ایک حیران کن پیش رفت میں، اطلاعات کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ (ACB) نے پاکستان کے ساتھ مستقبل میں کسی بھی قسم کی دوطرفہ کرکٹ سیریز کھیلنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خبر یہ بھی ہے کہ افغان کھلاڑی مستقبل میں پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے بھی گریز کریں گے۔
یہ خبر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہوئی ہے، اگرچہ ابھی تک افغانستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ تاہم، اس رپورٹ نے کرکٹ کے حلقوں میں خاصی بحث چھیڑ دی ہے۔
پس منظر اور سیاق و سباق
تاریخی طور پر افغانستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کئی دوطرفہ سیریز یا تو منسوخ کر دی گئیں یا غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں خواتین کرکٹ پر پابندی نے بین الاقوامی سطح پر کافی تنقید کو جنم دیا۔
متعدد ممالک جیسے انگلینڈ، آسٹریلیا، اور جنوبی افریقہ نے افغانستان کی خواتین کرکٹ پر پابندی کے باعث اس کے خلاف کھیلنے سے گریز کا عندیہ دیا۔ اسی دوران اگر ACB کی جانب سے پاکستان کے خلاف سیریز نہ کھیلنے کا فیصلہ باضابطہ ہو گیا تو یہ ایک نئی سفارتی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔
رپورٹ کے اہم نکات
- پاکستان کے ساتھ کوئی دوطرفہ سیریز نہیں ہوگی:
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان آئندہ پاکستان کے ساتھ کسی بھی طرز کی سیریز — چاہے وہ ٹیسٹ ہو، ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی — نہیں کھیلے گا۔ - کھلاڑیوں کے درمیان ہاتھ ملانے سے بھی گریز:
اطلاعات کے مطابق افغان کھلاڑی پاکستانی ٹیم کے ساتھ روایتی “ہینڈ شیک” پروٹوکول پر بھی عمل نہیں کریں گے۔ - علامتی اور سیاسی پیغام:
مبصرین کے مطابق یہ صرف کھیل سے انکار نہیں بلکہ ایک علامتی اور سیاسی پیغام ہے کہ کھیل اور سیاست کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔
Also read :آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ: نشرہ نے پاکستان کیلئے نئی تاریخ رقم کر دی
ردِ عمل اور خدشات
- باضابطہ تصدیق کی کمی:
اب تک افغانستان کرکٹ بورڈ یا حکومت کی جانب سے اس خبر کی کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ - سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں:
ماہرین کے مطابق ممکن ہے کہ یہ خبر محض سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی غیر مصدقہ اطلاعات پر مبنی ہو۔ - پی سی بی اور آئی سی سی کے لیے چیلنج:
اگر یہ فیصلہ باضابطہ ہو جاتا ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے ایک روایتی حریف کے ساتھ تعلقات منقطع ہونا ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ آئی سی سی کو بھی اس معاملے پر مداخلت کرنا پڑ سکتی ہے۔ - دیگر ممالک کا ردِ عمل:
جنوبی افریقہ کے وزیرِ کھیل نے بھی افغانستان کے خلاف بائیکاٹ کی حمایت کی تھی، جبکہ انگلینڈ اور آسٹریلیا پہلے ہی افغانستان کے ساتھ دوطرفہ سیریز کھیلنے سے گریز کر رہے ہیں
ممکنہ اثرات
- سیریز کے شیڈول پر اثر:
دونوں ممالک کے درمیان آئندہ کوئی دوطرفہ سیریز طے پانا ممکن نہیں ہوگا۔ - بین الاقوامی تعلقات میں مزید تناؤ:
کھیل کے ذریعے تعلقات بہتر بنانے کی جو امیدیں تھیں، وہ اب معدوم دکھائی دے رہی ہیں۔ - آئی سی سی پر دباؤ:
آئی سی سی کو دونوں بورڈز کے درمیان معاملات کو سلجھانے یا ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ - کرکٹ میں سیاست کا اثر:
کھلاڑیوں کا ہاتھ نہ ملانا محض ایک چھوٹا سا قدم نہیں بلکہ ایک بڑی علامت ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کتنے نازک مرحلے میں ہیں۔
اگرچہ یہ خبر تاحال غیر مصدقہ ذرائع سے سامنے آئی ہے، لیکن اگر یہ مؤقف درست ثابت ہوتا ہے تو یہ نہ صرف پاک۔افغان کرکٹ تعلقات کے خاتمے کی علامت ہوگی بلکہ یہ بین الاقوامی کرکٹ سیاست کے لیے بھی ایک نیا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
ڈسکلیمر:
یہ خبر دستیاب رپورٹس اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین اور مصدقہ معلومات کے لیے سرکاری نیوز ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔