پاکستان کی معروف پنجابی پلے بیک گلوکارہ نصیبو لال کے بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کی تازہ ترین تصویر سامنے آئی ہے، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمر تقریباً 55 برس میں نصیبو لال کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔ لیکن گلوکارہ نے خود وضاحت کرتے ہوئے ان دعوؤں کی حقیقت واضح کردی ہے۔
افواہوں کی ابتدا
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی، جس میں نصیبو لال اور ان کے شوہر نوید حسین ایک نومولود بچے کے ہمراہ دکھائی دے رہے تھے۔ اس کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ نصیبو لال 55 سال کی عمر میں ماں بن گئی ہیں اور بچے کا تعلق ان کے ہاں پیدا ہونے والے بیٹے سے ہے۔
کچھ صارفین نے تو یہ بھی کہا کہ انھوں نے گلوکارہ کو ہسپتال کے گائناکالوجی وارڈ میں دیکھا ہے۔
گلوکارہ کی وضاحت
ان افواہوں کے پیشِ نظر، نصیبو لال نے اپنی سرکاری فیس بک پوسٹ کے ذریعے مداحوں کو بتایا:
“الحمد للّٰہ! میں ماں نہیں بلکہ دادی بن گئی ہوں، آپ سب کی دعاؤں کا بہت شکریہ”
انہوں نے اپنی پوسٹ میں نومولود بچے کی تصویر شیئر کی اور مداحوں سے کہا کہ وہ اس بچے کے لیے خوبصورت اور منفرد نام تجویز کریں۔
ساتھ ہی وہ جعلی خبروں سے خبردار کرتی نظر آئیں اور کہا کہ مداح ان افواہوں پر بھروسہ نہ کریں۔
نتیجہ
اس کے نتیجے میں یہ واضح ہے کہ، نصیبو لال کے ہاں خود بیٹے کی پیدائش نہیں ہوئی، بلکہ وہ ایک پوتے کی دادی بن گئی ہیں۔ انھوں نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے ہاں کسی بچے کی پیدائش کا مطلب ماں بن جانا نہیں بلکہ دادی بن جانا ہے۔
اگر آپ چاہیں، تو میں اس واقعے کے پسِ منظر میں میڈیا پر اس کی تشہیر اور سوشل میڈیا پر رد عمل پر بھی تفصیل سے نظر ڈال سکتا ہوں۔
ڈِسکلیمر: اس خبر میں دی گئی معلومات دستیاب رپورٹوں اور معتبر ذرائع پر مبنی ہیں۔ قارئین کو مشورہ ہے کہ کسی بھی دعویٰ کی مزید تصدیق کے لیے متعلقہ شخص یا ادارے کی سرکاری اطلاع چیک کریں۔