کچھ عرصے قبل سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی، جس میں مبینہ طور پر دو بنگلہ دیشی خواتین کرکٹرز کو کرکٹ میدان میں برقع پہنے دیکھا جا رہا ہے۔ اس تصویر نے کئی سوالات کو جنم دیا، جیسے کہ: کیا واقعی خواتین کرکٹرز نے برقع پہن کر ورلڈ کپ میچ کھیلا؟ کیا یہ تصویر اصلی ہے؟ اس تحریر میں ہم وہ تمام معلومات پیش کریں گے جو اس دعوے سے متعلق دستیاب ہیں، اور حقیقت کیا ہے، اس کا جائزہ لیں گے۔
وائرل تصویر اور دعوے کی نوعیت
- اس تصویر کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا کہ بنگلہ دیشی خواتین نے کرکٹ میچ کے دوران برقع پہنا تھا، اور اسے اجتماعی طور پر بطور “پرده، حرکت کی ضمانت” پیش کیا گیا۔
- کیپشنز میں لکھا گیا کہ یہ عملی مظہر ہے کہ “پرده رکاوٹ نہیں بلکہ حفاظت ہے، حیا کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے”۔
- سوشل میڈیا صارفین نے اس تصویر کو بطور نمایاں واقعہ پیش کیا، اور اس کو اس انداز دی گئی کہ بنگلہ دیشی خواتین نے اسلام کی پابندی کے تحت برقع پہن کر مقابلہ کیا۔
تحقیق اور تصدیق کا عمل
- انڈیا ٹوڈے نے اس دعوے کی تصدیق کرنے کی کوشش کی، اور معلوم کیا کہ اس تصویر میں قابل اعتماد ذرائع نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ یہ حقیقی منظوری ہے۔
- اگر ایسی صورت حال پیش آئی ہوتی (برقع پہنے مقابلہ کرنا)، تو معاملہ شائد میچ کی تفصیلات اور خبروں میں نمایاں طور پر آتا، مگر ایسی کوئی معتبر رپورٹ نہیں ملی۔
- میچ کی ہائی لائٹس اور ریکارڈ کی جانچ کی گئی، اور اس سے معلوم ہوا کہ بنگلہ دیشی کرکٹرز نے نارمل کرکٹ یونیفارم پہن رکھی تھی، نہ کہ برقع یا عبایا۔
- اس تصویر کو Google کے “SynthID Detector” میں بھی جانچا گیا، اور نتیجہ آیا کہ یہ تصویر مصنوعی ذہانت (AI) ٹولز کی مدد سے بنائی یا ایڈٹ کی گئی ہے۔
- نیز، کوئی مستند کرکٹ ڈیٹا بیس یا رپورٹ اس بات کی تائید نہیں کرتی کہ بنگلہ دیشی خواتین نے برقع پہن کر کسی ورلڈ کپ میچ میں حصہ لیا ہو۔
Also read :نعمان علی اور ساجد خان کی شاندار بولنگ، جنوبی افریقہ 269 رنز پر ڈھیر
ماضی میں خواتین کرکٹرز کی اسلامک طرزِ لباس
- اگرچہ یہ مخصوص برقع کا دعویٰ بے بنیاد قرار پایا ہے، مگر خواتین کرکٹرز نے حجاب / اسکارف پہن کر کھیلنے کی مثالیں موجود ہیں۔
- مثال کے طور پر، اسکاٹ لینڈ کی کھلاڑی ابتہا مقصود نے 2024 کا T20 ورلڈ کپ میں اسکارف پہن کر شرکت کی تھی۔
- پاکستانی کھلاڑی قرۃ العین احسن نے بھی ایک زیرِ 19 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ کے دوران اپنے سر پر حجاب باندھا ہوا تھا۔
نتیجہ: دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں
موجودہ شواہد، تحقیق اور معتبر ذرائع کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ وائرل تصویر جعلی ہے، اور بنگلہ دیشی خواتین کرکٹرز نے برقع پہن کر ورلڈ کپ میچ نہیں کھیلا۔
مسئلے کی بنیاد غالباً AI یا فوٹو ایڈیٹنگ ٹولز کا استعمال ہے، جس نے ایک ایسی منظر کشی پیدا کی جو حقیقت پر مبنی نہیں۔
اگر آپ چاہیں تو میں مخصوص میچ کی تفصیلات تلاش کر کے بتا سکتا ہوں کہ حقیقت کیا تھی، اور دیگر مثالیں پیش کر سکتا ہوں کہ خواتین نے کس طرزِ لباس کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
ڈس کلیمر: یہ معلومات دستیاب رپورٹوں اور شائع شدہ ذرائع کی بنیاد پر فراہم کی گئی ہیں۔ قارئین سے درخواست ہے کہ وہ تازہ ترین حقائق کے لیے معتبر خبررسانی ذرائع اور کرکٹ بورڈ کی سرکاری رپورٹوں کو بھی چیک کریں۔