اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی تمام سرحدی گزرگاہیں، جن میں طورخم، چمن، غلام خان، انگور اڈہ اور خرلاچی جیسے اہم بارڈر پوائنٹس شامل ہیں، فوری طور پر بند کر دی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ سیکیورٹی خدشات اور سرحد پار بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ سرحدوں کی بندش کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں، انسانی آمدورفت اور ٹرانزٹ تجارت مکمل طور پر معطل ہو گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومتِ پاکستان نے یہ قدم اُس وقت اٹھایا جب سرحدی علاقوں میں بارہا افغان جانب سے فائرنگ اور جھڑپوں کے واقعات سامنے آئے۔ حالیہ دنوں میں طورخم بارڈر پر فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ سرحدی فورسز کو متعدد بار الرٹ رہنا پڑا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرحد پر سیکیورٹی صورتحال غیر معمولی ہو چکی تھی، جس کے باعث فوری طور پر بارڈرز کو بند کرنا ناگزیر سمجھا گیا۔
طورخم اور چمن کے راستے روزانہ ہزاروں افراد سرحد پار کرتے ہیں، جن میں مزدور، مریض اور تاجر شامل ہوتے ہیں۔ سرحدوں کی بندش سے ان تمام افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹرکوں میں لدی تجارتی اشیاء دونوں اطراف پھنس گئیں، جس سے نہ صرف تاجروں بلکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی فراہمی پر بھی اثر پڑا ہے۔ مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ بندش طویل ہوئی تو دونوں ممالک کی معیشتوں کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔
پاکستانی حکام نے افغان حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ بارڈرز کی بحالی سیکیورٹی صورتحال میں بہتری سے مشروط ہوگی۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق، پاکستان ہمیشہ افغانستان کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے، مگر سیکیورٹی خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر مینجمنٹ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
Also read :پاک-جنوبی افریقہ پہلا ٹیسٹ، تیسری ہی گیند پر اوپنر عبداللہ شفیق آؤٹ
دوسری جانب افغان حکام نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحدوں کی بندش سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ افغان وزارتِ خارجہ نے پاکستان سے اپیل کی ہے کہ انسانی بنیادوں پر کم از کم مریضوں اور بزرگ افراد کے لیے گزرگاہیں کھلی رکھی جائیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ فیصلہ وقتی طور پر درست ہے کیونکہ سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں ملکی سلامتی کو خطرات لاحق تھے۔ تاہم، ماہرین یہ بھی تجویز دیتے ہیں کہ دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی راہ اختیار کرنی چاہیے تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم رہ سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، بارڈر کی بندش سے سب سے زیادہ اثر عام عوام پر پڑے گا، جو روزمرہ کاموں، کاروبار اور علاج کے لیے سرحد پار آتے جاتے ہیں۔ چمن اور طورخم کے رہائشیوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد از جلد سرحدوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے اقدامات کرے تاکہ عوامی مشکلات میں کمی آئے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تناؤ نیا نہیں ہے۔ ماضی میں بھی مختلف اوقات میں بارڈرز بند کیے جا چکے ہیں، تاہم بعد ازاں مذاکرات کے ذریعے انہیں دوبارہ کھولا گیا۔ اس بار حکومت نے واضح کیا ہے کہ جب تک سیکیورٹی خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے، سرحدوں کو کھولنا ممکن نہیں ہوگا۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امن و سلامتی کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کی نظریں دونوں ممالک پر مرکوز ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان آپس میں تعاون کو فروغ دیں تو نہ صرف سیکیورٹی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے بلکہ تجارت اور ترقی کے نئے راستے بھی کھل سکتے ہیں۔
ڈسکلیمر:
یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے سرکاری خبر رساں اداروں اور مستند ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔