسے مختصر مگر دلچسپ کرکٹ مقابلوں کا مرکز بنا دیا ہے۔ یہ لیگ بین الاقوامی سطح پر کھلاڑیوں کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے جہاں وہ محدود وقت میں اپنی مہارت اور جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کر سکیں۔

ماہرین کے مطابق، محمد عامر کی کپتانی اس لیگ میں کوئٹہ کیولری کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ وہ پہلے ہی پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) اور بین الاقوامی کرکٹ میں کئی یادگار کارکردگیاں دکھا چکے ہیں۔ ان کا تجربہ اور کرکٹنگ عقل ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنے گی۔

محمد عامر نے 2009 میں بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا اور اپنی تیز رفتار سوئنگ بولنگ کے ذریعے جلد ہی عالمی شہرت حاصل کی۔ اگرچہ ان کے کیریئر میں نشیب و فراز آئے، مگر واپسی کے بعد انہوں نے کئی مواقع پر ثابت کیا کہ وہ اب بھی دنیائے کرکٹ کے بہترین فاسٹ بولرز میں سے ایک ہیں۔ ٹی 10 جیسے مختصر فارمیٹ میں ان کی لائن اور لینتھ پر گرفت ٹیم کے لیے ایک بڑا اثاثہ ثابت ہوگی۔

Also read:ٹی 20 کے بعد جنوبی افریقا کے خلاف ون ڈے سیریز کے لئے گرین شرٹس کے حوصلے بلند

کوئٹہ کیولری کی ٹیم آنے والے دنوں میں اپنے اسکواڈ کا باضابطہ اعلان کرے گی۔ اطلاعات کے مطابق، ٹیم میں پاکستان، ویسٹ انڈیز، سری لنکا اور انگلینڈ کے کھلاڑی شامل ہوں گے۔ ممکنہ طور پر چند ابھرتے ہوئے نوجوان پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی موقع دیا جائے گا تاکہ وہ عالمی کرکٹ کے دباؤ والے ماحول میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔

ابوظہبی ٹی 10 لیگ 2025 دسمبر کے دوسرے ہفتے میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ ایونٹ میں مجموعی طور پر 8 ٹیمیں حصہ لیں گی، جو مختلف گروپوں میں تقسیم ہوں گی۔ ہر ٹیم کو موقع ملے گا کہ وہ گروپ مرحلے میں اپنے میچز جیت کر سیمی فائنل میں جگہ بنائے۔ شائقین کو توقع ہے کہ اس سال کا ایڈیشن پچھلے تمام ایڈیشنز سے زیادہ دلچسپ اور سنسنی خیز ہوگا۔

کوئٹہ کیولری کے فینز نے بھی محمد عامر کو کپتان مقرر کیے جانے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مداحوں نے انہیں مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اپنی قیادت میں ٹیم کو کامیابی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ محمد عامر نے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم ان کے تعاون اور دعاؤں سے ہی میدان میں بہتر کھیل پیش کر سکے گی۔

ان کی قیادت میں ٹیم نہ صرف جیت کے لیے کھیلے گی بلکہ کھیل کے مثبت جذبے کو فروغ دینے کا بھی عزم رکھتی ہے۔ عامر کا کہنا ہے کہ “ہم ہر میچ میں پوری توانائی کے ساتھ اتریں گے، اور کوشش کریں گے کہ کرکٹ کے اس مختصر مگر دلکش فارمیٹ میں بہترین مظاہرہ کریں۔”

کرکٹ ماہرین کے نزدیک محمد عامر کی قیادت کوئٹہ کیولری کو ایک نئی سمت دے گی۔ ان کا تجربہ، بولنگ کی مہارت، اور دباؤ میں پرفارم کرنے کی صلاحیت ٹیم کے لیے قیمتی سرمایہ ثابت ہو گی۔ شائقین کو ابوظہبی کے میدانوں میں ایک شاندار اور دلچسپ کرکٹ سیزن کی امید ہے۔


ڈائنامک ڈسکلیمر:
یہ خبر دستیاب رپورٹس اور مستند ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری نیوز ذرائع یا متعلقہ آفیشل پلیٹ فارمز سے تصدیق ضرور کریں۔

Leave a Comment